تاریخ کبھی محض واقعات کا مجموعہ نہیں ہوتی بلکہ طاقت اور اخلاقیات کے درمیان کشمکش کا آئینہ ہوتی ہے۔ جب موجودہ عہد کی تاریخ لکھی جائے گی، تو ممکن ہے اسے اس زمانے کے طور پر یاد کیا جائے جہاں تہذیب کے لباس میں ملبوس درندگی نے اپنی اصل صورت دکھائی۔ ایپسٹین فائلز نے اس عالمی نظام کے چہرے سے وہ آخری نقاب بھی اتار دیا ہے جس کے پیچھے اقتدار، سرمایہ اور ہوس کا گٹھ جوڑ دہائیوں سے انسانیت کا خون نچوڑتا رہا۔
یہ محض ایک جزیرے کی داستان نہیں، نہ ہی کسی ایک فرد کی اخلاقی پستی کا قصہ ہے بلکہ یہ اس عالمی اشرافیہ کے منظم ڈھانچے کی علامت ہے جہاں طاقت احتساب سے بالاتر ہو جاتی ہے۔ دنیا کے وہ نام نہاد رہبر جو انسانی حقوق کے منشور پر دستخط کرتے ہیں، جو پسماندہ اقوام کو تہذیب کا درس دیتے ہیں اور جو ٹی وی سکرینوں پر اخلاقیات کے بلند و بانگ دعوے کرتے ہیں، وہی لوگ اس غلیظ تاریخ کے صفحات میں بے نقاب کھڑے نظر آتے ہیں۔
جیفری اپسٹین کا معاملہ محض ایک مجرم کی کہانی نہیں بلکہ اس نظام کی ساختی بیماری کی علامت ہے جس میں دولت، اثر و رسوخ اور سیاسی روابط قانون کو مفلوج کر دیتے ہیں۔ یہ وہ دنیا ہے جہاں انصاف کم زور کے لیے تیز اور طاقتور کے لیے نرم ہو جاتا ہے۔ قانون کو اپنی لونڈی اور انصاف کو اپنی باندی بنانے والی یہ اشرافیہ معصوم جانوں کو مصرفی اشیاء سمجھ کر استعمال کرتی رہی اور برسوں تک احتساب کی گرفت سے محفوظ رہی۔
ان کے خیراتی ادارے اور فاؤنڈیشنز دراصل وہ نقاب ہیں جن کے پیچھے طاقت کا کھیل جاری رہتا ہے۔ یہ وہ مسیحا ہیں جو پہلے زخم دیتے ہیں اور پھر مرہم رکھ کر اپنی تصویر بنواتے ہیں۔ انسان دوستی کے دعوے اور عالمی امن کے نعرے ان کے محلات کی دیواروں پر آویزاں ہیں، مگر ان بنیادوں میں ان بچوں کی چیخیں دفن ہیں جن کی معصومیت کو معتبر ہاتھوں نے مسلا۔
آج کا میڈیا بھی مکمل طور پر بری الذمہ نہیں۔ جب انکشافات کی بو پھیلنے لگی، تو عوامی توجہ کو دوسری سمت موڑ دیا گیا۔ نئی جنگوں، نظریاتی کشمکشوں اور مذہبی منافرت کے شور میں اصل سوال دب گئے۔ یوں سچائی ایک بار پھر طاقت کے ایوانوں کے دروازوں سے ٹکرا کر لوٹ آئی۔
برسوں تک اس درندگی کا جاری رہنا اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی عدالتی نظام میں دوہرا معیار موجود ہے۔ غریب کے لیے فوری سزائیں اور طاقتور کے لیے خفیہ معاہدے، یہی وہ تضاد ہے جو اس عہد کی اخلاقی دیوالیہ پن کو ظاہر کرتا ہے۔ جب جرم کو سکینڈل بنا کر تفریح میں بدل دیا جائے اور اجتماعی المیے کو نجی بدنامی تک محدود کر دیا جائے، تو سماج اپنی روح کھو دیتا ہے۔
ہم ایسے زمانے میں سانس لے رہے ہیں جہاں خاموشی بھی جرم کی شریک بن جاتی ہے۔ ہماری اجتماعی بے حسی نے طاقتور طبقات کے حوصلے اس قدر بلند کر دیے ہیں کہ اب وہ احتساب کے خوف سے بھی آزاد دکھائی دیتے ہیں۔ ادب، صحافت اور دانش اگر آج بھی ان ناسوروں کے خلاف آواز بلند نہ کریں، تو وہ محض لفظوں کی عیاشی رہ جائیں گے۔
ایپسٹین فائلز دراصل ایک فرد کی موت سے زیادہ ایک عہد کی علامت ہیں۔ اس عہد کی، جہاں سرمایہ انسان پر غالب ہے اور طاقت اخلاقیات کو روندتی ہے۔ اگر اس استحصالی ڈھانچے کو چیلنج نہ کیا گیا، تو تاریخ خود کو دہراتی رہے گی اور کسی نہ کسی گوشے میں کوئی نیا کردار انسانیت کی نیلامی کرتا رہے گا۔
یہ وقت محض مرہم رکھنے کا نہیں بلکہ زخم کی جڑ تک پہنچنے کا ہے۔ اصلاح کا آغاز احتساب سے ہوتا ہے اور احتساب کا آغاز سچ کو تسلیم کرنے سے۔ آنے والی نسلوں کو کم از کم اتنا حق ضرور ملنا چاہیے کہ وہ ایک ایسے معاشرے میں سانس لیں جہاں طاقت قانون سے بالا تر نہ ہو اور انسان سرمایہ سے کم تر نہ سمجھا جائے۔
______________________________
ابدالی ڈاٹ کام کی انتظامیہ کے لیے یہ لازم نہیں کہ وہ لکھاری کے تمام خیالات سے متفق ہو۔ تمام مضامین کی اشاعت کا مقصد آزادانہ اظہارِ رائے کو فروغ دینا ہے۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو براہِ کرم اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فیس بُک آئی ڈی اور مختصر تعارف کے ساتھ ahabdali944@gmail.com پر ای میل کریں۔ تحریر کی اشاعت یا عدمِ اشاعت کا حتمی اختیار ادارتی بورڈ کے پاس محفوظ ہے۔
شیئرکریں: