ریاستی تاریخ میں کچھ آوازیں وقتی شور نہیں ہوتیں بلکہ مستقل اضطراب بن جاتی ہیں۔ عثمان خان کاکڑ ایسی ہی ایک آواز تھے جو ایوان کی دیواروں سے ٹکرا کر واپس نہیں لوٹتی تھی بلکہ عوام کے دلوں میں اُتر جاتی تھی۔ وہ ایسے زمانے میں سیاست میں متحرک تھے جب سچ بولنا بغاوت، اصول پر قائم رہنا جرم اور سوال اُٹھانا غداری کے مترادف بنا دیا گیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ عثمان کاکڑ کی سیاست محض سیاسی سرگرمی نہیں بلکہ ایک مسلسل مزاحمتی عمل تھی۔
قارئین، عثمان خان کاکڑ 1961ء میں مسلم باغ، ضلع قلعہ سیف اللہ (بلوچستان) میں سردار عبدالقیوم خان کے گھر پیدا ہوئے۔ پختون قوم کے بڑے قبیلے کاکڑ سے تعلق رکھنے والے عثمان کاکڑ نے تعلیم کو سیاست سے جدا نہیں رکھا۔ اسلامیہ سکول کوئٹہ سے میٹرک، بہاولپور سے انجینئرنگ ڈپلومہ، سائنس کالج سے بی ایس سی، یونی ورسٹی آف بلوچستان سے ایم اے اکنامکس اور لا کالج کوئٹہ سے وکالت، یہ سب اس بات کی علامت تھا کہ وہ سیاست کو علم، دلیل اور آئینی فہم کے ساتھ آگے بڑھانا چاہتے تھے، نہ کہ نعروں اور ذاتی مفادات کے سہارے۔
طلبہ سیاست میں ان کی شمولیت محض ایک تنظیمی سرگرمی نہیں تھی بلکہ قومی شعور کی تربیت تھی۔ "پختون خوا ملی سٹوڈنٹس آرگنائزیشن” میں سیکرٹری جنرل کی حیثیت سے انہوں نے طلبہ کو یہ سکھایا کہ سیاست اقتدار کا راستہ نہیں بلکہ ذمے داری کا بوجھ ہے۔ ضیاء الحق جیسے آمرانہ دور میں، جب ترقی پسند آوازوں پر پابندیاں تھیں، عثمان کاکڑ پاکستان "پروگریسو الائنس” کے ذریعے ثابت کرتے رہے کہ ریاستی جبر نظریے کو ختم نہیں کر سکتا، صرف وقتی طور پر دبا سکتا ہے۔
1986ء کے بعد پختون خوا ملی عوامی پارٹی میں ان کا کردار محض تنظیمی نہیں بلکہ فکری اور نظریاتی تھا۔ پارٹی کی صوبائی اور مرکزی قیادت میں رہتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ محکوم اقوام کی سیاست کی اصل طاقت پارلیمنٹ نہیں بلکہ عوام ہوتے ہیں۔ یہی سوچ انہیں 2015ء میں سینیٹ تک لے گئی، جہاں انہوں نے ایوانِ بالا کو محض قانون سازی کا فورم نہیں بلکہ ریاست سے سوال کرنے کا پلیٹ فارم بنا دیا۔ یہی وجہ ہے کہ سینیٹ میں عثمان کاکڑ کی تقاریر رسمی نہیں بلکہ تاریخی دستاویزات کی حیثیت رکھتی ہیں۔ لاپتہ افراد کا ذکر ہو، بلوچستان میں فوجی آپریشنز کی بات ہو، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم ہو یا منتخب جمہوری حکومتوں کے خلاف سازشیں، وہ ہر موضوع پر کھل کر بولے۔ ان کی زبان میں خوف نہیں تھا، مصلحت نہیں تھی۔ وہ جانتے تھے کہ طاقت بندوق سے نہیں، عوامی سچائی سے جنم لیتی ہے، اسی لیے وہ ’”طاقتور” ہونے کے بہ جائے "سچا” رہنا چاہتے تھے۔
عثمان کاکڑ کی سیاست کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ قومیت کو نفرت کا ہتھیار نہیں بناتے تھے بلکہ برابری کی بنیاد بناتے تھے۔ ارمان لونی کے لیے وہ پختون تھے، حیات بلوچ کے لیے بلوچ، سانحہ ساہیوال پر بولتے، تو پنجابی دکھائی دیتے، اور سندھ کی تاریخ بیان کرتے وقت یوں محسوس ہوتا جیسے وہ خود سندھی راہ نما ہوں۔ وہ کسی ایک خطے کے نہیں بلکہ ایک اصول کے نمائندہ تھے۔ اصول یہ کہ ظلم جہاں بھی ہو، آواز ہر جگہ اُٹھنی چاہیے۔
21 جون 2021ء کو ان کی اچانک اور پُراسرار موت نے اس پورے سیاسی منظرنامے کو ہلا کر رکھ دیا۔ سوال صرف یہ نہیں تھا کہ عثمان کاکڑ کیسے رخصت ہوئے، سوال یہ تھا کہ ایسی آوازیں آخر برداشت کیوں نہیں کی جاتیں…؟ ان کی وفات کے بعد ریاست اور عوام کے درمیان عدمِ اعتماد مزید گہرا ہو گیا اور اس عدمِ اعتماد کا سب سے بڑا اظہار ان کا جنازہ تھا۔
قارئین، بلوچستان کی معلوم تاریخ میں شاید ہی کوئی مثال ملتی ہو کہ کسی غیر حکومتی عہدے دار کے جنازے میں لاکھوں افراد، ملک کے طول و عرض سے، کسی سرکاری اعلان، پروٹوکول یا انتظام کے بغیر شریک ہوئے ہوں۔ یہ کسی وزیرِ اعظم، صدر، گورنر یا وزیرِ اعلیٰ کا جنازہ نہیں تھا، بلکہ ایک عوامی ترجمان اور ایک زندہ مؤقف کا جنازہ تھا۔ لیکن ریاست کی دوغلی پالیسی یہاں بھی پوری طرح عیاں ہوئی۔ اتنے بڑے، تاریخی اور عوامی جنازے کو نہ صرف قومی میڈیا پر نظرانداز کیا گیا بلکہ دانستہ طور پر اس کی کوریج سے گریز کیا گیا۔ اس سے بھی زیادہ افسوس ناک بات یہ تھی کہ دنیا کو ایک مختلف پیغام دینے کے لیے بنگلہ دیش کے ایک راہ نما عثمان ہادی کے جنازے کے نام پر وہی تصویر نشر کی گئی جو دراصل عثمان خان کاکڑ کے جنازے کی تھی، وہی تصویر جس میں لاکھوں عوام اپنے محبوب راہ نما کو الوداع کہہ رہے تھے۔ یوں ریاست نے ایک طرف عثمان کاکڑ کے جنازے کو چھپانے کی کوشش کی، اور دوسری طرف اسی جنازے کی تصویر کو کسی اور شناخت کے ساتھ استعمال کر کے اپنی ہی سچائی کو بے نقاب کر دیا۔
در حقیقت یہ تضاد محض ایک میڈیا غلطی نہیں تھا، بلکہ اس ذہنیت کی عکاسی تھا جو زندہ آوازوں کو دبانا اور مرنے کے بعد بھی ان کی شناخت مسخ کرنا چاہتی ہے۔ مگر تاریخ کا اصول یہ ہے کہ سچ کو جتنا چھپایا جائے، وہ اتنا ہی واضح ہو کر سامنے آتا ہے اور عثمان کاکڑ کا جنازہ اسی سچ کی علامت بن گیا۔
یہ اس شخص کا جنازہ تھا جس نے پارلیمنٹ کے فلور پر باچا خان، خان عبد الولی خان، عبدالصمد خان شہید، اسفندیار ولی خان، سردار عطاء اللہ مینگل، جی ایم سید، محترمہ فاطمہ جناح، شہید بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کا مقدمہ لڑا۔ یہ اس شخص کا جنازہ تھا جس نے اپنے لیے کچھ نہیں مانگا، اگر کچھ مانگا تو پختونوں اور بلوچوں کا حق مانگا۔
قارئین، عثمان خان کاکڑ شاید ایک بار سینیٹ پہنچے، مگر وہ ہر دل میں پہنچ گئے۔ ان کی سیاست ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اصل کامیابی اقتدار نہیں، اعتماد ہے۔ اصل وراثت عہدہ نہیں، موقف ہے اور اصل شہادت موت نہیں بلکہ سچ پر ڈٹے رہنا ہے۔ عثمان خان کاکڑ چلے گئے، مگر سوال چھوڑ گئے اور سوال زندہ قوموں کی پہچان ہوتے ہیں۔
قارئین، عثمان خان کاکڑ کا اصل مقدمہ ان کی زندگی سے زیادہ ان کے بعد کھل کر سامنے آیا۔ جس آواز کو ایوان میں دبانے کی کوشش کی گئی، وہ موت کے بعد لاکھوں انسانوں کی شکل میں گونج اٹھی۔ ریاست نے جس جنازے کو نظر انداز کیا، وہ تاریخ کا حوالہ بن گیا اور جس تصویر کو شناخت بدل کر دنیا کے سامنے پیش کیا گیا، وہی تصویر ریاستی بیانیے کے تضاد کا سب سے بڑا ثبوت ٹھہری۔ عثمان کاکڑ نے ثابت کیا کہ اصل سیاست اقتدار کا نام نہیں بلکہ سچ پر ڈٹے رہنے کا نام ہے، اور اصل قیادت وہ ہوتی ہے جو مرنے کے بعد بھی عوام کو متحد کر دے۔ وہ چلے گئے، مگر اپنے پیچھے ایک ایسا سوال، ایک ایسا معیار اور ایک ایسا مؤقف چھوڑ گئے جس سے اب ریاست، سیاست اور سماج سب کو خود کو ناپنا پڑے گا۔ تاریخ گواہ رہے گی کہ عثمان خان کاکڑ نہ صرف زندہ رہے بلکہ سچ بولتے رہے، اور یہی وہ جرم تھا جسے عوام نے اپنی محبت سے اعزاز میں بدل دیا۔
________________________________
ابدالی انتظامیہ کےلیے یہ ضروری نہیں کہ وہ لکھاری کے تمام خیالات سے متفق ہو۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو بہ راہِ کرم اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فیس بُک آئی ڈی اور مختصر تعارف کے ساتھ ahabdali944@gmail.com پر اِی میل کیجیے۔ تحریر شائع کرنے یا نہ کرنے کا حتمی فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔
شیئرکریں: