عبدالعلی خان، عدمِ تشدد کی فکر سے جنم لینے والا تعلیمی معمار

فلسفۂ عدمِ تشدد پر ایمان کی حد تک یقین رکھنے والے، اعلیٰ اخلاقی اوصاف کے حامل اور خدائی خدمت گار تحریک کے بانی خان عبدالغفار خان المعروف باچا خان بابا برِصغیر کی اُن نادر اور درخشاں شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے تشدد، نفرت اور انتقام کے بہ جائے صبر، برداشت اور خدمتِ خلق کو جدوجہد کا ذریعہ بنایا۔ پختون معاشرے جیسے غیرت مند، قبائلی اور روایات سے جڑے سماج میں عدمِ تشدد کا پیغام دینا ایک غیر معمولی فکری جرات تھی، جسے باچا خان نے نہ صرف اپنایا بلکہ پوری زندگی اس پر ثابت قدم رہے۔ اس نظریاتی استقامت کی قیمت انہوں نے بارہا قید و بند، جلاوطنی اور اذیتوں کی صورت میں ادا کی۔
باچا خان کی عظمت کا ایک روشن پہلو یہ بھی ہے کہ انہوں نے اپنی جدوجہد کو اپنی ذات تک محدود نہیں رکھا، بلکہ اپنی اولاد کی تربیت بھی علم، شعور، انسان دوستی اور قومی خدمت کے سانچے میں ڈھالی۔ ان کے فرزند عبدالغنی خان، عبدالولی خان اور عبدالعلی خان درحقیقت اسی فکری و اخلاقی تربیت کے عملی مظاہر تھے۔ عبدالغنی خان علم و ادب، فلسفہ، شاعری اور مصوری میں ایک ہمہ جہت اور منفرد شخصیت بن کر سامنے آئے، عبدالولی خان نے سیاست کے میدان میں پختون قوم کی قیادت کی اور پاکستانی داغ دار سیاست میں جمہوری جدوجہد کی علامت بنے، جب کہ خان عبدالعلی خان نے سیاست کے شور سے ہٹ کر علم، تعلیم اور ادارہ سازی کو اپنی زندگی کا مقصد بنایا۔
قارئین، خان عبدالعلی خان جو بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے، 1922ء میں اُتمان زئی، ضلع چارسدہ میں پیدا ہوئے۔ تاریخِ پیدائش کے بارے میں مختلف ذرائع 10 اکتوبر اور 20 اگست کا ذکر کرتے ہیں۔ یہ وہ دور تھا جب برِصغیر آزادی کی تحریکوں کی لپیٹ میں تھا اور خود ان کے والد باچا خان بابا انگریز سامراج کے خلاف جدوجہد کے باعث قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہے تھے۔ یوں عبدالعلی خان نے آنکھ ایسے ماحول میں کھولی جہاں سیاست، قربانی، جدوجہد اور قومی خدمت روزمرہ زندگی کا حصہ تھیں۔ اس کے باوجود ان کی شخصیت میں ایک منفرد توازن نمایاں رہا۔ سیاسی شعور سے آگاہی کے باوجود عملی سیاست سے دانستہ فاصلہ۔
اگرچہ گھر کا ماحول گہرا سیاسی تھا، مگر عبدالعلی خان نے پوری زندگی سیاست سے دور رہنے کو ترجیح دی اور تعلیم کو اپنی جدوجہد کا میدان بنایا۔ یہ فیصلہ دراصل اس حقیقت کا اظہار تھا کہ قومی خدمت صرف اقتدار یا سیاسی سرگرمیوں کے ذریعے ہی ممکن نہیں، بلکہ تعلیمی اداروں کی تعمیر، فکری راہ نمائی اور تربیتِ انسان بھی قوم سازی کا ایک طاقتور ذریعہ ہے۔
انہوں نے ابتدائی تعلیم دہرادون کے معروف کرنل براؤن کیمبرج سکول سے حاصل کی، جو اُس وقت برِصغیر کے ممتاز تعلیمی اداروں میں شمار ہوتا تھا۔ یہاں انہیں نظم و ضبط، تنقیدی سوچ اور جدید تعلیم سے روشناس ہونے کا موقع ملا۔ بعد ازاں اسلامیہ کالج یونی ورسٹی پشاور سے بیچلر کی ڈگری حاصل کی۔ یہ ادارہ خود پختون معاشرے میں جدید تعلیم کی ایک روشن علامت سمجھا جاتا ہے۔ اعلیٰ تعلیم کے شوق نے انہیں انگلستان پہنچایا، جہاں انہوں نے آکسفورڈ یونی ورسٹی سے ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ مغربی تعلیمی ماحول اور جدید فکری مباحث نے ان کی ذہنی ساخت کو نکھارا، تاہم وہ مغرب میں رہتے ہوئے بھی اپنی مشرقی اقدار، قومی شناخت اور سماجی ذمہ داری سے جڑے رہے۔
تعلیم مکمل کرنے کے بعد وطن واپسی پر انہوں نے عملی زندگی کا آغاز اسلامیہ کالج یونی ورسٹی پشاور میں تاریخ اور سیاسیات کے لیکچرار کی حیثیت سے کیا۔ بطورِ استاد وہ محض نصابی تعلیم تک محدود نہ تھے، بلکہ طلبہ میں تنقیدی شعور، تاریخی فہم اور سماجی ذمے داری پیدا کرنے پر زور دیتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ جلد ہی ایک سنجیدہ، باوقار اور مؤثر معلم کے طور پر پہچانے جانے لگے۔
چند ہی برسوں میں ان کی انتظامی صلاحیتیں نمایاں ہوئیں اور انہیں گورنمنٹ کالج سرگودھا اور بعد ازاں گورنمنٹ کالج میانوالی میں بطورِ پرنسپل تعینات کیا گیا۔ میانوالی جیسے نسبتاً پسماندہ علاقے میں انہوں نے تعلیمی معیار بلند کرنے، نظم و ضبط قائم کرنے اور علمی ماحول پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
1961ء میں انہیں ایچی سن کالج لاہور کا پرنسپل مقرر کیا گیا، جہاں انہوں نے تقریباً ایک دہائی (1970ء تک) خدمات انجام دیں۔ اس عرصے میں انہوں نے ادارے کی تعلیمی روایت، اخلاقی تربیت اور انتظامی وقار کو مزید مضبوط بنیادوں پر استوار کیا۔
1970ء کے بعد عبدالعلی خان نے اعلیٰ انتظامی اور سرکاری سطح پر خدمات انجام دیں۔ وہ 1970ء سے 1972ء تک صوبہ سرحد کے سیکرٹری برائے صحت، تعلیم اور سماجی بہبود رہے۔ بعد ازاں ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں انہیں جامعہ پشاور کا وائس چانسلر مقرر کیا گیا، جہاں انہوں نے اعلیٰ تعلیم، تحقیق اور جامعات کے انتظامی ڈھانچے کو بہتر بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ اس کے بعد وہ وفاقی سیکرٹری تعلیم بھی رہے، پھر گومل یونی ورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان اور ایک مرتبہ پھر جامعہ پشاور کے وائس چانسلر مقرر ہوئے۔ 1981ء میں وہ سرکاری خدمات سے سبکدوش ہوئے۔
ریٹائرمنٹ کے بعد بھی ان کی علمی خدمات کا سفر رُکا نہیں۔ گورنر جنرل (ر) فضلِ حق کی دعوت پر انہوں نے فضلِ حق کالج مردان کے پرنسپل کی حیثیت سے تقریباً دس برس خدمات انجام دیں اور ایک نئے ادارے کو تعلیمی شناخت عطا کی۔
تعلیم کے شعبے میں ان کی گراں قدر خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان نے انہیں ستارۂ امتیاز سے نوازا۔ خان عبدالعلی خان پختون قوم میں تعلیم، شعور اور تہذیبی وقار کے ایک ایسے خاموش مگر مضبوط معمار تھے جنہوں نے کسی سیاسی نعرے کے بغیر قوم کی فکری بنیادیں استوار کیں۔ یہ عظیم ماہرِ تعلیم 19 فروری 1997ء کو 75 برس کی عمر میں وفات پا گئے اور اپنے آبائی گاؤں اتمان زئی، چارسدہ میں سپردِ خاک ہوئے۔
عبدالعلی خان کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ قومی خدمت صرف جلسوں، نعروں یا اقتدار سے وابستہ نہیں، بلکہ کلاس روم، تعلیمی پالیسی اور ادارہ سازی بھی قوموں کی تقدیر بدلنے کی قوت رکھتی ہے۔ وہ باچا خان کے ایسے بیٹے تھے جنہوں نے اپنے والد کے مشن کو سیاست کے بہ جائے علم کے میدان میں آگے بڑھایا اور یہی ان کی سب سے بڑی پہچان ہے۔
_________________________________
ابدالی ڈاٹ کام کی انتظامیہ کے لیے یہ لازم نہیں کہ وہ لکھاری کے تمام خیالات سے متفق ہو۔ تمام مضامین کی اشاعت کا مقصد آزادانہ اظہارِ رائے کو فروغ دینا ہے۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو براہِ کرم اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فیس بُک آئی ڈی اور مختصر تعارف کے ساتھ ahabdali944@gmail.com پر ای میل کریں۔ تحریر کی اشاعت یا عدمِ اشاعت کا حتمی اختیار ادارتی بورڈ کے پاس محفوظ ہے۔