پختون تاریخ ایسے کرداروں سے بھری پڑی ہے جنہوں نے وقت کے جبر، طاقت کے نشے اور خوف کی فضا میں بھی سچ بولنے، حق پر ڈٹ جانے اور قوم کے وقار کو سربلند رکھنے کا حوصلہ دکھایا۔ ان ہی درخشاں کرداروں میں محمد افضل خان لالا کا نام آج ایک استعارہ بن چکا ہے۔ وہ سیاست دان کم اور عہد، اصول اور جرأت کا مجسم پیکر زیادہ تھے۔ ان کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ سیاست اگر کردار سے خالی ہو جائے، تو محض اقتدار کی کشمکش بن جاتی ہے، اور اگر کردار شامل ہو جائے، تو وہ قوم کی تقدیر بدلنے کی طاقت رکھتی ہے۔
محمد افضل خان المعروف افضل خان لالا پختون تاریخ کی اُن قد آور شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جن کی زندگی محض سیاست یا اقتدار تک محدود نہیں رہی، بلکہ وہ فکر، مزاحمت، قومی غیرت اور اصول پسندی کی ایک مکمل داستان تھے۔ اُن کا نام سنتے ہی سوات، پختون قوم پرستی، خدائی خدمت گار روایت اور دہشت گردی کے خلاف بے خوف مزاحمت ذہن میں آتی ہے۔ وہ ایسے راہ نما تھے جنہوں نے نظریے کو مفاد پر، سچ کو مصلحت پر اور قوم کو ذات پر ہمیشہ ترجیح دی۔
افضل خان لالا 1926ء میں ریاستِ سوات کی تحصیل مٹہ کے نواحی گاؤں برہ درش خیلہ میں ایک معزز یوسف زئی پختون خاندان میں پیدا ہوئے۔ یہ وہ دور تھا جب سوات ایک خود مختار ریاست تھی اور تعلیم و شعور عام نہیں تھا، مگر ان کے گھر کا ماحول علم دوست تھا۔ ابتدائی تعلیم سوات میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے قانون کی تعلیم حاصل کی اور وکالت کے پیشے سے وابستہ ہوئے۔ طالب علمی کے زمانے ہی میں سماجی ناانصافی، محکومی اور پسماندگی کے خلاف ان کے اندر ایک بے چین اور بیدار روح جنم لے چکی تھی۔
ریاستِ سوات کے پاکستان میں انضمام کے بعد جب تعلیمی اداروں کو منظم کرنے کی ضرورت پیش آئی، تو افضل خان لالا نے جہان زیب کالج سوات میں رضاکارانہ طور پر تدریس کا آغاز کیا۔ ایک تعلیم یافتہ وکیل کا بغیر کسی معاوضے کے نوجوانوں کو پڑھانا محض تدریس نہیں بلکہ ایک فکری مشن تھا۔ وہ نصاب سے زیادہ شعور، سوال کرنے کی جرأت اور اپنی شناخت کا احساس منتقل کرنا چاہتے تھے۔ یہی طلبہ بعد ازاں سوات کے سماجی اور سیاسی دھارے میں متحرک نظر آئے۔
سیاسی شعور نے انہیں خدائی خدمت گار تحریک کے فکری ورثے سے جوڑ دیا۔ اگرچہ وہ براہِ راست باچا خان کے ابتدائی دور کے کارکن نہیں تھے، مگر عدمِ تشدد، انسان دوستی اور قومی وقار کے فلسفے کے حقیقی وارث بنے۔ نیشنل عوامی پارٹی میں شمولیت کے بعد عملی سیاست میں قدم رکھا اور جلد ہی عبدالولی خان کے قریبی رفقا میں شمار ہونے لگے۔ 1970ء کے انتخابات میں وہ صوبائی اسمبلی کے رُکن منتخب ہوئے اور مولانا مفتی محمود کی کابینہ میں صوبائی وزیر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ یہ وہ دور تھا جب پختون سیاست دولت یا طاقت کے بل پر نہیں بلکہ نظریات کے گرد گھومتی تھی۔
نیپ حکومت کے خاتمے، حیدرآباد سازش کیس، قید و بند اور سیاسی پابندیوں نے ان کی زندگی کو کٹھن مراحل سے گزارا، مگر وہ کبھی پسپا نہ ہوئے۔ رہائی کے بعد عوامی نیشنل پارٹی کی تنظیم نو میں ان کا کردار نمایاں رہا اور وہ صوبائی صدر بھی منتخب ہوئے۔ اختلافِ رائے کی بنیاد پر جب انہوں نے الگ سیاسی راستہ اختیار کیا، تو اس کا مقصد اقتدار نہیں بلکہ پختون قومی مفاد کو نئی جہت دینا تھا۔
1990ء میں وہ قومی اسمبلی میں ڈپٹی اپوزیشن لیڈر رہے جب کہ 1993ء میں وفاقی وزیر برائے امورِ کشمیر مقرر ہوئے۔ وزارت کے باوجود ان کی اصل پہچان اقتدار نہیں بلکہ اصولی سیاست رہی۔ وہ وزارت کو ذاتی شان کے بجائے عوامی خدمت سمجھتے تھے، تاہم جلد ہی اقتدار کی سیاست سے کنارہ کش ہو کر دوبارہ فکری اور عوامی جدوجہد کی طرف لوٹ آئے۔
افضل خان لالا کی زندگی کا سب سے جرأت مندانہ اور تاریخی باب اُس وقت رقم ہوا جب سوات اور ملحقہ علاقوں میں شدت پسندی اور طالبانائزیشن نے سر اٹھایا۔ جہاں بااثر لوگ خاموشی یا ہجرت کو ترجیح دے گئے، وہاں افضل خان لالا نے کھل کر طالبان کے خلاف آواز بلند کی۔ ان کے گھر پر حملے ہوئے، جائیداد نذرِ آتش ہوئی، دو نواسے، ڈرائیور اور ملازم شہید ہوئے، مگر انہوں نے اپنا علاقہ چھوڑنے سے انکار کر دیا۔ ان کا دوٹوک موقف تھا کہ یہ سرزمین بندوق برداروں کی نہیں بلکہ عوام کی ہے۔ اسی بے خوف مزاحمت پر ریاستِ پاکستان نے انہیں "تمغۂ شجاعت” سے نوازا۔
افضل خان لالا ایک منجھے ہوئے سیاست دان کے ساتھ ساتھ صاحبِ قلم مفکر بھی تھے۔ انہوں نے پشتون قومی وحدت، ڈیورنڈ لائن، افغان سیاست اور قومی یک جہتی پر متعدد کتابیں لکھیں۔ ان کی تحریروں میں جذباتیت کے بجائے دلیل، تاریخ اور تجربے کی گہرائی نمایاں تھی۔ وہ پختون قوم کو تشدد کے بجائے شعور اور سیاسی جدوجہد کا راستہ دکھاتے رہے۔
بھاری بھرکم جسم اور سپید داڑھی ان کی ظاہری شخصیت کو ایک فطری وقار عطا کرتی تھی۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے وقت نے خود ان کے وجود پر ٹھہراؤ کی مہر ثبت کر دی ہو۔ ان کی گہری آواز میں بلا کا رعب نہیں، بلکہ تجربے اور مشاہدے کی گونج سنائی دیتی تھی۔ وہ کم گو تھے، مگر جب بولتے تو الفاظ نپے تلے، وزن دار اور معنی سے بھرپور ہوتے۔ ان کی گفتگو میں شور نہیں، سکون ہوتا تھا؛ ایسا سکون جو سامنے والے کو سوچنے پر مجبور کر دے۔
خاموش طبع ہونا ان کی کم زوری نہیں، بلکہ سب سے بڑی قوت تھی۔ وہ ان لوگوں میں سے تھے جن کی خاموشی بھی بولتی تھی۔ محفل میں زیادہ نمایاں نہ ہوتے، مگر موجودگی کا احساس ہر لمحہ رہتا۔ ان کا انداز ایسا تھا کہ لوگ بے اختیار ان کی طرف متوجہ ہو جاتے، جیسے کسی گہرے دریا کی طرف نظر خود بخود کھنچ جاتی ہے۔ وہ بات کم کرتے تھے، مگر سننے کا ہنر جانتے تھے، اور یہی وصف انہیں دوسروں سے ممتاز کرتا تھا۔
مہمان نوازی ان کی سرشت میں شامل تھی۔ ان کے ہاں آنے والا محض مہمان نہیں رہتا تھا، بلکہ عزت، توجہ اور خلوص پاتا تھا۔ بنا کسی تصنع کے، بنا کسی دکھاوے کے، وہ دل سے خاطر تواضع کرتے تھے۔ ان کی مہمان نوازی میں شور شرابا نہیں، بلکہ ایک خاموش اپنائیت ہوتی تھی جو دیر تک دل میں ٹھہر جاتی تھی۔ ان کے دروازے کی طرح ان کا دل بھی کھلا ہوا تھا۔
علم دوستی ان کی شخصیت کا نہایت روشن پہلو تھی۔ وہ علم کو محض کتابوں تک محدود نہیں سمجھتے تھے، بلکہ تجربے، مشاہدے اور کردار کو بھی علم ہی کا تسلسل مانتے تھے۔ اہلِ علم کی قدر کرتے، سوال پوچھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے اور نئی نسل کو خاموشی سے راستہ دکھاتے تھے۔ وہ نصیحت کم اور مثال زیادہ تھے۔ یہی وہ باطن تھا جس نے خوف کے زمانے میں انہیں خوف سے آزاد رکھا۔
یوں وہ بزرگ ایک ایسی شخصیت تھے جن کی پہچان شور میں نہیں، خاموشی میں تھی اور جن کا رعب آواز کی بلندی میں نہیں، کردار کی گہرائی میں تھا۔ ان کی زندگی اس حقیقت کی گواہ تھی کہ اصل وقار دکھانے سے نہیں، جینے سے پیدا ہوتا ہے، اور بعض لوگ لفظوں کے محتاج نہیں ہوتے ان کی موجودگی ہی کافی ہوتی ہے۔
یکم نومبر 2015ء کو یہ بے باک آواز خاموش ہو گئی، مگر ان کی فکر آج بھی زندہ ہے۔ افضل خان لالا اُن راہ نماؤں میں شامل ہیں جو آسان کے بجائے درست راستہ چنتے ہیں۔ وہ پختون سیاست ہی نہیں بلکہ پاکستانی تاریخ میں بھی اُس ضمیر کی علامت بن کر زندہ رہیں گے جس نے خوف کے اندھیروں میں سچ کا چراغ جلائے رکھا۔
جاتے جاتے فیض علی خان فیضؔ کے ان اشعار کے ساتھ اجازت طلب کرنا چاہوں گا کہ:
د جبر نہ باغی د انقلاب سڑے دی نہ مری
د وخت د گوزارونو د جواب سڑے دی نہ مری
د کرکی گناه گار دی د دنيا د مخہ ورک شی
د مینی او د امن د ثواب سڑے دی نہ مری
_________________________________
ابدالی ڈاٹ کام کی انتظامیہ کے لیے یہ لازم نہیں کہ وہ لکھاری کے تمام خیالات سے متفق ہو۔ تمام مضامین کی اشاعت کا مقصد آزادانہ اظہارِ رائے کو فروغ دینا ہے۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو براہِ کرم اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فیس بُک آئی ڈی اور مختصر تعارف کے ساتھ ahabdali944@gmail.com پر ای میل کریں۔ تحریر کی اشاعت یا عدمِ اشاعت کا حتمی اختیار ادارتی بورڈ کے پاس محفوظ ہے۔
شیئرکریں: