خیبر پختون خوا کی علمی، تعلیمی اور تہذیبی تاریخ میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو محض عہدوں یا مناصب کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنے کردار، خدمات اور آزمائشوں میں استقامت کے باعث یاد رکھی جاتی ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر اجمل خان بھی انہی درخشاں شخصیات میں شمار ہوتے ہیں، جنہوں نے نہ صرف اعلیٰ تعلیمی اداروں کو قیادت فراہم کی بلکہ دہشت گردی جیسے تاریک دور میں علم، حوصلے اور وقار کی شمع روشن رکھی۔
ڈاکٹر اجمل خان صوبہ خیبر پختون خوا کے پہلے وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر خان صاحب کے پوتے تھے۔ وہ 1949ء میں تاریخی قصبے اتمان زئی، چارسدہ میں ڈاکٹر ہدایت اللہ خان کے گھر پیدا ہوئے۔ علمی و فکری وراثت انہیں نسل در نسل منتقل ہوئی، جس کا عملی اظہار ان کی پوری زندگی میں نمایاں نظر آتا ہے۔ ابتدائی تعلیم آرمی برن ہال سکول ایبٹ آباد سے حاصل کی، بعد ازاں میٹرک کا امتحان پشاور بورڈ سے پاس کیا۔ انٹرمیڈیٹ اور بی اے اسلامیہ کالج پشاور سے مکمل کرنے کے بعد 1970ء میں جامعہ پشاور سے ایم اے اکنامکس کی ڈگری حاصل کی، جب کہ 1974ء میں اسی جامعہ سے ایل ایل بی کی سند بھی حاصل کی۔
پروفیسر اجمل خان نے اپنے عملی کیریئر کا باقاعدہ آغاز 1977ء میں اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو (UNESCO) میں بطورِ ایجوکیشنل آفیسر کیا۔ بعد ازاں ایڈورڈز کالج پشاور میں بطورِ لیکچرار خدمات انجام دیں۔ 1979ء میں علامہ اقبال اوپن یونی ورسٹی میں اسسٹنٹ رجسٹرار مقرر ہوئے۔ ان کی انتظامی صلاحیتوں اور تعلیمی بصیرت کا اعتراف اُس وقت ہوا جب وہ 1980ء سے 2002ء تک جامعہ پشاور میں ڈپٹی پرووسٹ، پرووسٹ اور رجسٹرار جیسے اہم عہدوں پر فائز رہے۔ 2002ء میں انہیں اسلامیہ کالج پشاور کا پرنسپل مقرر کیا گیا، جہاں انہوں نے ادارے کی علمی روایت کو مزید مضبوط بنیادیں فراہم کیں۔
2005ء سے 2007ء تک انہوں نے گومل یونی ورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان کے وائس چانسلر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ تاہم ان کی زندگی کا سب سے اہم اور تاریخی مرحلہ 2008ء میں آیا، جب عوامی نیشنل پارٹی کی حکومت نے اسلامیہ کالج کو یونی ورسٹی کا درجہ دیا اور ڈاکٹر اجمل خان کو اس کا پہلا وائس چانسلر منتخب کیا گیا۔ یہ ذمہ داری نہ صرف اعزاز تھی بلکہ ایک عظیم تعلیمی ورثے کو سنبھالنے کا کٹھن امتحان بھی۔
ستمبر 2010ء میں پاکستان دہشت گردی کے بدترین دور سے گزر رہا تھا۔ اسی دوران پشاور یونی ورسٹی روڈ پر واقع پروفیسر کالونی سے یونی ورسٹی جاتے ہوئے پروفیسر اجمل خان کو تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے ان کے ڈرائیور محب اللہ سمیت اغوا کر لیا۔ طالبان نے ان کی رہائی کے بدلے چار طالبان قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ طویل اور صبر آزما قید کے بعد محب اللہ کو 16 ستمبر 2012ء کو ایک طالبان قیدی کی رہائی کے بدلے آزاد کیا گیا، جب کہ پروفیسر اجمل خان کو تین طالبان قیدیوں کے بدلے 28 اگست 2014ء کو رہائی نصیب ہوئی۔ ستمبر 2014ء میں انہوں نے چار سال بعد ایک بار پھر اسلامیہ کالج یونی ورسٹی پشاور کے وائس چانسلر کی حیثیت سے چارج سنبھالا، جو ان کے عزم، حوصلے اور ادارے سے وابستگی کا واضح ثبوت تھا۔
تعلیم کے میدان میں گراں قدر خدمات کے اعتراف میں صدرِ مملکت ممنون حسین نے 2015ء میں پروفیسر ڈاکٹر اجمل خان کو ستارۂ امتیاز سے نوازا۔ یہ اعزاز درحقیقت ان کی پوری زندگی کی علمی جدوجہد، انتظامی خدمات اور قومی استقامت کا اعتراف تھا۔ زندگی کے آخری برسوں میں وہ سرطان جیسے موذی مرض میں مبتلا رہے اور بالآخر 16 اکتوبر 2023ء کو اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔
ڈاکٹر اجمل خان کا شمار اُن شخصیات میں ہوتا ہے جنہوں نے علم کو محض پیشہ نہیں بلکہ عبادت سمجھا۔ ان کی زندگی اس حقیقت کی گواہ ہے کہ علم، صبر اور حوصلہ اگر یکجا ہو جائیں، تو ظلم اور جہالت بھی شکست کھا جاتی ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کی تعلیمی خدمات کو صدقۂ جاریہ بنائے، آمین۔
___________________________________
ابدالی ڈاٹ کام کی انتظامیہ کے لیے یہ لازم نہیں کہ وہ لکھاری کے تمام خیالات سے متفق ہو۔ تمام مضامین کی اشاعت کا مقصد آزادانہ اظہارِ رائے کو فروغ دینا ہے۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو براہِ کرم اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فیس بُک آئی ڈی اور مختصر تعارف کے ساتھ ahabdali944@gmail.com پر ای میل کریں۔ تحریر کی اشاعت یا عدمِ اشاعت کا حتمی اختیار ادارتی بورڈ کے پاس محفوظ ہے۔
شیئرکریں: