کوہِ مور کے دامن سے ایک صدا بلند ہوئی اور یکایک لوگوں کے درمیان ایک گہری خاموشی چھا گئی۔ قدرت نے صدا بلند کرنے والے کے گلے کو ایسے سوز سے نوازا تھا، جس میں رچاؤ بھی تھا اور جذبوں کا بہاؤ بھی۔ یہ صدا جہاں جہاں تک پھیلتی گئی، لوگ حیران و پریشان ایک دوسرے کو تکتے رہے، بولتے رہے، مگر ایک دوسرے کی بات کو سمجھنے سے قاصر رہے۔ لیکن صدا لگانے والا اپنے خونِ جگر کو جلا کر اپنی ماں بولی، اپنی مٹی، دریاؤں اور پہاڑوں سے محبت کے چراغ روشن کرتا رہا۔
وہ جب بھی کلام کرتا، تو اس کے کلام سے جذب و نشاط کی ایک شگفتہ قوسِ قزح ابھرتی۔ اس کی فکر و احساس کی یہ معراج و مرجعیت، اس کے شعور، علم اور عمل کو جہاں بینی سے بہت آگے، جہاں سازی کے معجزہ نما منصب پر فائز کر چکی تھی۔ وہ ہمیشہ اپنے اندر کے جوار بھاٹے کو کسی آتش فشاں کے لاوے کی طرح ابل کر باہر آنے سے روکے رکھتا۔ جب بولتا تو دلار، وضع داری اور تہذیبی رچاؤ کے ساتھ مخاطب ہوتا، لفظ لفظ روئی کے گالوں پر رکھ کر پیش کرتا۔ مختصراً یہ کہ اس کی چشمِ بصیرت میں ایک وسیع و عریض آسمان پوشیدہ تھا۔
الفاظ کی برقی لہروں پر سفر کوئی معمولی بات نہ تھی۔ اس کی آواز نے فرد سے لے کر معاشرے اور رفتہ رفتہ پورے عالمی گاؤں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس کی گہری نظر ملکی سیاسی قیادت کی خود غرضی سے لے کر عاقبت نااندیشی تک، ماحول کے جبر سے لے کر مال و دولت کی حرص و ہوس تک، مفلسی اور بدحالی سے لے کر ظلم و جبر تک، عدل و انصاف کے قتل سے لے کر کلائمیٹ چینج تک، ہر پہلو پر مرکوز تھی۔
اس کی ولولہ انگیز آواز میں امن، اقتصاد، تعلیم، شعور، عالمی بھائی چارے اور تجارت کی خواہش نمایاں تھی۔ وہ گلی کوچوں، بازاروں اور تعلیمی اداروں میں جا کر معاشرے کی اعلیٰ اخلاقی اقدار، اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے اور دورِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق تعلیم حاصل کرنے کا درس دیتا رہا۔
اس بے حس معاشرے میں اس آواز نے خود کو امن، انسانیت اور شعور کے فروغ کے لیے وقف کر دیا تھا۔ نفرتوں کی مسموم فضا میں سانس لینے والے اس فرشتۂ امن نے اندرونی و بیرونی سامراج اور سازشوں کے خلاف لوگوں کو تیار کیا، جبکہ لوگ ایک دوسرے کو دیکھ کر کہتے:
"کون ہے یہ دیوانہ؟ کیا چاہتا ہے؟ اس کا مقصد کیا ہے؟ ہمیں کہاں لے جانا چاہتا ہے؟ یہ امن اور اقتصاد کیا بلا ہے؟ ہمیں اپنے دھندے سے اٹھا کر مضبوط حاکمِ وقت کے خلاف کیوں ورغلا رہا ہے؟”
ہجوم میں ایک باریش، ضعیف العمر شخص، جو اپنے پھٹے پرانے کپڑوں کے باوجود دانا معلوم ہوتا تھا، گویا ہوا:
"اے عقل کے اندھو! کم بختو! مسیحا ہے یہ شخص۔ بے شعوروں کے درمیان شعور کا چراغ ہے۔ نفرتوں کی فضا میں محبت کے گیت گانے والا امن کا پیامبر ہے۔ یہ تمہیں ورغلانے نہیں آیا بلکہ امن کے سفینے کو وقت کی لہروں کے حوالے کرنے آیا ہے۔ اس کی سعیِ مسلسل ہر لحاظ سے قابلِ ذکر، قابلِ عمل اور لائقِ تحسین ہے، جبکہ تم اپنے ہی محسن کی محسن کشی میں مصروف ہو۔”
پھر کچھ توقف کے بعد وہ بولا:
"مگر مطلوبہ نتائج صرف باتوں اور لیکچر دینے سے حاصل نہیں ہوں گے، اس کے لیے ایک بڑی جدوجہد کی ضرورت ہے۔”
ہجوم میں سے ایک آدمی آگے بڑھا اور بلند آواز میں کہنے لگا:
"بابا! ہمیشہ جنگوں سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوتے، اور ویسے بھی گوروں کا قول ہے: ‘The non-violent is more dangerous than the violent.’ مطلوبہ نتائج کے حصول کے لیے جدوجہد کی ضرورت ہے۔ ویسے بھی آزادی کی مشعل قربانی کے تیل سے ہی جلتی ہے۔ اس لیے قربانی، شعور اور انتقادی شعور کی ضرورت ہے، اور اسی کے لیے یہ آواز بلند ہوئی ہے۔”
اچانک فائرنگ کی آواز سنائی دی۔ دھکم پیل اور بھگدڑ مچ گئی۔ کوئی چیخنے لگا، کوئی رونے لگا، کوئی دوڑنے لگا، تو کوئی بے ربط الفاظ ادا کرنے لگا۔ "کیا ہوا؟ کیا ہوا؟” کے نعروں کی گونج میں ہجوم کے درمیان ایک فرشتہ صفت شخص خون میں لت پت گر پڑا۔
اچانک پھر ایک صدا بلند ہوئی:
"یہ کون ہے؟ کس نے کیا؟ ہائے ظالمو! اتنا ظلم؟ ایک نہتے آدمی کو گولیوں سے چھلنی کر دیا۔ مگر یہ کون ہے؟ اس کا کوئی جاننے والا ہے؟”
ضعیف العمر شخص نہایت تکلف سے آگے بڑھا۔ آہوں اور سسکیوں کے درمیان بولا:
"یہی تو ہے… وہ ‘امن کی آواز’… جو ہمیشہ کہا کرتا تھا کہ ‘شہید کے نام پر ہم سے ہمارے قاتل کو چھپایا جاتا ہے۔’ ہاں، یہی ہے وہ امن کی آواز۔”
ضعیف العمر شخص کی آواز پہاڑوں سے ٹکرا کر شہروں تک پہنچ گئی، اور جس جس نے بھی اسے سنا، وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ دیہات، بستیاں اور شہر، سب کے عام و خاص نے رو رو کر اس تلخ حقیقت کی گواہی دی کہ ہم مردہ پرست اور قبر پرست قوم بن چکے ہیں۔
اسی ہجوم میں تین چار آدمی دبے پاؤں آگے بڑھے اور ضعیف العمر شخص کو تسلی دیتے ہوئے بولے:
"بابا! یہ تو امن کی آواز تھی، اور یہ تو ایک مسلم ریاست ہے۔ اسلام تو سلامتی کا دین ہے، پھر امن کی آواز کو خاموش کیوں کر دیا گیا؟ آخر کیوں؟”
ضعیف العمر شخص لڑکھڑاتی آواز میں بولا:
"کیونکہ یہاں دو کوڑی کے عوض ایمان اور سلامتی کا سودا کیا جاتا ہے۔ اس لیے یہاں امن کی آواز واجب القتل ہے۔”
وہ سنبھلتے ہوئے اٹھا اور بلند آواز سے اعلان کرنے لگا:
"اے لوگو! ہر خاص و عام کو مطلع کیا جاتا ہے کہ امن کا جنازہ کل صبح 10 بجے ناوگئی (باجوڑ) میں ادا کیا جائے گا۔ تمام لوگ اپنی شرکت یقینی بنائیں۔”
پھر ایک لمحہ خاموش رہ کر بولا:
"کاش! ہم اب بھی سنبھل جائیں اور سمجھ جائیں کہ آواز اٹھانا، جنازے اٹھانے سے بہتر ہے۔”
یہ کہتے ہوئے ضعیف العمر شخص اوندھے منھ گر پڑا۔
_____________________________
ابدالی ڈاٹ کام کی انتظامیہ کے لیے یہ لازم نہیں کہ وہ لکھاری کے تمام خیالات سے متفق ہو۔ تمام مضامین کی اشاعت کا مقصد آزادانہ اظہارِ رائے کو فروغ دینا ہے۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو براہِ کرم اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فیس بُک آئی ڈی اور مختصر تعارف کے ساتھ ahabdali944@gmail.com پر ای میل کریں۔ تحریر کی اشاعت یا عدمِ اشاعت کا حتمی اختیار ادارتی بورڈ کے پاس محفوظ ہے۔
شیئرکریں: