قیامِ پاکستان کے وقت خدائی خدمت گار تحریک کے بانی خان عبدالغفار خان المعروف باچا خان کے بڑے بھائی ڈاکٹر خان صاحب صوبۂ سرحد (موجودہ خیبر پختون خوا) کے وزیرِ اعلیٰ تھے۔ مگر یہ حکومت زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی۔ محض آٹھ دن بعد یعنی 22 اگست 1947ء کو قائدِ اعظم محمد علی جناح نے ڈاکٹر خان صاحب کی حکومت برطرف کرتے ہوئے عبدالقیوم خان کو صوبے کا نیا وزیرِ اعلیٰ مقرر کر دیا۔
قارئین، ڈاکٹر خان صاحب پر بنیادی الزام یہ عائد کیا گیا کہ انہوں نے 15 اگست 1947ء کو پاکستان کا قومی پرچم لہرانے کی تقریب میں شرکت نہیں کی، جو مبینہ طور پر ’’ملک سے عدمِ وفاداری‘‘ کا ثبوت قرار دیا گیا۔ یہی الزام بعد ازاں ان کی حکومت کے خاتمے کا جواز بنا۔
تاہم، اس کے پس منظر میں باچا خان اور خدائی خدمت گار تحریک کا ایک اصولی اور سیاسی مؤقف بھی موجود تھا، جسے دانستہ نظرانداز کیا گیا۔ باچا خان کا موقف یہ تھا کہ چونکہ خدائی خدمت گار تحریک کانگریس کی اتحادی تھی اور کانگریس نے برِصغیر کی تقسیم کے فیصلے کو تسلیم کر لیا تھا، اس لیے منطقی طور پر خدائی خدمت گار بھی پاکستان کے قیام کو ایک حقیقت کے طور پر قبول کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک یہ وفاداری کے دعوے نہیں، بلکہ سیاسی اصول اور جمہوری تسلسل کا معاملہ تھا۔
اسی اصولی سوچ کی بنیاد پر باچا خان نے ہندوستان کے بہ جائے پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی میں شمولیت کا فیصلہ کیا۔ یہ فیصلہ محض ایک سیاسی اقدام نہیں تھا، بلکہ اس امر کا اعلان تھا کہ اختلافِ رائے کے باوجود وہ نئے ملک کے آئینی اور جمہوری عمل کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔ مگر افسوس کہ اس سیاسی حقیقت کو غداری کے بیانیے میں بدل کر پیش کیا گیا، جس کے اثرات بعد کی پوری سیاست پر مرتب ہوئے۔

شیئرکریں: