برِصغیر کی سیاست میں کچھ روایتیں ایسی ہوتی ہیں جو وقتی شور میں دب تو جاتی ہیں، مگر ختم نہیں ہوتیں۔ یہ وہ روایتیں ہیں جو اقتدار کی نہیں، اقدار کی پاسبانی کرتی ہیں جو طاقت کے سرچشمے کو بندوق یا ریاستی جبر میں نہیں بلکہ اخلاق، کردار اور عوامی اعتماد میں تلاش کرتی ہیں۔ عدمِ تشدد، انسانی وقار، سماجی انصاف اور جمہوری مزاحمت پر مبنی یہ سیاسی فکر خان عبدالغفار خان (باچاخان)، مہاتما گاندھی اور بعد ازاں جنوبی ایشیا کی ترقی پسند سیاست کے ذریعے ایک مضبوط فکری دھارے کی صورت میں سامنے آئی۔
آج، جب سیاست اکثر مفاد، مصلحت اور طاقت کے گرد گھومتی دکھائی دیتی ہے، اس روایت کا زندہ رہنا کسی معجزے سے کم نہیں۔ سلیم خان ایڈووکیٹ اسی معجزے کا ایک معاصر اور عملی اظہار ہیں۔ ایک ایسی شخصیت جو ماضی کی عظیم اخلاقی سیاست کو حال کے زمینی حقائق سے جوڑتی ہے۔
برِصغیر کی سیاسی تاریخ میں ایک واضح مگر کم زور پڑتی ہوئی روایت موجود رہی ہے۔ وہ سیاست جو طاقت کے بہ جائے اخلاقی جواز سے جنم لیتی ہے، جو تشدد کے مقابلے میں عدمِ تشدد کو اختیار کرتی ہے، اور جو ریاست کے بہ جائے انسان کو مرکز بناتی ہے۔ اس روایت کے نمایاں نام باچا خان، مہاتما گاندھی اور بعد ازاں جنوبی ایشیا کی بائیں بازو کی ترقی پسند سیاست ہیں۔ سلیم خان ایڈووکیٹ اسی فکری تسلسل کا ایک معاصر اور زندہ اظہار ہیں۔
باچا خان اور گاندھی کی سیاست کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ طاقت صرف بندوق یا ریاستی جبر میں نہیں بلکہ کردار، قربانی اور عوامی اعتماد میں مضمر ہوتی ہے۔ خدائی خدمت گاری اور ستیاگرہ، اگرچہ مختلف تہذیبی پس منظر رکھتے ہیں، مگر دونوں کا اخلاقی مرکز ایک ہے۔ انسان دوستی، سچائی اور ظلم کے سامنے ثابت قدمی۔
سلیم خان ایڈووکیٹ کی سیاسی فکر اسی اخلاقی مرکز سے جنم لیتی ہے۔ پنج پیر، ضلع صوابی میں منصور خان بابا کے گھر آنکھ کھولنے والے سلیم خان ایڈووکیٹ ایک ایسے ماحول میں پروان چڑھے جہاں سیاست کو اقتدار نہیں بلکہ خدمت، جواب دہی اور اجتماعی ذمے داری سمجھا جاتا تھا۔ یہ وہی تصورِ سیاست ہے جو باچا خان نے پختون معاشرے میں متعارف کرایا اور جسے بعد ازاں ترقی پسند سیاست نے طبقاتی اور جمہوری تناظر میں آگے بڑھایا۔

سلیم خان ایڈووکیٹ عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہ نما اور سابق وزیرِ اعلا خیبر پختون خوا امیر حیدر خان ہوتی سے ایک محفل دوران میں محوِ گفتگو ہیں۔
فوٹو: ابدالؔی
گاندھی اور باچا خان دونوں کے نزدیک خاموشی غیر جانب داری نہیں بلکہ اکثر ظلم کی تائید بن جاتی ہے۔ سلیم خان ایڈووکیٹ کا سیاسی مزاج بھی اسی تصور سے ہم آہنگ ہے۔ ان کے نزدیک سیاست اُس وقت بے معنی ہو جاتی ہے جب وہ کم زور، محکوم اور بے آواز کے حق میں آواز بلند نہ کرے۔
جو ظلم کے نظام کو چیلنج نہ کرے
وہ خاموشی بھی جرم میں شامل ہے
یہی وہ نکتہ ہے جہاں سلیم خان ایڈووکیٹ، باچا خان اور گاندھی روایت سے نکل کر بائیں بازو کی ترقی پسند سیاست سے جڑتے ہیں۔ جنوبی ایشیا کی ترقی پسند تحریکوں خواہ وہ فیض کی شاعری ہو، ولی خان کی سیاست ہو یا مزدور تحریکیں، نے ہمیشہ اس اصول کو دہرایا کہ غیر منصفانہ نظام کے سامنے خاموش رہنا خود ایک سیاسی فعل ہے۔
سلیم خان ایڈووکیٹ کی سیاست کی ایک نمایاں خصوصیت اس کا عوامی جغرافیہ ہے۔ وہ ایوانوں سے زیادہ گاؤں، حجروں اور بیٹھکوں میں پہچانے جاتے ہیں۔ یہ وصف انہیں گاندھی کی گاؤں مرکز سیاست اور باچا خان کی عوامی خدمت سے بہ راہِ راست جوڑتا ہے۔ جنوبی ایشیائی ترقی پسند سیاست ہمیشہ (Grounded politics) رہی ہے یعنی وہ سیاست جو عوام کے درمیان سانس لیتی ہے، نہ کہ صرف پارلیمان کی فضا میں۔
اگرچہ وہ ایک مؤثر اور سحر انگیز مقرر ہیں، مگر ان کی سیاست کی اصل طاقت خطابت نہیں بلکہ عملی اخلاقیات ہیں۔ یہی وہ اصول ہے جسے گاندھی نے (Truth in action) اور باچا خان نے (Service as resistance) کے طور پر بیان کیا۔
جو کہہ دیا وہ کر دکھایا، یہی ہے مردِ عمل
وگرنہ لفظ تو بازار میں سستے بھی بہت
عوامی نیشنل پارٹی کے پلیٹ فارم سے خیبر پختون خوا اسمبلی کی رکنیت اور بعد ازاں صوبائی جنرل سیکریٹری کا منصب اس بات کا ثبوت ہے کہ اصولی سیاست اگر عوامی خدمت سے جڑی رہے، تو وہ انتخابی سیاست میں بھی جگہ بنا سکتی ہے۔ سلیم خان ایڈووکیٹ نے ان مناصب کو طاقت کے اظہار کے بہ جائے عوامی امانت کے طور پر نبھایا جو بائیں بازو کی سیاسی اخلاقیات کا بنیادی تقاضا ہے۔
یہ منصب و جاہ نہیں، امانت ہے عوام کی
جو ڈٹ کے نبھا دے، وہی رہ نما کہلائے
باچاخان، گاندھی اور ترقی پسند سیاست، تینوں کو ریاستی جبر، قید و بند اور دھمکیوں کا سامنا رہا۔ سلیم خان ایڈووکیٹ کی زندگی بھی اسی تاریخی تسلسل کی عکاس ہے۔ جان لیوا دھمکیاں اور قید و بند کی صعوبتیں ان کے لیے اجنبی نہیں، مگر انہوں نے کبھی عدمِ تشدد، جمہوریت اور انسانی وقار کے اصولوں سے انحراف نہیں کیا۔ یہی استقامت اس روایت کی اصل طاقت ہے۔
ڈرانے والے بہت تھے، مگر ڈر نہ سکے
ہم نے حق چھوڑ دیا ہوتا، تو گھر نہ سکے
آج پچہتر برس کی عمر میں بھی سلیم خان ایڈووکیٹ اس حقیقت کا ثبوت ہیں کہ باچاخان، گاندھی اور ترقی پسند روایت کوئی تاریخی یادگار نہیں بلکہ ایک زندہ سیاسی امکان ہے۔ وہ نئی نسل کے لیے یہ پیغام ہیں کہ سیاست اگر اخلاقی بنیادوں پر استوار ہو، تو وہ عمر، جبر اور وقتی ناکامیوں سے بالاتر ہو جاتی ہے۔
قارئین، سلیم خان ایڈووکیٹ محض ایک فرد یا سیاسی کارکن نہیں، بلکہ اس فکری تسلسل کی علامت ہیں جو پنج پیر جیسے چھوٹے گاؤں سے اُٹھ کر برِصغیر کی اس عظیم روایت سے جڑتا ہے جہاں سیاست طاقت نہیں بلکہ ضمیر کا نام ہے۔ ان کی زندگی اس سوال کا عملی جواب ہے کہ کیا اصولی، عدمِ تشدد پر مبنی اور عوام دوست سیاست آج کے دور میں ممکن ہے…؟ جواب ہے ہاں! اگر نیت، کردار اور استقامت زندہ ہوں۔
عمر نے انہیں تھکایا نہیں، بلکہ مقصد نے جگا رکھا ہے۔ یہی وہ سیاست ہے جو باچا خان کے عدمِ تشدد، گاندھی کی سچائی اور ترقی پسند تحریک کے سماجی انصاف کو ایک ہی فکری دھارے میں سمو دیتی ہے اور یہی اس تسلسل کی اصل معنویت اور ہماری اجتماعی اُمید ہے۔
_______________________________
ابدالى انتظامیہ کا لکھاری سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شایع کروانا چاہتے ہیں، تو اُسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ ahabdali944@gmail.com پر اِی میل کر دیجئے۔ تحریر شایع کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔
