محمد اعظم خان کا تعلق صوبہ خیبر پختون خوا کے ضلع چارسدہ سے ہے۔ ابتدائی تعلیم آبائی گاؤں میں حاصل کی۔ جب کہ پشاور یونی ورسٹی سے قانون کی ڈگری (LLB) حاصل کرنے کے بعد لندن کے لنکنگ کالج سے بیرسٹر کی ڈگری حاصل کی۔ تعلیم سے فراغت کے بعد سول سروسز (CSS) کا امتحان پاس کرکے ڈسٹرکٹ مینجمنٹ گروپ میں شمولیت اختیار کی۔
قارئین، موصوف جس وقت ضلع ہزارہ (خیبر پختون خوا) کے ڈپٹی کمشنر تھے، تو اُس وقت خدائی خدمت گار تحریک کے بانی خان عبدالغفار خان المعروف باچا خان بابا ایبٹ آباد کے ایک ریسٹ ہاؤس میں نظر بندی کی زندگی گزار رہے تھے۔
چارسدہ سے تعلق رکھنے والے سابق چیف سیکرٹری خیبر پختون خوا اعظم خان خیبر پختون خوا کی کم و بیش تمام سرکردہ سیاسی گھرانوں سے قریبی رشتہ داری رکھتے ہیں۔ وہ سابق انسپکٹر جنرل آف پولیس اور سابق نگران صوبائی وزیر عباس خان کے بھائی ہے۔ جب کہ قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ کے کزن ہیں۔ آپ ضلع اٹک پنجاب سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سابق ممبر صوبائی اسمبلی خان زادہ تاج کے داماد ہیں، جو سابق وزیرِ داخلہ پنجاب شجاع خان زادہ کے چچا ہیں۔
سابق آئی جی موٹر وے ظفراللہ خان کے بھائی سابق کمشنر خالد خان، اعظم خان کے ہم زلف ہیں۔ ظفراللہ خان اور خالد خان سابق آئی جی پولیس ڈاکٹر نعیم خان کے ماموں زاد بھائی ہیں۔ سابق آئی جی سکندر محمد زئی بھی خالد خان کے کزن ہیں جن کے صاحب زادے عدنان خان سابق وزیرِ اعلا پرویز خٹک کے داماد ہیں۔
اعظم خان کے بھائی عباس خان کی اہلیہ سابق صوبائی وزیر خواجہ محمد خان ہوتی کی فرسٹ کزن ہیں۔ جب کہ اعظم خان کے ایک بھتیجے عمر شہزاد کی اہلیہ تحریکِ انصاف کے سابق وفاقی وزیر عمر ایوب کی ہمشیرہ ہیں۔ عمر ایوب کی ایک کزن اے این پی کے سابق وفاقی وزیر حاجی غلام احمد بلور کی بہو ہیں۔
اعظم خان کا ایک بھائی محمد عباس خان انسپکٹر جنرل پولیس خیبر پختون خوا رہ چکا ہے۔ عباس خان مفتی محمد عباس کی نگران کابینہ میں وزیر رہے ہیں۔ اعظم خان کے ایک اور بھائی میجر (ر) مختیار احمد خان ایک عرصے تک عوامی نیشنل پارٹی سے منسلک رہے اور اے این پی کے ٹکٹ پر سینیٹر بھی بنے تھے۔ سابقہ اپوزیشن لیڈر اکرم خان درانی کے مطابق اعظم خان کا نام عوامی نیشنل پارٹی نے دیا تھا۔
شیئرکریں: