یہ کیسا المیہ ہے کہ آج ہمارے معاشرے میں دلیل سے زیادہ گالی، فن سے زیادہ تعصب اور اختلافِ رائے سے زیادہ نفرت کو طاقت سمجھا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا کے اس شوریدہ دور میں کسی کی آواز، کسی کا ہنر اور کسی کی فکری آزادی پل بھر میں کچل دی جاتی ہے، بس اس لیے کہ وہ ہمارے پسندیدہ سیاسی خانے میں فِٹ نہیں بیٹھتا۔ سجاد گل رنگ کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے جو دراصل ایک فرد کا نہیں بلکہ ہماری سیاست، ہمارے اخلاق اور ہماری اجتماعی سوچ کا امتحان ہے۔ کیوں کہ یہ محض ایک فرد کی تذلیل کا معاملہ نہیں بلکہ ہمارے اجتماعی اخلاقی زوال کا نوحہ ہے۔
قارئین، سجاد گل رنگ ضلع سوات کے مرکزی شہر مینگورہ کا وہ ہونہار نوجوان ہے جس نے اپنی جنم بھومی، اپنی مٹی اور اپنی مادری زبان پشتو سے محبت کو محض دعویٰ نہیں بلکہ عملی جدوجہد بنایا۔ تاریخی جہان زیب کالج سوات سے بی ایس پشتو اور پھر پشتو زبان و ادب میں ایم فل کی ڈگری حاصل کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ وقتی نعروں کا اسیر نہیں بلکہ علم، تہذیب اور روایت سے جڑا ہوا نوجوان ہے۔ قدرت نے اسے خوب صورت آواز سے نوازا ہے اور رباب کے سُروں کے ساتھ پشتو غزلیں اور نظمیں گا کر وہ سامعین کے دلوں کو چھوتا ہے۔ سجاد گل رنگ کسی اشرافیہ سے نہیں، ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھتا ہے۔ اسی لیے اس نے عزتِ نفس کے ساتھ محنت مزدوری کی، کبھی ڈلیوری کمپنی میں کام کیا اور آج فضاگٹ جیسے پُرفضا مقام پر اپنا چائے خانہ چلا رہا ہے، جہاں آنے والے مہمان چائے کے ذائقے کے ساتھ پشتو موسیقی اور شاعری کی خوشبو بھی محسوس کرتے ہیں۔
مگر بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے ہاں فن، علم اور محنت کو سراہنے کے بہ جائے سیاسی تعصب کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے۔ سجاد گل رنگ کا قصور صرف اتنا ہے کہ انہوں نے ممتاز شاعر امامِ منظر کی ایک نظم گائی، جو عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان کے حوالے سے ہے۔ نظم ابھی ریلیز بھی نہیں ہوئی، صرف ایک ٹریلر ان کے فیس بُک اکاؤنٹ پر شیئر ہوا، جس کے چند اشعار یوں ہیں:
گل د ھشتنغر د ولی باغ غندل غندل ایمل
وچغیدو پاس پہ بلئی بیا لکہ بلبل ایمل
تاسو تہ تاجونہ مبارک شہ ماتہ خپل ملنگ
تاسو تہ قارون خہ دے او ماتہ دغہ خپل ایمل
لارہ د بقا وہی او روان دے پہ شا نہ گوری
نہ د چا پہ سپکو پسی زی نہ پہ کنزل ایمل
لیکن اس ایک ٹریلر نے سوشل میڈیا پر بدتمیزی، گالم گلوچ اور کردار کشی کا ایسا طوفان کھڑا کر دیا کہ الامان والحفیظ۔ خاص طور پر وہ نئی سیاسی نسل جو 2010ء کے بعد "سونامی” اور "تبدیلی” کے نعروں کے ساتھ سامنے آئی، اور وہ نام نہاد انقلابی گروہ جو قوم پرستی اور پختون حقوق کا دعویٰ تو کرتے ہیں مگر جن کا اصل ہدف ہمیشہ اس دھرتی کی اصل وارث جماعت، عوامی نیشنل پارٹی رہی ہے، انہوں نے سجاد گل رنگ کو نشانے پر رکھ لیا۔ ایک فن کار، ایک طالب علم، ایک محنت کش نوجوان کو محض اس لیے رسوا کیا گیا کہ اس نے اے این پی کے لیے گانا گایا۔
قارئین، سوال یہ ہے کہ ہم اپنی سیاست کو کس سمت لے جا رہے ہیں…؟ کیا اب فن کار، شاعر اور گلوکار کو بھی سیاسی وفاداری کے پیمانے پر پرکھا جائے گا…؟ کیا کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ اپنے نظریے، اپنی پسند اور اپنے فکری جھکاؤ کا اظہار کرے…؟ اگر آج ایک نوجوان پختون فن کار کو صرف ایک نظم گانے پر عزت اچھالنے کا جواز پیدا ہو گیا ہے، تو کل کسی اور کی باری ہوگی۔ یہ روش نہ انقلاب ہے، نہ تبدیلی، بلکہ فکری تنگ نظری اور اخلاقی دیوالیہ پن کی علامت ہے۔
ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ 2010ء سے پہلے کی سیاست میں اختلاف کے باوجود شائستگی، تحمل اور برداشت کا عنصر موجود تھا۔ مخالف کو دشمن نہیں سمجھا جاتا تھا، اور نہ ہی فن و ادب کو سیاسی انتقام کا ہتھیار بنایا جاتا تھا۔ آج سوشل میڈیا نے زبان کو بے لگام کر دیا ہے، اور سیاسی اختلاف ذاتی دشمنی میں بدل چکا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں قومیں زوال کی طرف بڑھتی ہیں۔
قارئین، سجاد گل رنگ کا دفاع دراصل کسی ایک فرد کا دفاع نہیں، یہ پشتو زبان، اس کی ثقافت، اس کے فن کار اور اس کی روا داری کا دفاع ہے۔ ایک نوجوان جو علم بھی رکھتا ہے، ہنر بھی، محنت بھی کرتا ہے اور اپنی ثقافت کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہا ہے، وہ ہماری تحسین کا مستحق ہے، نہ کہ نفرت کا نشانہ۔
اگر آج ہم نے فن کار کو سیاسی اختلاف کی بھینٹ چڑھانا بند نہ کیا، اگر ہم نے اختلافِ رائے کے ساتھ جینے کا سلیقہ دوبارہ نہ سیکھا، تو کل نہ کوئی سجاد گل رنگ بچے گا، نہ پشتو کا وہ سُر، نہ رباب کی وہ آواز۔ سیاست کو سیاست رہنے دیں، اور فن کو فن۔ یہی زندہ قوموں کی پہچان ہوتی ہے۔
قارئین، سجاد گل رنگ نے کوئی جرم نہیں کیا، اس نے نہ نفرت پھیلائی، نہ کسی کا حق مارا۔ انہوں نے صرف گایا، وہ بھی اپنی زبان میں، اپنی ثقافت کے سُروں کے ساتھ۔ اگر آج ایک نوجوان فن کار کو اس کے نظریے یا پسند کی سزا دی جائے گی، تو کل یہ آگ سب کو اپنی لپیٹ میں لے گی۔ قومیں اختلاف سے نہیں، تنگ نظری سے ٹوٹتی ہیں۔ سیاست کو اختلاف کا حق ہونا چاہیے، مگر فن کو نفرت سے آزاد رکھنا ہی اصل بلوغت ہے۔ اگر ہمیں واقعی پختون ہونے پر فخر ہے، تو پھر ہمیں سجاد گل رنگ جیسے نوجوانوں کی آواز کا دفاع کرنا ہو گا کیوں کہ جب رباب کے سُر دب جائیں، تو قومیں خاموش ہو جاتی ہیں۔
_________________________________
ابدالی ڈاٹ کام کی انتظامیہ کے لیے یہ لازم نہیں کہ وہ لکھاری کے تمام خیالات سے متفق ہو۔ تمام مضامین کی اشاعت کا مقصد آزادانہ اظہارِ رائے کو فروغ دینا ہے۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو براہِ کرم اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فیس بُک آئی ڈی اور مختصر تعارف کے ساتھ ahabdali944@gmail.com پر ای میل کریں۔ تحریر کی اشاعت یا عدمِ اشاعت کا حتمی اختیار ادارتی بورڈ کے پاس محفوظ ہے۔
شیئرکریں: