وینزویلا، جدید استعمار کے مقابل ایک خود مختار ریاست

وینزویلا (Venezuela) ایک آزاد اور خودمختار ریاست ہے جو عین امریکہ کی ناک کے نیچے واقع ہونے کے باوجود کبھی امریکی بالادستی کو دل سے قبول نہ کر سکی۔ یہ محض جغرافیائی قربت کا انکار نہیں بلکہ ایک نظریاتی مزاحمت کی علامت ہے۔ تیل کی بے پناہ قدرتی دولت سے مالا مال یہ ملک اس بنیادی اصول پر قائم رہا ہے کہ ریاستی وسائل کسی مخصوص طبقے، ملٹی نیشنل کارپوریشنوں یا بیرونی طاقتوں کی جاگیر نہیں بلکہ عوام کی اجتماعی ملکیت ہوتے ہیں۔ یہی وہ اصول ہے جو وینزویلا کو عالمی سرمایہ دارانہ نظام کی آنکھ میں کھٹکتا ہے۔
یہاں ریاست، امریکہ اور یورپی ممالک کی کارپوریشنوں کے ساتھ مل کر اپنے ہی عوام کا استحصال نہیں کرتی، بلکہ کم از کم نظریاتی سطح پر عوام کو ریاست کا اصل وارث تسلیم کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وینزویلا اور کیوبا اس پورے خطے میں شاید وہ واحد ممالک ہیں جہاں علاج معالجے کے عوض پیسے لینا باقاعدہ ایک جرم سمجھا جاتا ہے۔ صحت اور تعلیم کو منڈی کی جنس بنانے کے بہ جائے بنیادی انسانی حق تصور کیا جاتا ہے، اور یہی تصور جدید سرمایہ دارانہ تہذیب کے لیے ناقابلِ برداشت ہے، کیوں کہ یہاں انسان نہیں بلکہ منافع اصل قدر سمجھا جاتا ہے۔
وینزویلا پر ہونے والا ہر دباؤ، ہر پابندی اور ہر سازش دراصل جدید استعماریت کے اس بھیانک اور بے نقاب چہرے کی عکاسی ہے جو اب بندوق سے کم اور معیشت، میڈیا، سفارتی تنہائی اور اخلاقی نعروں کے ذریعے زیادہ حملہ آور ہوتا ہے۔ انسانی حقوق، جمہوریت اور آزادی کے خوش نما الفاظ اب محض ہتھیار بن چکے ہیں، جن کے پیچھے اصل ہدف وہی پرانا ہے یعنی وسائل پر قبضہ، ریاستی فیصلوں پر اجارہ داری اور آزاد قوموں کی سیاسی ریڑھ کی ہڈی توڑ دینا۔
اندھی طاقت اور بے لگام عسکریت کے زور پر، عراق اور افغانستان کے بعد اب وینزویلا کو بھی "مہذب” بنانے کا منصوبہ ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ اس بار بہ راہِ راست فوجی یلغار سے پہلے معاشی گلا گھونٹا جائے گا، کرنسی کو غیر مستحکم کیا جائے گا، عوامی بے چینی کو ہوا دی جائے گی، داخلی انتشار پیدا کیا جائے گا اور پھر نجات دہندہ بن کر داخل ہوا جائے گا۔ یہ وہی آزمودہ نسخہ ہے جو پہلے بھی بارہا استعمال ہو چکا ہے۔
اس مہذب بنانے کے عمل میں وینزویلا کے بچے اب امپورٹڈ چاکلیٹ کھائیں گے، غیر ملکی شیمپو اور صابن استعمال کریں گے، منرل واٹر پئیں گے اور کوک و پیپسی سے اپنی پیاس بجھائیں گے۔ مقامی ثقافت، مقامی پیداوار اور قومی خودداری کو پسماندگی کا لیبل لگا کر دفن کر دیا جائے گا۔ یوں ہر سال اربوں ڈالر عالمی کارپوریشنیں سمیٹ کر لے جائیں گی، مقامی صنعتیں تباہ ہوں گی، ریاستی خود مختاری محض آئینی کتابوں تک محدود ہو کر رہ جائے گی، اور بدلے میں عوام کو "ترقی یافتہ” اور "تہذیب یافتہ” ہونے کا تمغہ عطا کر دیا جائے گا۔
یہ وہی تمغہ ہے جو بغداد، کابل اور طرابلس کو بھی ملا تھا جس کے نیچے لاشیں، غربت، خانہ جنگی، پناہ گزین کیمپ اور مسلسل عدمِ استحکام دفن ہیں۔ اگر یہی ترقی ہے، تو پھر بربادی کسے کہتے ہیں؟
یہاں ایک بنیادی سوال پوری انسانیت کے سامنے کھڑا ہے کہ اگر دنیا میں واقعی کوئی عالمی قانون، کوئی اقوامِ متحدہ، کوئی عالمی ضابطہ موجود ہے، تو پھر امریکہ اس سے مبرا کیوں ہے؟ کیوں اس کے حملے "احتیاطی دفاع” کہلاتے ہیں، اس کی پابندیاں "اخلاقی ذمے داری” سمجھی جاتی ہیں، اور اس کی مداخلت "عالمی امن” کے نام پر جائز ٹھہرتی ہے؟ کیا عالمی قانون صرف کم زور ممالک کے لیے ہے اور طاقتور ریاستیں اس کی تشریح بھی خود کریں گی اور نفاذ بھی؟
اصل سوال یہ نہیں کہ وینزویلا میں مسائل ہیں یا نہیں، اصل سوال یہ ہے کہ کیا کسی قوم کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنے مسائل خود حل کرے؟ کیا خود مختاری صرف انہی ممالک کا استحقاق ہے جو عالمی سرمایہ داری کے آگے سرِ تسلیم خم کر دیں؟ وینزویلا کی کہانی دراصل ہر اس ریاست کی کہانی ہے جو اپنے وسائل، اپنی سیاست اور اپنی ترجیحات پر خود اختیار چاہتی ہے۔ اور یہی جرم، جدید استعمار کے نزدیک، سب سے ناقابلِ معافی جرم ہے۔
دنیا کو آج مزید جنگوں، پابندیوں اور تباہی کی نہیں بلکہ انصاف، برابری اور خود مختاری کے احترام کی ضرورت ہے۔ امن بمباری، پابندیوں اور معاشی گلا گھونٹنے سے نہیں آتا بلکہ امن اُس وقت جنم لیتا ہے جب طاقتور بھی قانون کے تابع ہوں اور کم زور کو اپنی راہ خود چننے کا حق حاصل ہو۔ اگر واقعی عالمی امن مقصود ہے، تو وینزویلا سمیت ہر قوم کو یہ حق دینا ہوگا کہ وہ اپنی تقدیر کا فیصلہ خود کرے، بغیر دھمکی، بغیر مداخلت اور بغیر "مہذب” بنانے کے نام پر مسلط کی جانے والی تباہی کے۔
__________________________________
ابدالى انتظامیہ کا لکھاری سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شایع کروانا چاہتے ہیں، تو اُسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ ahabdali944@gmail.com پر اِی میل کر دیجئے۔ تحریر شایع کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔