خیبر پختون خوا حکومت نے صوبے میں بلدیاتی نظام کو مؤثر، نمائندہ اور مقامی سطح پر مضبوط بنانے کے لیے ایک نیا بلدیاتی ڈھانچہ متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت وارڈ اور ویلج کونسل سسٹم کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے اور یونین کونسل کو بلدیاتی نظام کی بنیادی اکائی قرار دیا گیا ہے۔
نئے نظام کے مطابق ہر یونین کونسل سے کل 9 ارکان منتخب کیے جائیں گے۔ ان میں 04 جنرل کونسلرز، 02 خواتین نمائندگان، 01 کسان نمائندہ، 01 یوتھ نمائندہ اور 01 اقلیتی نمائندہ شامل ہوں گے، تاکہ معاشرے کے تمام طبقات کو مساوی نمائندگی فراہم کی جا سکے۔
اس نظام کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ یونین کونسل کا چیئرمین بہ راہِ راست عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوگا، جو مقامی سطح پر عوامی رائے اور جوابدہی کے عمل کو مزید مضبوط بنائے گا۔
نئے بلدیاتی ڈھانچے کے تحت یونین کونسل کا چیئرمین ڈسٹرکٹ کونسل کا رکن ہوگا، جب کہ نائب چیئرمین تحصیل کونسل کا رکن تصور کیا جائے گا۔ اس بندوبست کا مقصد ضلعی اور تحصیلی سطح پر رابطہ کاری اور انتظامی ہم آہنگی کو بہتر بنانا ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے بلدیاتی انتخابات اگست 2026ء تک کروانے کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں، جس کے لیے قانونی، انتظامی اور انتخابی اقدامات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق نیا بلدیاتی نظام نہ صرف اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی میں مددگار ثابت ہوگا بلکہ مقامی حکومتوں کو زیادہ بااختیار، شفاف اور عوام کے قریب بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔
شیئرکریں: