عوامی نیشنل پارٹی سے تعلق رکھنے والے ضلع صوابی کے معروف شخصیت عظیم خان یوسف زئی نظریاتی جدوجہد، عوامی خدمت اور شخصی و جمہوری آزادیوں کے لیے استقامت کی زندہ علامت ہیں۔ اپنی ثابت قدمی، بے لوث خدمت اور اصولی سیاست کے باعث انہوں نے عوام کے دلوں میں ایک باوقار اور مستحکم مقام حاصل کیا ہے۔ وہ اُن چند لوگوں میں سے ہیں جن کے قول و فعل میں تضاد نہیں بلکہ ہم آہنگی نظر آتی ہے۔
ان کا تعلق ضلع صوابی کی زرخیز تحصیل رزڑ کے تاریخی گاؤں ڈاگئی سے ہے۔ وہ جناب حکیم خان مرحوم کے فرزندِ ارجمند ہیں۔ ایک ایسی باوقار شخصیت جن کی پوری زندگی سادگی، شرافت اور عوامی خدمت سے عبارت تھی۔ حکیم خان مرحوم کی دی ہوئی اخلاقی تربیت، حق پسندی اور اصولوں پر ثابت قدمی ہی وہ فکری و اخلاقی ورثہ ہے جس نے عظیم خان کو خدائی خدمت گاری، عوامی خدمت اور جمہوری جدوجہد کے راستے پر مضبوطی سے قائم رکھا۔
عظیم خان ابتدا ہی سے ایک نظریاتی انسان رہے ہیں۔ انہوں نے سیاست کو ذاتی مفاد، مالی فائدے یا اقتدار کے حصول کا ذریعہ کبھی نہیں بنایا بلکہ اسے عوامی خدمت، شعور کی بیداری اور مظلوم طبقات کی آواز بننے کے لیے اپنایا۔ ان کی سیاسی زندگی کا ہر مرحلہ محنت، استقامت اور قربانی سے عبارت ہے۔ وہ اُن کارکنوں میں شامل ہیں جو صرف تقریروں یا نعروں تک محدود نہیں بلکہ میدانِ عمل میں نظر آتے ہیں۔ جلسوں، تحریکوں، احتجاجات اور عوامی مسائل میں ہمیشہ پیش پیش رہے ہیں۔
عظیم خان کی جدوجہد کی بنیاد خدائی خدمت گاری کے اس عظیم فلسفے پر استوار ہے جس کی تعلیم بابائے امن خان عبدالغفار خان (باچا خان بابا) نے دی۔ عدمِ تشدد، انسان دوستی، مساوات، رواداری اور خدمتِ خلق، یہ وہ اصول ہیں جنہیں عظیم خان نے محض الفاظ یا نعروں تک محدود نہیں رکھا بلکہ اپنی عملی زندگی کا حصہ بنایا۔ باچا خان بابا کے افکار سے گہرے طور پر متاثر ہو کر انہوں نے نوجوانی ہی سے پختون معاشرے کی اصلاح، تعلیم کے فروغ، سماجی انصاف اور سیاسی شعور کی بیداری کے لیے بھرپور کردار ادا کیا۔
خصوصاً طلبہ کے حقوق کے لیے عظیم خان کی جدوجہد نہایت قابلِ ذکر ہے۔ انہوں نے ہمیشہ نوجوان نسل کو سوال کرنے، شعور حاصل کرنے اور اپنے جائز حقوق کے لیے آواز اُٹھانے کا حوصلہ دیا۔ طلبہ سیاست ہو یا سماجی و سیاسی تحریکیں، عظیم خان ہر اُس پلیٹ فارم پر موجود رہے جہاں ناانصافی، جبر یا استحصال کے خلاف آواز بلند کی جا رہی ہو۔ پختون قوم کے تشخص، حقوق اور باعزت مقام کے لیے ان کی مسلسل کاوشیں تاریخ کے اوراق میں محفوظ رہیں گی۔ کیوں کہ آپ پشت در پشت، اصلی، نسلی اور کٹر خدائی خدمت گار ہیں اور ان کا رشتہ خدائی خدمت گاری سے محض نظریاتی نہیں بلکہ وراثتی، فکری اور عملی ہے۔
ولی باغ جو تحریکِ عدم تشدد، قربانی اور استقامت کی علامت ہے، اس سے آپ کا تعلق کبھی کم زور نہیں پڑا۔ نہ وقت کی گرد اسے ماند کر سکی اور نہ حالات کی سختیوں نے اسے دھندلایا۔
آپ نے ہر دور میں باچا خان بابا کے افکار کو سینے سے لگائے رکھا اور عدمِ تشدد، عوامی خدمت اور حق گوئی کو اپنا شعار بنایا۔ جب بہت سے لوگ مصلحتوں کا شکار ہوئے، تب بھی آپ کی وابستگی ولی باغ کے ساتھ مضبوط رہی۔ نہ اقتدار کی کشش آپ کو جھکا سکی اور نہ جبر و قید و بند کی آزمائشیں آپ کے قدم ڈگمگا سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کی شناخت محض ایک فرد کی نہیں بلکہ ایک تسلسل کی ہے۔ ایک ایسی روایت کی جو نسل در نسل خدائی خدمت گاری، جمہوری اقدار اور عوامی حقوق کے لیے جدوجہد کرتی آئی ہے۔ آپ کا یہ غیر متزلزل تعلق تاریخ میں وفاداری، اصول پسندی اور استقامت کی روشن مثال کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔
قارئین، شخصی و جمہوری آزادیوں کے لیے عظیم خان کی قربانیاں کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ اپنے نظریے پر ثابت قدم رہنے کی پاداش میں انہوں نے قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں، جیل کی سلاخیں دیکھیں، مگر کبھی اپنے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی آمریت، جبر یا ناانصافی نے سر اُٹھایا، عظیم خان ان کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے رہے۔ ان کی یہ قربانیاں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ وہ محض باتوں کے نہیں بلکہ عمل کے انسان ہیں۔
قارئین، عظیم خان کی زندگی اس سچائی کی گواہ ہے کہ نظریاتی سیاست آج بھی زندہ ہے اور زندہ رہ سکتی ہے بہ شرط یہ کہ اس کی بنیاد اصول، قربانی اور عوامی خدمت پر ہو۔ ان کا کردار نوجوان نسل کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ سیاست ذاتی فائدے کا نہیں بلکہ اجتماعی فلاح، شعور اور حق کی جدوجہد کا نام ہے۔ اگر آج کا نوجوان سچائی، استقامت اور خدمت کو اپنا شعار بنا لے تو نہ صرف اپنی پہچان بنا سکتا ہے بلکہ اپنی قوم اور معاشرے کی تقدیر بھی بدل سکتا ہے۔ عظیم خان جیسے لوگ ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ تاریخ وہی بدلتا ہے جو حالات کے آگے نہیں جھکتا بلکہ اصولوں کے ساتھ ڈٹ کر کھڑا رہتا ہے۔
جاتے جاتے بس یہی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ عظیم خان کو اپنی حفاظت اور رہ نمائی میں رکھے، انہیں صحت، حوصلہ اور مزید استقامت عطا فرمائے اور ان کی جدوجہد کو کام یابی سے ہم کنار کرے۔ بلاشبہ ایسے ہی لوگ اقوام کی تاریخ سنوارتے ہیں اور آنے والی نسلوں کے لیے آزادی، شعور اور خدمت کی روشن راہیں ہم وار کرتے ہیں۔
_____________________________
ابدالى انتظامیہ کا لکھاری سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شایع کروانا چاہتے ہیں، تو اُسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ ahabdali944@gmail.com پر اِی میل کر دیجئے۔ تحریر شایع کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔
