شانگلہ سے پختون سیاست تک، شہید متوکل خان ایڈووکیٹ کی جدوجہد

پختون سیاست کی تاریخ چند ایسے ناموں سے روشن ہے جو محض سیاست دان نہیں ہوتے بلکہ اپنے عہد کی علامت بن جاتے ہیں۔ ان کی زندگی جدوجہد کی داستان اور ان کی جدائی پورے سماج کے لیے ایک سوالیہ نشان چھوڑ جاتی ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی کے سینئر راہ نما متوکل خان ایڈووکیٹ شہید بھی ایسی ہی باوقار، نظریاتی اور اصول پسند شخصیت تھے، جن کی اچانک وفات نے نہ صرف عوامی نیشنل پارٹی بلکہ شانگلہ اور مجموعی طور پر پختون سیاست کو ایک ناقابلِ تلافی نقصان سے دوچار کر دیا۔
متوکل خان ایڈووکیٹ 1957ء میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد محترم مہتاب خان ریاستِ سوات کے دور میں صوبیدار میجر کے عہدے پر فائز تھے۔ متوکل خان ایڈووکیٹ نے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ ہائی سکول شاہ پور سے حاصل کی، اس کے بعد انٹرمیڈیٹ (FSc) گورنمنٹ جہان زیب کالج سوات سے مکمل کی۔ اعلیٰ تعلیم کے سلسلے میں انہوں نے پنجاب یونی ورسٹی سے بیچلر (B.A) اور قانون (LLB) کی تعلیم حاصل کی، جب کہ قانون کی حتمی ڈگری خیبر لا کالج، جامعہ پشاور سے مکمل کی۔
تعلیم کے دوران میں ہی انہوں نے عملی سیاست میں قدم رکھ دیا۔ پنجاب یونی ورسٹی میں طالبِ علمی کے زمانے میں طلبہ سیاست میں متحرک رہے، جہاں ان کی سیاسی سوچ اور جمہوری شعور نے واضح شکل اختیار کی۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے الپورئ اور سوات میں وکالت کا آغاز کیا، تاہم قانونی پیشے کے ساتھ ساتھ وہ سیاست میں بھی بھر پور کردار ادا کرتے رہے۔ انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم سے سیاست کا آغاز کیا اور جنرل ضیاء الحق کے مارشل لا کے خلاف کھل کر آواز بلند کی۔
ایک اہم مرحلے پر وہ شانگلہ پار سب ڈویژن بار ایسوسی ایشن کے صدر منتخب ہوئے۔ اسی دوران انہوں نے شانگلہ پار ایکشن کمیٹی قائم کی اور شانگلہ کو سوات سے الگ کر کے ایک مستقل ضلع بنانے کی منظم تحریک کی قیادت کی۔ عوامی جلسے، احتجاجی مظاہرے اور بھوک ہڑتالیں اس جدوجہد کا حصہ رہیں، جو بالآخر کامیابی سے ہم کنار ہوئیں اور ضلع شانگلہ کا قیام عمل میں آیا۔ بعد ازاں 2009ء اور 2010ء میں وہ مسلسل دو مرتبہ شانگلہ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر منتخب ہوئے۔ ایکشن کمیٹی کے سربراہ کی حیثیت سے انہوں نے دہشت گردی کے خلاف کھل کر اور بے خوف موقف اختیار کیا، جس کے نتیجے میں وہ شدت پسندوں کے نشانے پر آ گئے اور رات کی تاریکی میں ان کے حجرے پر حملہ بھی کیا گیا۔
1992ء میں نواز شریف حکومت کے خلاف پاکستان پیپلز پارٹی کے لانگ مارچ کے دوران میں انہیں دیگر پارٹی راہ نماؤں کے ہم راہ گرفتار کیا گیا اور وہ ایک قابلِ ذکر عرصہ ہری پور جیل میں قید رہے۔ 1997ء کے عام انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی نے انہیں صوبائی اسمبلی کا ٹکٹ جاری کیا۔ اُس دور میں وہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ کے قریبی سیاسی ساتھی شمار ہوتے تھے۔ بعد ازاں محترمہ بے نظیر بھٹو اور آفتاب احمد خان شیرپاؤ کے درمیان اختلافات کے بعد انہوں نے شیرپاؤ کے ساتھ وابستگی برقرار رکھی اور پیپلز پارٹی (شیرپاؤ گروپ) کے پلیٹ فارم سے سیاست جاری رکھی۔ بعد میں جب آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے قومی وطن پارٹی کی بنیاد رکھی، تو متوکل خان ایڈووکیٹ اس جماعت میں شامل ہو گئے اور ضلع شانگلہ کے چیئرمین منتخب ہوئے۔
2018ء میں انہوں نے عوامی نیشنل پارٹی میں شمولیت اختیار کی اور پارٹی کے ٹکٹ پر انتخابات میں حصہ لیا۔ تحریکِ انصاف کی شدید انتخابی لہر کے باوجود انہوں نے شوکت یوسف زئی کے مقابلے میں 14,570 ووٹ حاصل کیے، جو ان کی عوامی مقبولیت اور سیاسی وزن کا واضح ثبوت ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی میں وہ ابتدا میں صوبائی کونسل، مرکزی کونسل اور مختلف ورکنگ کمیٹیوں کے رُکن رہے، جب کہ 2022ء میں انہیں عوامی نیشنل پارٹی خیبر پختون خوا کا صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری نام زد کیا گیا۔
قارئین، متوکل خان ایڈووکیٹ کا تعلق ضلع شانگلہ کی اُس سرزمین سے تھا جہاں سیاست ہمیشہ قربانی، صبر اور استقامت کا تقاضا کرتی رہی ہے۔ وہ پیشے کے اعتبار سے وکیل اور سیاست کے میدان میں ایک متحرک، باخبر اور بے باک آواز تھے۔ عوامی نیشنل پارٹی میں وہ صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری کے منصب پر فائز رہے اور پارٹی تنظیم کو متحرک رکھنے، کارکنوں کی سیاسی تربیت اور عوامی مسائل کو اُجاگر کرنے میں نمایاں کردار ادا کرتے رہے۔ ان کی سیاست محض نعروں تک محدود نہیں تھی بلکہ عملی جدوجہد، عوام سے بہ راہِ راست رابطے اور اصولی موقف پر ثابت قدمی کا نام تھی۔
ان کی سیاسی زندگی کئی دہائیوں پر محیط رہی۔ مختلف سیاسی ادوار، آمرانہ فضا اور جمہوری نشیب و فراز کے باوجود انہوں نے جمہوریت، صوبائی خود مختاری اور پختون حقوق سے وابستگی کبھی ترک نہیں کی۔ ضلع شانگلہ کے قیام کی جدوجہد ہو یا مقامی سطح پر تعلیم، انصاف اور بنیادی سہولیات کے مسائل، متوکل خان ایڈووکیٹ ہر محاذ پر سرگرم نظر آئے۔ انہوں نے متعدد بار صوبائی اسمبلی کے انتخابات میں حصہ لیا اور کامیابی و ناکامی کو خندہ پیشانی سے قبول کیا، مگر عوام سے رشتہ کبھی کم زور نہیں ہونے دیا۔
وکالت کے شعبے میں بھی متوکل خان ایڈووکیٹ ایک معتبر اور قابلِ احترام نام تھے۔ وہ قانون کو محض پیشہ نہیں بلکہ سماجی انصاف کا مؤثر ذریعہ سمجھتے تھے۔ عدالت ہو یا سیاست کا میدان، وہ دلیل، شائستگی اور اصولی موقف کے ساتھ کھڑے نظر آتے۔ ان کی شخصیت میں سادگی، خلوص اور اخلاقی وقار نمایاں تھا، یہی وجہ ہے کہ دوست اور مخالف دونوں ان کا احترام کرتے تھے۔ یہ کم ہی دیکھنے میں آتا ہے کہ کوئی شخص اختلاف کے باوجود متفقہ احترام کا حامل ہو، مگر متوکل خان ایڈووکیٹ اس معیار پر پورے اُترتے تھے۔
07 مارچ 2025ء کا دن شانگلہ اور پختون سیاست کے لیے ایک المناک دن ثابت ہوا۔ وہ ایک جنازے سے واپس آ رہے تھے کہ شانگلہ کے علاقے رانیال کے قریب ایک ٹریفک حادثے کے شکار ہو گئے۔ بریک فیل ہونے کے باعث ان کی گاڑی کھائی میں جا گری اور یوں ایک متحرک، زندہ دل اور جدوجہد سے بھر پور زندگی کا اچانک اختتام ہو گیا۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ زندگی کی آخری سانس تک بھی سماجی اور اخلاقی ذمے داری نبھا رہے تھے۔
ان کے نمازِ جنازہ میں ملک کے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی، جن میں عوامی نیشنل پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت، وفاقی و صوبائی وزراء، سینیٹرز، منتخب نمائندگان اور سماجی شخصیات شامل تھیں۔ اس موقع پر اے این پی کے مرکزی و صوبائی قائدین کے ساتھ ساتھ دیگر قومی سیاسی راہ نماؤں کی موجودگی اس بات کا واضح ثبوت تھی کہ مرحوم کی جدوجہد، اصول پسندی اور عوام سے وابستگی کو صوبائی نہیں بلکہ قومی سطح پر قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ شرکاء نے مرحوم کی سیاسی و سماجی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ان کے لیے دعائے مغفرت کی، جب کہ نمازِ جنازہ میں عوامی شرکت نے یہ حقیقت اٰجاگر کی کہ ان کی زندگی خدمت، عزم اور مسلسل جدوجہد کی علامت تھی، جس کی بازگشت پورے ملک میں سنائی دیتی۔
ان کی وفات کی خبر سے پورے صوبے میں سوگ کی فضا قائم ہوگئی۔ عوامی نیشنل پارٹی کی قیادت، مختلف سیاسی جماعتوں، وکلاء تنظیموں اور سول سوسائٹی نے گہرے دُکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ ایمل ولی خان، میاں افتخار حسین اور دیگر راہ نماؤں نے انہیں ایک نظریاتی، عوام دوست اور بے لوث رہنما قرار دیا۔ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن شانگلہ نے انہیں ایک باوقار وکیل اور اصولی انسان کے طور پر خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اندرونِ ملک کے ساتھ ساتھ بیرونِ ملک مقیم پختون کمیونٹی کی جانب سے بھی تعزیتی ریفرنسز منعقد کیے گئے، جب کہ سوشل میڈیا پر ان کی جدوجہد، خدمات اور شخصیت کو بھر پور انداز میں یاد کیا گیا۔
قارئین، متوکل خان ایڈووکیٹ شہید کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ سیاست اگر خلوص، نظریے اور عوامی خدمت کے جذبے سے کی جائے، تو وہ محض اقتدار کی کشمکش نہیں رہتی بلکہ ایک اخلاقی فریضہ بن جاتی ہے۔ وہ ایسے دور میں سیاست کر رہے تھے جب مصلحت، مفاد اور وقتی فائدہ عام ہو چکا ہے، مگر انہوں نے سچ، اصول اور عوامی حق کے راستے سے انحراف نہیں کیا۔ آج متوکل خان ایڈووکیٹ شہید ہمارے درمیان موجود نہیں، مگر ان کی جدوجہد، نظریہ اور یادیں پختون سیاست کے اجتماعی حافظے میں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔ وہ چلے گئے، مگر پیچھے ایک ایسا خلا چھوڑ گئے ہیں جو آسانی سے پُر نہیں ہو سکتا۔ تاریخ انہیں ایک ایسے راہ نما کے طور پر یاد رکھے گی جس نے مشکل حالات میں بھی حق کا ساتھ نہیں چھوڑا اور آخری سانس تک عوام کے ساتھ کھڑا رہا۔ جاتے جاتے بس یہی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل دے، آمین۔
_______________________________
ابدالی ڈاٹ کام کی انتظامیہ کے لیے یہ لازم نہیں کہ وہ لکھاری کے تمام خیالات سے متفق ہو۔ تمام مضامین کی اشاعت کا مقصد آزادانہ اظہارِ رائے کو فروغ دینا ہے۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو براہِ کرم اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فیس بُک آئی ڈی اور مختصر تعارف کے ساتھ ahabdali944@gmail.com پر ای میل کریں۔ تحریر کی اشاعت یا عدمِ اشاعت کا حتمی اختیار ادارتی بورڈ کے پاس محفوظ ہے۔