پختون سیاست کی تاریخ میں بلور خاندان محض ایک سیاسی نام نہیں بلکہ قربانی، استقامت اور اصولی جدوجہد کی ایک طویل داستان ہے۔ یہ وہ خاندان ہے جس نے دہشت گردی، جانی نقصانات اور مسلسل خطرات کے باوجود عوامی خدمت اور جمہوری سیاست کا راستہ ترک نہیں کیا۔ اقتدار، خوف اور مفاد کے دباؤ میں پسپا ہونے کے بہ جائے بلور خاندان نے ثابت کیا کہ اصل سیاست جان کی قیمت پر بھی اصولوں سے وابستگی کا نام ہے، اور یہی استقامت انہیں پختون سیاست میں ایک علامت بناتی ہے۔
عصرِ حاضر میں اس جدوجہد کی نمایاں علامت حاجی غلام احمد بلور ہیں، جنہوں نے عوامی نیشنل پارٹی کی سیاست کو صرف نعروں تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے عملی مزاحمت، قربانی اور عوامی خدمت کا روپ دیا۔ آج عظیم شبیر بلور محض غلام احمد بلور کے نواسے کی حیثیت سے نہیں بلکہ ان کے سیاسی فکر، مزاحمتی روایت اور اصولی سیاست کے وارث کے طور پر سامنے آ رہے ہیں۔ وہ اس وراثت کو ماضی کی یاد نہیں بلکہ حال کی ذمے داری اور مستقبل کی امید بنا کر آگے بڑھا رہے ہیں۔

عظیم شبیر بلور کا اپنے دادا اور بزرگ سیاست دان حاجی غلام احمد بلور کے ہمراہ ایک یادگار تصویر
فوٹو: ابدالؔی
قارئین، عظیم شبیر بلور اُن نوجوان راہ نماؤں میں شامل ہیں جن کی سیاست محض وراثت نہیں بلکہ شعوری انتخاب، فکری وابستگی اور عملی جدوجہد کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے ایک ایسے وقت میں عملی سیاست کا راستہ اختیار کیا جب سیاست ذاتی مفاد، طاقت اور سہولت پسندی کا نام بن چکی ہے۔ اس کے برعکس، عظیم بلور نے اصول، قربانی اور عوامی خدمت کو اپنی سیاست کا محور بنایا اور عوامی نیشنل پارٹی کے اُس کٹھن راستے کا انتخاب کیا جس پر چلنے کے لیے حوصلہ، استقامت اور نظریاتی وابستگی درکار ہوتی ہے۔

عظیم شبیر بلور کا عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان کے ہمراہ ایک یادگار عکس
فوٹو: ابدالؔی
عظیم شبیر بلور کی زندگی کا آغاز ہی ایک بڑے امتحان سے ہوا۔ ان کے والد شبیر احمد بلور 1996ء میں دہشت گردی کا نشانہ بنے، اُس وقت عظیم بلور کی عمر محض چالیس دن تھی۔ یہ سانحہ صرف ایک خاندان کا دکھ نہیں تھا بلکہ پختون سیاست اور اصولی جدوجہد کے لیے ایک گہرا زخم تھا۔ مگر وقت نے ثابت کیا کہ یہ زخم خوف یا پسپائی کا باعث نہیں بنا، بلکہ عزم اور حوصلے کی بنیاد بن گیا۔ عظیم بلور نے مایوسی کے بہ جائے جدوجہد کا راستہ چنا اور یہ واضح کیا کہ حقیقی قیادت مشکلات سے جنم لیتی ہے، سہولتوں سے نہیں۔

عظیم شبیر بلور کا اپنے والد شہید شبیر بلور کے ساتھ بچپن کی ایک نایاب تصویر
فوٹو: ابدالؔی
اگرچہ عظیم بلور کا تعلق ایک معروف سیاسی و کاروباری خاندان سے ہے، مگر انہوں نے اس نسبت کو سہولت کے بہ جائے ذمہ داری سمجھا۔ بلور خاندان کا حوالہ یہاں محض اس لیے ضروری ہے کہ اس خاندان نے ہمیشہ سیاست کو دولت بڑھانے کے بہ جائے عوامی خدمت کا ذریعہ بنایا۔ غلام احمد بلور اور ان کے بعد آنے والی نسلوں نے جو قربانیاں دیں، عظیم بلور انہیں وراثت نہیں بلکہ امانت سمجھتے ہیں۔ ایک ایسی امانت جسے عوامی خدمت اور اصولی سیاست کے ذریعے آگے بڑھانا لازم ہے۔ کیوں کہ بلور خاندان کی قربانیوں کی داستان صرف نظریات تک محدود نہیں بلکہ خون اور قید و بند کی عملی تاریخ سے جڑی ہوئی ہے۔ 2012ء میں عوامی نیشنل پارٹی کے سینئر رہنما اور پختون سیاست کی مضبوط آواز بشیر احمد بلور ایک خودکش دہشت گرد حملے میں شہید ہوئے۔ یہ حملہ دراصل اصولی سیاست، عدمِ تشدد اور جمہوری جدوجہد پر کیا گیا حملہ تھا۔ اس سانحے کے باوجود بلور خاندان نہ جھکا اور نہ پیچھے ہٹا۔ اسی تسلسل میں 2018ء میں بشیر بلور کے صاحب زادے ہارون بشیر بلور بھی انتخابی مہم کے دوران ميں دہشت گردی کا نشانہ بنے اور شہادت کا رتبہ پایا۔ یوں باپ اور بیٹے نے ایک ہی نظریے اور ایک ہی سیاسی راستے پر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔

شہیدِ امن بشیر احمد بلور عظیم شبیر بلور سے پیار کرتے ہوئے
فوٹو: ابدالؔی
دوسری جانب بلور خاندان کی جدوجہد صرف شہادتوں تک محدود نہیں رہی بلکہ قید و بند کی صعوبتیں بھی اس تاریخ کا حصہ ہیں۔ غلام احمد بلور، بشیر احمد بلور (شہید) اور الیاس احمد بلور (مرحوم) نے مختلف ادوار میں باچا خان اور ان کے سیاسی جانشین ولی خان اور پھر اسفندیار ولی خان کے ساتھ جیلیں کاٹیں، آمریتوں کے جبر کو برداشت کیا اور عدمِ تشدد، جمہوریت اور پختون حقوق کی سیاست پر ثابت قدم رہے۔ یہی قربانیاں بلور خاندان کو محض ایک سیاسی خانوادہ نہیں بلکہ ایک نظریاتی استقامت کی علامت بناتی ہیں۔

عظیم شبیر بلور، بلور خاندان کی تیسری نسل کے نمائندے، عوامی نیشنل پارٹی کے ساتھ اپنی وفاداری برقرار رکھتے ہوئے مرکزی سیکرٹری برائے یوتھ کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
فوٹو: ابدالؔی
قارئین، عظیم شبیر بلور اگر چاہیں، تو ایک پُرسکون اور پُرتعیش زندگی اختیار کر سکتے ہیں، مگر انہوں نے جان بوجھ کر وہ راستہ چنا جس پر خطرات اور آزمائشیں ہیں۔ عملی سیاست میں ان کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ سیاست کو اقتدار کا زینہ نہیں بلکہ عوامی مسائل کے حل کا مؤثر ذریعہ سمجھتے ہیں۔ تعلیم، صحت، نوجوانوں کے مسائل اور خواتین کی سماجی ترقی جیسے شعبے ان کی سیاسی ترجیحات میں نمایاں ہیں۔

عظیم شبیر بلور اپنے دادا غلام احمد بلور کے ہمراہ صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے ایوانِ صدر اسلام آباد میں ملاقات کر رہے ہیں۔
فوٹو: ابدالؔی
عظیم بلور کی سیاست کی سب سے بڑی طاقت ان کا خوف سے آزاد ہونا ہے۔ دہشت گردی، ذاتی نقصان اور مسلسل خطرات کے باوجود ان کا پیچھے نہ ہٹنا اس امر کی دلیل ہے کہ وہ محض ایک نام نہیں بلکہ ایک نظریہ بن کر سامنے آ رہے ہیں۔ وہ نوجوانوں کے لیے یہ پیغام رکھتے ہیں کہ سیاست میں آنے کے لیے صرف وسائل یا تعلقات کافی نہیں ہوتے، بلکہ قربانی، اصول پسندی اور عوام سے وابستگی لازمی شرط ہے۔

عظیم شبیر بلور وزیرِ اعظم میاں محمد شہباز شریف سے ملاقات کر رہے ہیں۔
فوٹو: ابدالؔی
آج عظیم شبیر بلور نہ صرف عوامی نیشنل پارٹی کی نوجوان قیادت میں ایک نمایاں نام ہیں بلکہ پختون سیاست میں اصولی تسلسل کی امید بھی ہیں۔ ان کی جدوجہد اس بات کی یاد دہانی ہے کہ حقیقی سیاست وہی ہے جو ذاتی مفاد سے بالاتر ہو، اور حقیقی راہ نما وہی ہے جو خطرات کے باوجود عوام کے ساتھ کھڑا رہے۔
قارئین، عظیم شبیر بلور اس نسل کی نمائندگی کرتے ہیں جو یہ ثابت کر رہی ہے کہ قربانی، اصول اور خدمت کی سیاست کبھی پرانی نہیں ہوتی۔ اگر نوجوان قیادت میں حوصلہ اور نظریہ زندہ ہو، تو وہ نہ صرف اپنے خاندان کی تاریخ کو وقار کے ساتھ آگے بڑھا سکتی ہے بلکہ پورے معاشرے کے لیے امید کی نئی راہیں بھی روشن کر سکتی ہے۔
_______________________________
ابدالى انتظامیہ کا لکھاری سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شایع کروانا چاہتے ہیں، تو اُسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ
ahabdali944@gmail.com پر اِی میل کر دیجئے۔ تحریر شایع کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔