قارئین، خان عبدالولی خان نے کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے خلاف اپنی شدید مؤقف کا اظہار کرتے ہوئے یہ بیان بھی دیا کہ اگر یہ ڈیم بنایا گیا، تو وہ خود پر بم باندھ کر اس ڈیم کو اُڑا دیں گے۔
اسی تناظر میں معروف صحافی سہیل وڑائچ کے ساتھ ایک انٹرویو میں بیگم نسیم ولی خان نے پارٹی کا موقف واضح کیا کہ "کالا باغ ڈیم بلاشبہ پنجاب کی خوش حالی کو یقینی بناتا ہے، لیکن اس سے چھوٹے صوبوں میں آنے والی ممکنہ تباہی کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ میرے خیال سے کسی کے جنازے پر بارات سجانا مناسب نہیں ہے۔”
لاہور میں مقیم سینئر صحافی اویس غوری کی ریکارڈ شدہ دستاویزی فلم "دی آئرن لیڈی بیگم نسیم ولی خان، اَن ہئیرڈ بائیوگرافی” میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی حکام نے کالا باغ ڈیم کے معاملے پر سودے بازی کے لیے بیگم نسیم ولی خان سے رابطہ کیا اور انہیں ایک ارب روپے کی بھاری رقم پیش کی، لیکن انہوں نے صاف انکار کر دیا۔ ان کے بقول، کالا باغ ڈیم ایک "مردہ گھوڑا” (Dead Horse) ہے اور یہ ان لوگوں کے مقصد کو پورا نہیں کرے گا جن کی وہ نمائندگی کرتی ہیں۔
یہ موقف نہ صرف اے این پی کی علاقائی اور سیاسی حساسیت کو ظاہر کرتا ہے بلکہ اس امر کا بھی ثبوت ہے کہ پارٹی نے ہمیشہ صوبائی مفادات اور عوامی حقوق کو مقدم رکھا۔
