اعتزاز حسن شہید کی قربانی اور ریاستی ضمیر کا سوال

تاریخ ہمیشہ بندوق اُٹھانے والوں کو یاد نہیں رکھتی، بلکہ بعض اوقات وہ ایک ایسے بچے کو امر کر دیتی ہے جس کے ہاتھ میں نہ بندوق ہوتی ہے، نہ اختیار، نہ طاقت، صرف حوصلہ ہوتا ہے۔ اعتزاز حسن شہید بھی تاریخ کے انہی روشن استعاروں میں سے ایک ہے، جو عمر میں تو کم تھا مگر شعور، ذمے داری اور قربانی میں ایک پوری قوم پر بھاری ثابت ہوا۔
06 جنوری 2014ء کو خیبر پختون خوا کے ضلع ہنگو کے علاقے ابراہیم زئی میں ایک سرکاری سکول کے باہر روزمرہ کی طرح بچوں کا ہجوم تھا۔ بستے کندھوں پر، مستقبل آنکھوں میں اور معصوم ہنسی چہروں پر تھی۔ اسی لمحے ایک خودکش حملہ آور سکول میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس کا ہدف واضح تھا، علم، بچوں اور آنے والی نسل کو نشانہ بنانا۔ ریاستی نظام اس لمحے غیر حاضر تھا، مگر ضمیر موجود تھا اور وہ ضمیر ایک طالب علم کی صورت میں سامنے آیا۔
اعتزاز حسن نے خطرے کو پہچانا۔ اس نے خوف کے بہ جائے فیصلہ کیا۔ اس نے دہشت گرد کا راستہ روکا، اسے سکول کے اندر داخل ہونے سے باز رکھا، اور اسی دوران دھماکہ ہوا۔ اعتزاز حسن شہید ہو گیا، مگر سکول محفوظ رہا، سیکڑوں بچے زندہ رہے، اور دہشت گرد اپنے مقصد میں ناکام ہو گیا۔ یہ محض ایک جان کا جانا نہیں تھا، یہ خوف کے بیانیے کی شکست تھی۔
یہ قربانی اتنی غیر معمولی تھی کہ ریاست کو بھی خاموش نہ رہنے دیا۔ حکومتِ پاکستان نے اعتزاز حسن کو بعد از شہادت ستارۂ شجاعت سے نوازا، جو ایک اعلیٰ سول اعزاز ہے۔ یہ اعزاز دراصل اس بات کا اعتراف تھا کہ بہادری وردی کی محتاج نہیں ہوتی، اور قوم کی حفاظت کبھی کبھی سب سے کم عمر شہری بھی کر لیتا ہے۔ یہ لمحہ قومی فخر کا تھا، جب ایک بچے کو سرکاری سطح پر ہیرو تسلیم کیا گیا۔
صوبائی حکومت نے اس کے گاؤں کے سکول کا نام "اعتزاز حسن شہید ہائی سکول” رکھا۔ یہ محض ایک نام کی تبدیلی نہیں تھی بلکہ ایک علامتی پیغام تھا کہ علم کے اس مرکز پر وہ بچہ پہرہ دے رہا ہے جس نے علم کی خاطر جان دے دی۔ اس کے خاندان کے لیے مالی امداد اور معاوضے کا اعلان بھی کیا گیا اور ہر سال 06 جنوری کو اس کی برسی سرکاری سطح پر منائی جانے لگی۔ بیانات دیے گئے، تقاریر ہوئیں، خراجِ عقیدت پیش کیے گئے۔
مگر سوال یہ ہے کہ کیا قومی ہیروز کے ساتھ سلوک صرف اعزازات اور بیانات تک محدود ہونا چاہیے…؟ وقت کے ساتھ اعتزاز حسن کے اہلِ خانہ اور مقامی سطح پر یہ آواز بلند ہوتی رہی کہ بعض سرکاری وعدے مکمل نہیں ہو سکے۔ مستقل سہولتوں، طویل المدتی سرپرستی اور مکمل یادگار کے وعدے ادھورے رہ گئے۔ یہاں سے ریاستی رویے کا وہ تضاد سامنے آتا ہے جو ہمارے بیشتر قومی ہیروز کے حصے میں آتا ہے۔ ابتدا میں اعتراف، بعد میں فراموشی۔
اعتزاز حسن کی قربانی دراصل ہمارے نظامِ تحفظ پر ایک سوالیہ نشان بھی ہے۔ کیا ہمارے سکول آج محفوظ ہیں…؟ کیا ہم نے وہ حفاظتی انتظامات کر لیے ہیں جن کی قیمت ایک بچے نے اپنی جان دے کر ادا کی…؟ یا ہم نے اس قربانی کو صرف ایک جذباتی داستان بنا کر ضمیر کو وقتی طور پر مطمئن کر لیا ہے…؟
یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ اعتزاز حسن نے وہ کام کیا جو ریاستی ذمے داری تھی۔ سکول کے دروازے پر کسی بچے کو نہیں، بلکہ ریاست کو کھڑا ہونا چاہیے تھا۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں یہ واقعہ محض "ہیرو ازم” سے نکل کر ریاستی پالیسی اور اجتماعی ناکامی کا استعارہ بن جاتا ہے۔
قومیں شہداء پر فخر ضرور کرتی ہیں، مگر زندہ قومیں شہداء سے سیکھتی بھی ہیں۔ اگر اعتزاز حسن کی قربانی کے بعد بھی ہمارے تعلیمی ادارے غیر محفوظ ہیں، اگر وعدے ادھورے ہیں اور اگر ہیروز کو وقتی یادداشت تک محدود رکھا جاتا ہے، تو یہ ہمارے اجتماعی ضمیر کی کم زوری ہے۔
اعتزاز حسن ہمیں یہ سبق دے گیا کہ بہادری عمر نہیں دیکھتی، اور یہ بھی کہ قوم کی اصل طاقت اس کے کم زور ترین شہری کے تحفظ میں پوشیدہ ہے۔ وہ بچہ جس کے ہاتھ میں قلم ہونا چاہیے تھا، اس نے اپنی جان سے تاریخ لکھ دی۔ اب یہ ہم پر ہے کہ ہم اس تاریخ کو محض پڑھتے رہیں یا اس سے راستہ بھی اخذ کریں۔
اگر ہم واقعی اعتزاز حسن کو خراجِ عقیدت پیش کرنا چاہتے ہیں، تو ہمیں اس کی قربانی کو قومی عزم، عملی پالیسی اور مستقل عمل میں تبدیل کرنا ہوگا۔ سکول محفوظ بنانے ہوں گے، وعدے پورے کرنے ہوں گے، اور یہ یقینی بنانا ہوگا کہ آئندہ کسی بچے کو ریاستی خلا پُر کرنے کے لیے اپنی جان نہ دینی پڑے۔
سلام ہے اعتزاز حسن شہید کو جو خود تو مٹ گیا مگر قوم کے ضمیر پر ایک ایسا سوال لکھ گیا، جسے نظر انداز کرنا اب ممکن نہیں۔
____________________________
ابدالی ڈاٹ کام کی انتظامیہ کے لیے یہ لازم نہیں کہ وہ لکھاری کے تمام خیالات سے متفق ہو۔ تمام مضامین کی اشاعت کا مقصد آزادانہ اظہارِ رائے کو فروغ دینا ہے۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو براہِ کرم اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فیس بُک آئی ڈی اور مختصر تعارف کے ساتھ ahabdali944@gmail.com پر ای میل کریں۔ تحریر کی اشاعت یا عدمِ اشاعت کا حتمی اختیار ادارتی بورڈ کے پاس محفوظ ہے۔