سربراہ پختون خوا میپ محمود خان اچک زئی عمران خان یا پی ٹی آئی کی محبت میں ان کے ساتھ نہیں کھڑے ہوئے ہیں، یہ بلکل وہی صورت حال ہے جو محمود خان اچک زئی اور نواز شریف کی پارٹی کے درمیان تھی۔ کیوں کہ محمود خان اچک زئی سمجھتے ہیں کہ بلوچستان، پختون خوا اور سندھ مل کر بھی اسٹیبلشمنٹ پر اتنا اثر نہیں ڈال سکتی جو پنجاب کے سیاست دان اکیلے ڈال سکتے ہیں۔
پنجاب کی سیاست کی تاریخی عادت یہ ہے کہ یہ لاٹھی والے کی بھینس بن کر رہنا پسند کرتی ہے۔ نواز شریف نے گزشتہ دور میں تھوڑی سی دم خم دکھائی، تو محمود خان اچک زئی کو لگا کہ پنجاب کے ارتقائی سفر کا وہ مقام پہنچ چکا ہے، جہاں سے اس کے ساتھ مل کر آگے لے جایا جاسکتا ہے۔ اگرچہ اس کی وہ توقع پوری نہیں ہوئی، کیوں کہ پنجاب میں آج بھی ہر نواز کے ساتھ ایک شہباز لگا ہوا ہے۔
لیکن نواز شریف کو میدان میں حمایت مہیا کرنے اور مایوسی ملنے کے باوجود محمود خان اچک زئی اپنی آدرشوں کے ساتھ آج بھی وہی پر کھڑے ہیں، جہاں پی ڈی ایم نے اسے چھوڑا تھا۔ اس دوران میں ان کو پنجاب سے دوسرا مزاحمت کار عمران خان ملا۔ جن کی ہزار تاریخی کوتاہیوں اور میکیاولی سیاست پر مبنی پینتروں کے باوجود اس کی بلنٹنس اور کمٹمنٹ نے محمود خان اچک زئی کو ایک بار پھر حوصلہ دیا کہ وہ آئین کی بحالی، قانون کی حکم رانی، پریس کی آزادی اور انسانی حقوق کی توقیر کی خاطر عمران خان کے تتر بتر ساتھیوں کو ایک سیاسی طاقت میں تبدیل کرکے ان کو مذاکراتی بالادستی دلاتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ کے سامنے کھڑے کردیں۔
محمود خان اچک زئی نے شروع ہی سے یہ مطالبہ کئی بار کئی اجلاسوں میں کیا کہ پی ٹی آئی کو سیاسی جماعتوں کے ساتھ مذاکرات کرنے چاہیے۔ اس مطالبے پر پی ٹی آئی کی لیڈر شپ نے ہمیشہ منفی جواب دیا یا خاموشی اختیار کی۔ اس دوران میں ان کے وہاں مذاکرات جاری رہیں جہاں سے ان کو کھلے عام معافی مانگنے کی آپشن دی گئی۔
محمود خان اچک زئی نے ایک طرف اسمبلی میں اور پھر عام جلسوں اور پریس کانفرنسوں میں عمران خان کی آزادی کا نون لیگ سے کھلم کھلا مطالبہ کیا، تو دوسری طرف پی ٹی آئی کو بھی احساس دلا دیا کہ آپ اپنا رویہ مثبت کریں گے، تو عمران خان کی رہائی ممکن ہوسکتی ہے۔ دوسری طرف پی ٹی آئی کی لیڈر شپ اور کارکنان کے خلاف نت نئے کیسز اور پکڑ دھکڑ بھی جاری رہی۔ رانا ثنا اللہ مذاکرات کی پیش کش پر پیش کش کرتے رہے، تو رفیق تارڑ اور عظمیٰ بخاری اپنی الگ ڈفلیاں بجاتی رہی۔
آخر کار پی ٹی آئی اور عمران خان کو محمود خان اچک زئی کی سیاسی طاقتوں سے مذاکرات اور اس کے پیچھے چھپے ہوئے دانش کی سمجھ آہی گئی اور بیرسٹر گوہر کے ذریعے ان کو اعلان کرنا پڑا کہ محمود خان اچک زئی کو اتحاد کے سربراہ ہونے کی حیثیت سے سیاسی جماعتوں سے مذاکرات کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔
مولانا فضل الرحمان کے علاوہ محمود خان اچک زئی کے نواز شریف کے ساتھ بہت اچھے تعلقات ہیں، تو دوسری طرف آصف علی زرداری کا سیاسی تاریخی کردار دیکھنے کے لیے اٹھارویں آئینی ترمیم اور “کیری لوگر بل” کافی ہے۔ اگر محمود خان اچک زئی نواز شریف، آصف علی زرداری اور مولانا فضل الرحمان کو کسی مشترکہ ایجنڈے پر عمران خان کے ساتھ قائل کر دیتے ہیں، تو یہ اسٹیبلشمنٹ کی بہت بڑی اور تاریخی پسپائی سمجھی جائے گی۔ مطلوبہ متفقہ اور مشترکہ ایجنڈے کی صورت میں تمام جماعتوں کے درمیان ایک نیا “میثاق جمہوریت” (Charter of Democracy) دستخط کیا جاسکتا ہے اور تمام اداروں کو ان کے آئینی کردار تک محدود کیا جاسکتا ہے۔ لیکن مذاکرات کو اس لیول تک پہنچانے کے لیے فریقین کو بہت نازک مقامات اور کھڑے امتحانات سے گزرنا پڑے گا۔ کیوں کہ جمہوری سیاست جس کا اوڑھنا بچھونا ہو، اس کے لیے یہ کوئی غیر معمولی صورت حال نہیں ہونی چاہیے۔
اگر مسلم لیگ (ن) حکومت کی محبت، اپنی مجبوریوں یا کسی بھی پریشر کی بناء پر اس اتحاد کا ساتھ نہیں دے سکتی، تو پھر آگے اس کے لیے ایک اور گہری کھائی موجود ہے۔ بجٹ اور ہتک عزت قانون کے اوقات میں دیکھا گیا کہ پیپلز پارٹی نون لیگ کی “ذاتی قابلیت” کا بوجھ اٹھانے کے لیے بلکل تیار نہیں ہے۔ اگر ن لیگ تیار نہیں ہوتی، جس کی کسی حد تک توقع کی جاسکتی ہے، تو مولانا فضل الرحمان، آصف علی زرداری اور عمران خان کو محمود خان اچک زئی، ایک سیاسی ورکنگ ریلیشن میں متحد کرکے ن لیگ کے پیروں کے نیچے سے حکومتی قالین با آسانی کھینچ سکتا ہے۔
قارئین، اگر سیاسی قوتوں نے محمود خان اچک زئی کو اپنا تاریخی کردار صدق دل سے ادا کرنے دیا، تو شاید یہ آخری بجٹ ہوگی جو ٹیکنوکریٹ پیش کرے گا۔
_______________________
ابدالى انتظامیہ کا لکھاری سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شایع کروانا چاہتے ہیں، تو اُسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ ahabdali944@gmail.com پر اِی میل کر دیجئے۔ تحریر شایع کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔
شیئرکریں: