سوات کے مرکزی شہر مینگورہ میں امن و امان کے قیام اور دہشت گردی کے خاتمے کے حق میں "سوات قومی جرگہ” نامی غیر سیاسی تنظیم کے زیر اہتمام ایک زبردست احتجاجی مظاہرہ ہوا۔
مینگورہ کے نشاط چوک میں ہونے والے مظاہرے میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں سفید جھنڈے اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے اور دہشت گردی کے خلاف زوردار نعرے بازی بھی کی۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ سوات میں بے امنی برداشت نہیں کی جائے گی کیونکہ آئینِ پاکستان کے تحت شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا حکومت اور ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں کے خلاف فوری کارروائی کرے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے سابق صوبائی وزیر ایوب خان اشاڑی "امن مظاہرے” سے خطاب کر رہے ہیں۔
فوٹو: ابدالؔی

مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے پختون تحفظ مومنٹ (PTM) کے راہ نماؤں کے علاوہ عوامی نیشنل پارٹی کے سابق صوبائی وزیر ایوب خان اشاڑی، پختون خوا نیشنل عوامی پارٹی کے مختیار خان یوسف زئی، پاکستان پیپلز پارٹی کے حیات چٹان، قومی وطن پارٹی کے شیر بہادر زادہ خان، سوات بار کے صدر، اور پاکستان مسلم لیگ (ن) سمیت دیگر سیاسی و سماجی راہ نماؤں نے بھی اظہار خیال کیا۔
مظاہرین اور راہ نماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ سوات میں دیرپا امن کے قیام کے لیے ریاستی ادارے فعال کردار ادا کریں اور دہشت گردی کے تمام عناصر کے خلاف جامع کارروائی کی جائے۔
شیئرکریں: