اشرف مفتون، رومان، فلسفہ اور انسانی کرب کا خاموش شاعر

پشتو زبان و ادب کی تاریخ میں کچھ شخصیات محض شاعر نہیں ہوتیں بلکہ ایک پورے عہد، ایک احساس اور ایک فکری رویّے کی علامت بن جاتی ہیں۔ اشرف مفتون کا شمار بھی انہی درخشاں ناموں میں ہوتا ہے، جنہوں نے پشتو شاعری کو رومان، فلسفہ اور انسانی کرب کی ایسی ہم آہنگی عطا کی جو آج بھی قاری کے دل میں اُتر جاتی ہے۔ وہ ایک ایسے تخلیق کار تھے جن کی شاعری میں محبت، تنہائی، مزاحمت اور جمالیات ایک ساتھ سانس لیتی ہیں، اور جو محض جذبات کی نہیں بلکہ ایک حساس اور باشعور ذہن کی فکری گہرائی کی آئینہ دار ہے۔
پشتو زبان کے ممتاز رومانوی شاعر اشرف مفتون یکم اپریل 1922ء کو ضلع چارسدہ کے گاؤں رجڑ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد قلندر خان علاقے کے معروف جاگیرداروں میں شمار ہوتے تھے۔ اشرف مفتون ایک باوقار اور فکری طور پر فعال خاندان کے امین تھے۔ وہ خان عبدالغفار خان (باچا خان) کے بھانجے، رہبرِ تحریک خان عبدالولی خان کے پھوپھی زاد، اور معروف دانشور پروفیسر جہان زیب نیاز کے خالہ زاد بھائی تھے۔ یہ خاندانی نسبتیں اگرچہ ان کی شاعری میں براہِ راست سیاسی نعرے کی صورت میں ظاہر نہیں ہوتیں، مگر ان کی فکری تربیت اور شعوری ساخت میں گہرے طور پر رچی بسی محسوس ہوتی ہیں۔
انہوں نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی گاؤں میں حاصل کی اور بعد ازاں اسلامیہ کالج پشاور سے بی اے کیا۔ فلسفہ میں ماسٹرز کی ڈگری نے ان کی سوچ کو مزید گہرائی عطا کی۔ فلسفہ ان کی شاعری کی روح بن گیا، جس میں زندگی، وجود، محبت، تنہائی اور انسانی احساسات کے پیچیدہ سوالات بار بار سامنے آتے ہیں۔ انہوں نے 1945ء میں شاعری کا باقاعدہ آغاز کیا اور بہت کم عرصے میں پشتو ادب میں اپنی منفرد شناخت قائم کرلی۔
1950ء میں اشرف مفتون ریڈیو پشاور سے پروگرام اسسٹنٹ کے طور پر وابستہ ہوئے۔ یہ ادارہ ان کے لیے تخلیقی اظہار کا ایک مؤثر ذریعہ ثابت ہوا، تاہم 1972ء میں ان کی پیشہ ورانہ زندگی ایک اصولی اور نظریاتی موڑ پر آ کر رُک گئی۔ ریڈیو پاکستان پشاور میں لفظ "پختون” اور "پختو” کے استعمال پر سرکاری پابندی عائد کی گئی، جس کے خلاف اشرف مفتون نے اپنے ساتھیوں کے ہم راہ احتجاجاً استعفا دے دیا۔ یہ استعفا محض ایک سرکاری ملازمت سے علیحدگی نہیں تھا بلکہ ایک خاموش، باوقار اور شعوری مزاحمت تھی، جس کے ساتھ ان کی 22 سالہ سرکاری خدمت کا اختتام ہوا۔
یہ مرحلہ ان کی زندگی میں تنہائی کے ایک طویل باب کا آغاز ثابت ہوا۔ وہ رفتہ رفتہ سماجی حلقوں سے کٹتے چلے گئے، اور اس تنہائی کو اُس وقت شدید ترین صدمہ پہنچا جب انہوں نے اپنے اکلوتے بیٹے زرک مفتون کی دائمی جدائی کا دُکھ سہا۔ یہ سانحہ ان کی شخصیت اور تخلیقی دنیا پر ایک گہرا اور ناقابلِ تلافی اثر چھوڑ گیا، جس کے اثرات ان کے بعد کے کلام میں نمایاں طور پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
پشتو شاعری میں رومانیت کا ذکر ہو، تو غنی خان کے بعد اشرف مفتون کا نام نہایت احترام سے لیا جاتا ہے۔ ان کی رومانیت محض حسن و عشق تک محدود نہیں بلکہ اس میں انسانی دُکھ، وجودی سوالات، داخلی کرب اور زندگی کی تلخ حقیقتیں بھی شامل ہیں۔ یہی فکری سنجیدگی اور فلسفیانہ گہرائی انہیں اپنے ہم عصروں سے ممتاز بناتی ہے۔
ان کی نمایاں تصانیف میں د شاعر دنیا، د جوند سندرہ، کاواکے، سڑیکے، تڑمی اوخکے، لوخڑے، وگمے، ترخی شکرے، سکونڈاری (کلیات) اور حیدر (چھے ریڈیائی ڈرامے) شامل ہیں۔ ان تخلیقات نے پشتو رومانوی شاعری کو نہ صرف ایک نئی جہت دی بلکہ آنے والی نسلوں کے شعرا کے لیے فکری راستے بھی متعین کیے۔
اشرف مفتون کے فن اور شاعری کی علمی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ان پر ڈاکٹر اختر علی نے تحقیقی کام کرتے ہوئے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ یہ تحقیق اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ اشرف مفتون محض ایک رومانوی شاعر نہیں بلکہ پشتو ادب کا ایک سنجیدہ فکری اور تخلیقی حوالہ ہیں۔
14 مارچ 2004ء کو پشتو زبان و ادب کا یہ درخشاں ستارہ اس دارِ فانی سے رخصت ہوا اور اپنے آبائی گاؤں رجڑ میں آسودۂ خاک ہوا۔ اگرچہ وہ جسمانی طور پر ہم میں موجود نہیں، مگر ان کا تخلیقی ورثہ آج بھی پشتو ادب کے دامن میں ایک روشن چراغ کی طرح فروزاں ہے۔ اشرف مفتون ان شاعروں میں شامل ہیں جو شور نہیں مچاتے، مگر دلوں میں دیرپا اثر چھوڑ جاتے ہیں۔ ان کا نام پشتو شاعری کی تاریخ میں ہمیشہ ایک خاموش، باوقار اور گہرے احساس رکھنے والے رومانوی فلسفی کے طور پر زندہ رہے گا۔
_____________________________
ابدالی ڈاٹ کام کی انتظامیہ کے لیے یہ لازم نہیں کہ وہ لکھاری کے تمام خیالات سے متفق ہو۔ تمام مضامین کی اشاعت کا مقصد آزادانہ اظہارِ رائے کو فروغ دینا ہے۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو براہِ کرم اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فیس بُک آئی ڈی اور مختصر تعارف کے ساتھ ahabdali944@gmail.com پر ای میل کریں۔ تحریر کی اشاعت یا عدمِ اشاعت کا حتمی اختیار ادارتی بورڈ کے پاس محفوظ ہے۔