سینیٹر حاجی محمد عدیل عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے سینئر رہ نما، پارلیمنٹیرین اور عدمِ تشدد پر مبنی سیاست کے مضبوط علم بردار تھے۔ ان کی پیدائش 1940ء میں پشاور کے ایک معزز ہندکو بولنے والے خاندان اور سیاسی طور پر بیدار گھرانے میں ہوئی۔ ان کے والد حکیم عبدالجلیل نہ صرف ایک معروف حکیم تھے بلکہ برطانوی دور میں باچا خان کے خدائی خدمت گار (Khudai Khidmatgar) تحریک کے سرگرم کارکن اور آل انڈیا کانگریس کے روحِ رواں رہ چکے تھے۔ ان کی والد کی حرکات نے حاجی عدیل کے اندر قومیت، عدمِ تشدد اور قومی خدمت کے جذبے کو پروان چڑھایا جس کا اثر حاجی عدیل کی فکر و عمل میں نمایاں رہا۔
موصوف نے ایڈورڈز کالج پشاور سے تعلیم حاصل کی۔ نوجوانی میں ہی ان کے اندر ثقافتی اور فنون لطیفہ کے لیے گہرا رجحان بھی نمایاں تھا۔ وہ بعد میں اس شوق کو بھی سیاسی بصیرت کے ساتھ جوڑتے رہے اور اباسین آرٹس کونسل جیسے اداروں کے ساتھ وابستہ رہے۔ عملی سیاست میں قدم رکھتے ہی صوبائی حقوق، جمہوریت اور سماجی انصاف کو اپنا نصب العین بنایا۔ وہ تین مرتبہ خیبر پختون خوا اسمبلی کے رُکن منتخب ہوئے اور صوبائی وزیرِ خزانہ اور بعد ازاں ڈپٹی اسپیکر کے منصب پر فائز رہے۔
2009ء میں وہ سینیٹ آف پاکستان کے ممبر منتخب ہوئے اور 2015ء تک ایوانِ بالا میں خدمات انجام دیں۔ سینیٹ میں انہوں نے خارجہ امور، مالیات، دفاع اور پارلیمانی اصلاحات سے متعلق اہم کمیٹیوں میں کردار ادا کیا۔ بہ طورِ پارلیمانی لیڈر (ANP) ان کی تقاریر صوبائی خود مختاری، این ایف سی ایوارڈ، امن اور جمہوری اقدار کے گرد گھومتی رہیں۔

سینیٹر عدیل جیسے صاحبِ بصیرت اور اصول پسند سیاست دان نے اپنی پوری زندگی دمِ آخر تک، خدائی خدمت گار تحریک کے فکری و عملی تسلسل یعنی عوامی نیشنل پارٹی کے ساتھ وفاداری کے ساتھ گزاری۔
فوٹو: انعام ازل آفریدی
قارئین، پاکستانی سیاست میں کچھ نام شور سے نہیں بلکہ وقار سے پہچانے جاتے ہیں۔ سینیٹر حاجی محمد عدیل بھی انہی میں سے ایک تھے۔ ایک ایسے رہ نما جنہوں نے سیاست کو طاقت کا کھیل نہیں بلکہ خدمت، دلیل اور اصول کا میدان سمجھا۔ ان کی سیاست کی جڑیں عدمِ تشدد، جمہوریت اور صوبائی حقوق میں پیوست تھیں اور یہی اوصاف انہیں ہنگامہ خیز سیاست میں بھی ممتاز کرتے ہیں۔
حاجی عدیل کا فکری ورثہ خدائی خدمت گار تحریک سے جڑا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے طاقت کے استعمال کے بہ جائے پارلیمانی راستے، مکالمے اور آئینی جدوجہد کو ترجیح دی۔ صوبائی اسمبلی سے لے کر سینیٹ تک، ان کی گفتگو میں شائستگی اور موقف میں استقامت نمایاں رہی۔ وہ اختلاف کرتے تھے، مگر تلخی کے بغیر اور یہی جمہوری سیاست کا حسن ہے۔
بہ طورِ صوبائی وزیرِ خزانہ اور ڈپٹی سپیکر صوبائی اسمبلی، انہوں نے ادارہ جاتی نظم و ضبط اور مالی شفافیت پر زور دیا۔ سینیٹ میں ان کا سب سے نمایاں کردار صوبائی وسائل کے منصفانہ بٹوارے اور این ایف سی ایوارڈ کے حوالے سے سامنے آیا۔ خیبر پختون خوا کے لیے وسائل کے حصول میں ان کی مسلسل آواز نے عملی نتائج پیدا کیے جو محض نعرہ نہیں، پالیسی سیاست کی مثال ہے۔

حاجی عدیل اگرچہ میڈیا کی چکاچوند سے دور رہے، مگر پارلیمانی کمیٹیوں، اندرونی مشاورت اور آئینی مباحث میں ان کی رائے کو سنجیدگی سے سنا جاتا تھا۔ 18ویں آئینی ترمیم کی منظوری میں جو قومی اتفاقِ رائے پیدا ہوا، اس کے پس منظر میں حاجی عدیل جیسے اصولی اور ثابت قدم سیاست دانوں کی محنت شامل ہے۔ کیوں کہ موصوف اُن سیاست دانوں میں شامل تھے جنہوں نے اس ترمیم کو محض ایک قانونی مسودہ نہیں بلکہ صوبائی خود مختاری، جمہوری تسلسل اور وفاقی توازن کا سوال سمجھا۔
فوٹو: ابدالؔی
حاجی عدیل کی سیاست کا ایک کم ذکر ہونے والا مگر اہم پہلو ثقافت اور فنونِ لطیفہ سے وابستگی ہے۔ وہ سمجھتے تھے کہ معاشروں کی تعمیر صرف قانون سازی سے نہیں، بلکہ ثقافتی شعور سے بھی ہوتی ہے۔ یہی توازن انہیں محض سیاست دان نہیں، ایک وسیع النظر سماجی رہ نما بناتا ہے۔ آج جب سیاست شور، الزام تراشی اور وقتی مفاد کی نذر دکھائی دیتی ہے، حاجی محمد عدیل کی یاد ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اصول پسندی دیرپا سرمایہ ہوتی ہے۔ وہ اقتدار کی دوڑ میں نہیں، اقدار کی حفاظت میں جیتے رہے۔ ان کا نام اس لیے زندہ ہے کہ انہوں نے سیاست میں انسانیت، شائستگی اور آئین کو مرکز بنایا۔
قارئین، قوموں کو آگے بڑھانے کے لیے تیز آوازیں نہیں بلکہ ٹھوس اصول درکار ہوتے ہیں۔ حاجی محمد عدیل کی زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ اگر نیت صاف اور راستہ آئینی ہو، تو خاموش جدوجہد بھی تاریخ بن جاتی ہے۔ یہ خاموش مگر توانا آواز 18 نومبر 2016ء کو انتقال کرگئے جس پر پاکستان بھر میں سیاسی و سماجی حلقوں نے افسوس اور تعزیت کا اظہار کیا۔ ان کی یاد میں ہر سال برسی کے مواقع پر سیاسی کارکن اور عوام اپنے احترام کا اظہار کرتے ہیں، جو ان کی قومی اور علاقائی خدمات کا اعتراف ہے۔ کیوں کہ موصوف کی زندگی نہ صرف ایک سیاسی سفر تھی بلکہ عوام کی خدمت، عدم تشدد، صوبائی حقوق اور جمہوری اقدار کے ساتھ ایک مستند وابستگی تھی۔ وہ ایک ایسے رہ نما تھے جنہوں نے سیاست کو صرف اقتدار کا ذریعہ نہیں بلکہ عوامی فلاح و بہبود، شفاف نظام اور قومی مساوات کے فروغ کا ایک مضبوط آلہ بنایا۔ ان کی خدمات آج بھی پاکستان کی سیاسی تاریخ میں مثبت، اصولی اور قابلِ احترام مقام رکھتی ہیں۔ جاتے جاتے بس یہی دعا ہے کہ اللہ تعالا اُن کو جنت الفردوس میں اعلا مقام عطا فرمائے، آمین۔
___________________________
ابدالى انتظامیہ کا لکھاری سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شایع کروانا چاہتے ہیں، تو اُسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ
ahabdali944@gmail.com پر اِی میل کر دیجئے۔ تحریر شایع کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔