اکیسویں صدی کو سائنس، ٹیکنالوجی، ابلاغ اور ترقی کی صدی کہا جاتا ہے، مگر اسی کے ساتھ یہ سماجی اقدار، خاندانی نظام اور اخلاقی روایات میں تیز رفتار تبدیلیوں کا بھی استعارہ بن چکی ہے۔ جدید طرزِ زندگی، مادہ پرستی، انفرادیت، سوشل میڈیا (فیس بک، انسٹاگرام، واٹس ایپ، ٹک ٹاک وغیرہ) اور خریداری کے رجحان نے انسان کو سہولیات تو فراہم کی ہیں، لیکن باہمی معاملات، احترام، اخلاقیات اور اجتماعی احساس کو کمزور بھی کیا ہے۔ خاندانی رشتوں میں دوریاں، بزرگوں سے بے اعتنائی، ذہنی دباؤ (Anxiety)، عدم برداشت اور اخلاقی پستی جیسے مسائل اس تبدیلی کے نمایاں مظاہر ہیں۔ اگرچہ ہر معاشرتی تبدیلی منفی نہیں ہوتی، لیکن جب تبدیلی اپنی تہذیبی، ثقافتی اور اخلاقی بنیادوں سے دور ہو جائے تو وہ ایک المیے کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ جدید دور کے تقاضوں کے ساتھ اپنی تہذیبی، ثقافتی، اخلاقی اور انسانی اقدار کو بھی محفوظ رکھا جائے تاکہ ترقی اور تہذیب کے درمیان متوازن تعلق قائم رہ سکے۔
اکیسویں صدی میں اگر معاشرتی ردوبدل کی بات کی جائے تو یہ بات قابلِ غور ہے کہ نئے دور کی نئی مشینری نے انسانوں کو اذیت ناک درجے کی تنہائی تو دی ہے، لیکن معاشرے میں موجود سرمایہ دار طبقے نے غریب عوام کا جینا بھی حرام کر دیا ہے۔ جتنا نقصان مشینری نے انسانوں کو پہنچایا ہے، اس سے کہیں زیادہ اس معاشرے کے بااثر لوگوں نے بھی کیا ہے۔ میں نے المیہ کا لفظ اس لیے بھی استعمال کیا ہے کہ اس معاشرے میں غریب عوام کی قدر نہیں رہی، بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ انسان کی قدر ہی نہیں رہی تو غلط نہ ہوگا، کیونکہ اس معاشرے میں صرف پیسے کی قدر ہے۔ اگر آپ کا کردار، اخلاق اور رویہ جانوروں سے بھی بدتر کیوں نہ ہو، لیکن اگر آپ کے پاس دولت ہے تو یہی دولت آپ کے کردار، اخلاق اور رویے پر اس سفید پردے کا کردار ادا کرتی ہے جس پر کوئی داغ نہ ہو۔ اکیسویں صدی کو اگر المیوں کا ہجوم کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔
اکیسویں صدی میں سرمایہ دار طبقہ سماجی تبدیلی کے اہم محرکات میں شمار ہوتا ہے۔ عالمگیریت اور سرمایہ پر مبنی معاشی نظام نے دولت کو ترقی کا پیمانہ بنا دیا ہے۔ اس کے نتیجے میں معاشرے میں دولت کی غیر مساوی تقسیم اور طبقاتی تفاوت میں اضافہ ہوا ہے۔ سرمایہ دار طبقہ اپنی معاشی قوت کے ذریعے نہ صرف منڈی بلکہ تعلیم، ثقافت، تہذیب اور عوامی رجحانات پر بھی اثر انداز ہوتا ہے، جس کے باعث خریداری کا رجحان، مادہ پرستی اور نمود و نمائش کو فروغ ملتا ہے۔
سرمایہ دارانہ نظام نے انسان کی قدر کو علم، کردار اور اخلاق کے بجائے اس کی مالی حیثیت سے جوڑ رکھا ہے۔ اس کی وجہ سے سماجی انصاف، ہمدردی، مساوات اور اجتماعی ذمہ داری جیسے اوصاف معدوم ہوتے جا رہے ہیں۔ غریب، متوسط اور نچلے طبقات کے لوگ مہنگائی، بے روزگاری اور وسائل کی محدود دستیابی کے باعث مختلف معاشرتی اور نفسیاتی مسائل کا سامنا کرتے ہیں، جس سے معاشرتی بے چینی اور عدم استحکام میں اضافہ ہوتا ہے۔
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ سرمایہ دار طبقہ ہی اس معاشرے کی فلاح اور کامیابی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ جب سرمایہ کاری کو دیانت داری، سماجی ذمہ داری، منصفانہ مزدوری، تعلیم، صحت اور فلاحی منصوبہ بندی کے فروغ کے لیے استعمال کیا جائے تو یہی سرمایہ معاشرے کی ترقی اور خوش حالی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ اس لیے اصل مسئلہ سرمایہ نہیں بلکہ اس کے استعمال کا طریقۂ کار اور معاشی نظام میں منصفانہ تقسیم، انصاف، شفافیت اور جواب دہی کا فقدان ہے۔
میری نظر میں جتنی ترقی اکیسویں صدی میں ہوئی ہے، وہ کسی بھی صدی میں نہیں ہوئی، اور اب بھی ترقی کا معیار بڑھتا جا رہا ہے۔ لیکن ترقی کی ان منازل کو طے کرتے ہوئے انسان اپنی معاشرتی اقدار کیوں کھو رہا ہے؟ اس کی وجہ کیا ہے؟ آخر یہ کب تک چلے گا کہ ترقی کی اس دوڑ میں انسان تنہائی، خود پسندی، انفرادی سوچ اور کرب جیسی بڑی بیماریوں میں مبتلا ہے؟
دنیا ترقی کے میدان میں بہت دور تک پہنچ چکی ہے، لیکن اس ترقی سے انسان کو فائدہ ہے یا نقصان؟ اگر فائدہ ہے تو پھر نئی نسل میں خودکشی جیسے رجحانات کیوں جنم لے رہے ہیں؟ اگر نقصان ہے تو کیوں نقصان ہے، اور اس سے کس طرح چھٹکارا حاصل کیا جا سکتا ہے؟
پرانے زمانے میں یقیناً اتنی ترقی نہیں تھی، لیکن انسانی ہمدردی، انسان دوستی اور پیار و محبت سے بھرے ہوئے رشتے تھے۔ آج جب دنیا ترقی کی راہ پر گامزن ہے تو سب سے پہلے انسان نے اپنے رشتے کھونا شروع کیے۔ ہر دوسرا شخص اپنے رشتہ داروں اور معاشرے کے رہن سہن سے تنگ ہوتا جا رہا ہے، اور اسے اپنی تنہائی اور تنہائی میں رہنا زیادہ اچھا لگتا ہے۔
یہ بات انتہائی قابلِ غور ہے کہ ہم جیسے بھی ہیں، وقت گزار رہے ہیں، لیکن ہمارے بعد آنے والی نسل یہ تنہائی برداشت کر سکے گی یا نہیں؟
_______________________________
ابدالی ڈاٹ کام کی انتظامیہ کے لیے یہ لازم نہیں کہ وہ لکھاری کے تمام خیالات سے متفق ہو۔ تمام مضامین کی اشاعت کا مقصد آزادانہ اظہارِ رائے کو فروغ دینا ہے۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو براہِ کرم اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فیس بُک آئی ڈی اور مختصر تعارف کے ساتھ ahabdali944@gmail.com پر ای میل کریں۔ تحریر کی اشاعت یا عدمِ اشاعت کا حتمی اختیار ادارتی بورڈ کے پاس محفوظ ہے۔