خیبر پختون خوا کے لہو رنگ دامن سے لے کر بلوچستان کے سلگتے ہوئے ریگزاروں تک اور وادیٔ کشمیر کی سسکتی ہوئی فضاؤں سے لے کر ایوانِ اقتدار کے سنگین دروازوں تک آج ایک ایسا سناٹا طاری ہے جو کسی بھی طوفان سے زیادہ ہولناک ہے۔ لاشوں کے انبار لگ رہے ہیں، انسانیت سسک رہی ہےاور عام انسان بے بسی کی آخری حدوں کو چھو رہا ہے۔ لیکن اس سے بھی بڑا المیہ یہ ہے کہ وہ طبقہ جو معاشرے کا ضمیر کہلاتا تھا جن کے قلم سے سچائی کی چنگاریاں پھوٹتی تھیں آج مصلحت کی چادر اوڑھ کر خاموش ہو چکا ہے۔
آج دورِ حاضر کا ایک نیا فرعون مسندِ اقتدار پر براجمان ہے۔جس کے جاہ و جلال کے آگے سچ بولنا جرمِ ناگفتہ بہ بن چکا ہے۔ نیاور صقراط اور نیاور سقراط بنانے والے یہ حکمران اب اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ قلم کی زبان کھینچ لی جائے تو تاریخ بھی بدل جائے گی۔
آج کا المیہ یہ ہے کہ حب وطن کا پیمانہ بدل چکا ہے:
☆ اب وطن سے محبت کا تقاضا یہ ہے کہ وقت کے جابروں کی مدح سرائی کی جائے۔
☆ اب سچ بولنے والے کو غدار اور ظالم کی تعریف کرنے والے کو "محب وطن” کا سرٹیفکٹ دیا جاتا ہے۔
☆ شعرا اور ادبا جو کبھی ظلم کے سامنے دیوارِ چین بنتے تھے اب درباری بن کر اپنی تخلیقی روح کا سودا کر رہے ہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ ادیب اور شاعر کبھی بھی حکومتوں کے ترجمان نہیں ہوتے ۔ وہ مظلوموں کی آواز ہوتے ہیں۔ فیض احمد فیض، حبیب جالب، اور شیخ احمد جام وغیرہ جیسے باضمیر تخلیق کاروں نے ہمیشہ سولی کو گلے لگایا مگر وقت کے فرعونوں کے سامنے جھکنے سے انکار کیا۔
آج کے شعرا کا یہ رویہ کہ وہ اپنی عافیت کی خاطر خون میں لت پت لاشوں پر خاموشی اختیار کیے بیٹھے ہیں، محض بزدلی نہیں بلکہ فکری غداری ہے۔ اگر شاعر ہی مصلحت کا شکار ہو جائے تو آنے والی نسلیں کس سے سچ سنیں گی؟
"خاموشی بھی ایک جرم ہے اور جب ظلم عام ہو جائے تو غیر جانب دار رہنا ظالم کا ساتھ دینے کے مترادف ہے۔”
یہ وقت قلم کو گروی رکھنے کا نہیں بلکہ اسے تلوار کی طرح استعمال کرنے کا ہے۔ جب تک قلم کار مصلحت کے خول سے باہر نہیں نکلیں گے ظلم کی یہ رات مزید طویل ہوتی چلی جائے گی۔
اب وقت آ گیا ہے کہ شعرا اور ادبا اپنے اندر کے خوف کو بالائے طاق رکھ کر پختونخوا، بلوچستان اور کشمیر کی دکھی انسانیت کے حق میں آواز بلند کریں۔ کیونکہ تاریخ ظالموں کو تو یاد رکھتی ہے ہی لیکن ان نام نہاد دانشوروں کو بھی کبھی معاف نہیں کرتی جو ظلم کے دور میں خاموش تماشائی بنے رہتے ہیں۔
_____________________________
ابدالی ڈاٹ کام کی انتظامیہ کے لیے یہ لازم نہیں کہ وہ لکھاری کے تمام خیالات سے متفق ہو۔ تمام مضامین کی اشاعت کا مقصد آزادانہ اظہارِ رائے کو فروغ دینا ہے۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو براہِ کرم اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فیس بُک آئی ڈی اور مختصر تعارف کے ساتھ ahabdali944@gmail.com پر ای میل کریں۔ تحریر کی اشاعت یا عدمِ اشاعت کا حتمی اختیار ادارتی بورڈ کے پاس محفوظ ہے۔
شیئرکریں: