مطیع اللہ ترابؔ، اِک عہد ساز شاعر

ادب کی تاریخ میں کچھ نام ایسے ہوتے ہیں جو محض شاعروں کی فہرست میں شامل نہیں ہوتے بلکہ وہ اپنے عہد کی اجتماعی روح کی نمائندگی کرتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو لفظوں کو آرائش کے لیے نہیں، مزاحمت، شعور اور سچ کے اظہار کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ پشتو ادب میں مطیع اللہ ترابؔ کا شمار انہی شاعروں میں ہوتا ہے جنہوں نے شاعری کو محض فن نہیں بلکہ ایک سماجی ذمے داری بنایا۔ وہ شاعر کم اور اپنے لوگوں کی زبان زیادہ تھے۔
قارئین، مطیع اللہ ترابؔ 21 مارچ 1971ء کو افغانستان کے صوبہ ننگرہار کے ضلع خوگیانی میں پیدا ہوئے۔ یہ علاقہ نہ صرف جغرافیائی لحاظ سے اہم ہے بلکہ تاریخی طور پر جنگ، مزاحمت اور مسلسل عدمِ استحکام کا شکار بھی رہا ہے۔ ایسے ماحول میں آنکھ کھولنے والا حساس ذہن اگر شاعر بن جائے، تو اس کی شاعری کا رخ لازماً عوامی دُکھ، محرومی اور جدوجہد کی طرف ہوتا ہے۔ ترابؔ بھی اسی حقیقت کا عملی نمونہ تھے۔
ان کی رسمی تعلیم محدود تھی، مگر زندگی کی درس گاہ میں انہوں نے وہ کچھ سیکھا جو نصابی کتب میں دستیاب نہیں ہوتا۔ غربت، محنت، ناانصافی اور طاقت کے بے رحم ڈھانچے کو انہوں نے بہت قریب سے دیکھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری میں تصنع، فلسفیانہ الجھاؤ یا مبالغہ نہیں ملتا، بلکہ سیدھی، سچی اور دل میں اُتر جانے والی بات نظر آتی ہے۔ ان کے الفاظ عام آدمی کے الفاظ تھے اور یہی ان کی سب سے بڑی طاقت تھی۔
مطیع اللہ ترابؔ کی شاعری کا مرکزی موضوع پختون اور انسان تھا۔ اس کی شناخت، اس کا درد، اس کی غیرت اور اس کی جدوجہد۔ انہوں نے پختون قوم پرستی کو نعروں کے بہ جائے شعور کی سطح پر برتا۔ ان کے ہاں قوم پرستی کسی دوسری قوم کے انکار کا نام نہیں بلکہ اپنی پہچان، زبان اور وقار کے دفاع کا اظہار ہے۔ وہ ظلم کے خلاف تھے، چاہے وہ کسی بھی شکل میں ہو۔ ریاستی جبر ہو، سماجی ناانصافی ہو یا معاشی استحصال۔
ترابؔ کی شاعری کی ایک نمایاں خصوصیت اس کا زبانی اور عوامی ہونا ہے۔ وہ مشاعروں، عوامی اجتماعات اور ثقافتی محفلوں میں اپنے اشعار سناتے، جو بعد ازاں لوگوں کی زبان پر چڑھ جاتے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری کتابوں سے زیادہ حافظوں میں محفوظ ہوئی۔ ان کے اشعار نعروں کی صورت میں بھی سنائی دیے اور گیتوں کی شکل میں بھی۔ یہ اعزاز ہر شاعر کو حاصل نہیں ہوتا۔
زندگی کے عملی پہلو میں مطیع اللہ ترابؔ ایک محنت کش انسان تھے۔ وہ پیشے کے اعتبار سے لوہار تھے اور اپنی روزی حلال محنت سے کماتے تھے۔ انہوں نے کبھی شاعری کو ذریعۂ معاش نہیں بنایا، نہ ہی کسی سرکاری یا غیر سرکاری سرپرستی کے محتاج رہے۔ یہی خودداری ان کی شاعری میں بھی جھلکتی ہے۔ وہ نہ بکے، نہ جھکے اور نہ ہی اپنے لفظوں کو مصلحت کا شکار ہونے دیا۔
ان کی شاعری نوجوان نسل کے لیے خاص طور پر متاثر کن ثابت ہوئی۔ ایک ایسا عہد جب پختون نوجوان شناخت، امن اور مستقبل کے حوالے سے شدید بے یقینی کا شکار تھے، ترابؔ کے اشعار انہیں حوصلہ، شعور اور سوال کرنے کی جرأت دیتے تھے۔ وہ نوجوانوں کو خواب دکھاتے تھے مگر اندھے خواب نہیں؛ بلکہ شعور کے ساتھ جینے اور کھڑے ہونے کا درس دیتے تھے۔
14 جولائی 2025ء کو مطیع اللہ ترابؔ کا انتقال دل کا دورہ پڑنے سے ہوا۔ ان کی وفات محض ایک شاعر کی موت نہیں تھی بلکہ پشتو ادب کی ایک توانا آواز کا خاموش ہو جانا تھا۔ ان کے جنازے میں عوام کی غیر معمولی شرکت اس بات کا واضح ثبوت تھی کہ وہ محض ادبی حلقوں کے نہیں بلکہ عوام کے شاعر تھے۔ ان کی موت پر افغانستان اور پاکستان کے پختون علاقوں میں غم اور سوگ کی فضا قائم ہوئی۔
آج مطیع اللہ ترابؔ ہمارے درمیان موجود نہیں، مگر ان کے الفاظ زندہ ہیں۔ وہ اشعار جو ظلم کے خلاف بولتے ہیں، وہ مصرعے جو شناخت کا شعور دیتے ہیں، وہ آواز جو مایوسی میں امید جگاتی ہے۔ یہ سب ان کی میراث ہے۔ ایسے شاعر وقت کی دھول میں گم نہیں ہوتے، بلکہ تاریخ کے حافظے میں محفوظ ہو جاتے ہیں۔
یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ مطیع اللہ ترابؔ نے ثابت کیا کہ عظیم شاعری کے لیے نہ بڑی ڈگری ضروری ہے، نہ شاہی دربار، بلکہ شرط صرف یہ ہے کہ شاعر اپنے لوگوں کے درد سے سچا رشتہ رکھتا ہو۔ ترابؔ اسی سچائی کا نام ہے۔ ایک ایسی آواز جو مٹی سے اُٹھی اور دلوں میں ہمیشہ کے لیے بس گئی۔ مطیع اللہ ترابؔ چلے گئے، مگر ان کا کلام گواہی دیتا رہے گا کہ کچھ آوازیں کبھی خاموش نہیں ہوتیں۔ جاتے جاتے موصوف کی اس وصیت پر اجازت طلب کرنا چاہوں گا کہ:
د تراب د مرگ وصیت پہ غور واورہ
د دی کلی او خاریو پوختنہ اوکہ
د اٹک د سیند پہ غاڑہ غاڑہ لاڑ شہ
د خٹکو او یوسف زو پوختنہ اوکہ
پہ قرار قرار می یوسہ صوابئی تہ
د یوسف او شيربانو پوختنہ اوکہ
جنازه می د ملاکنڈ پہ سوکو کیدہ
د مومندو باجوڑو پوختنہ اوکہ
پہ مزه مزه می کوز کہ اشنغر تہ
پہ مردان کے د کوسو پوختنہ اوکہ
زہ خلیل او داود زی پہ ما خبر کہ
د آدم او د درخو پوختنہ اوکہ
پیخور درہ کوهاٹ درنہ ہیر نہ شی
د ہنگو د دواوو پوختنہ اوکہ
خہ پہ ٹل زما د مرگ یوہ ٹپہ شہ
د ميرلی د اورشو پوختنہ اوکہ
چی د بنو مازیگر درنہ ہیر نہ شی
د وزیرو بنوسو پوختنہ اوکہ
چی د کوئٹی او چمن پہ لارہ لاڑ شی
د کاکڑو د پٹکو پوختنہ اوکہ
بیا پہ بیڑہ بیڑہ راشہ کورمی خور تہ
د ھغی د سرو لاسو پوختنہ اوکہ
ھلتہ زما د ادبی سنگر یاران دی
پہ سده کے د ھغو پوختنہ اوکہ
خہ بنگشو علیشیرزیو یورو گوزو تہ
د توتکی د چینارو پوختنہ اوکہ
د پکتیا ٹولو قامو تہ لاس اوچت کہ
د مننگو د خاخو پوختنہ اوکہ
د تیراہ پہ تورو غرونو بہ راواوڑی
د خیبر د افریدو پوختنہ اوکہ
د خاطر د خاطرو بہ خاطر وکڑی
د حمزہ د تاترو پوختنہ اوکہ
د شمشاد پہ جگو سوکو سلام وایہ
پہ شلمان کے د تپو پوختنہ اوکہ
ہزار ناو او باسول نہ چی ورتیر شی
پہ ڈاگو کے د خیمو پوختنہ اوکہ
نارنج گل می د پٹکی ہر ول کے کیدہ
ننگرہار کے د باغو پوختنہ اوکہ
د ملنگ یو سو اشعار بہ چاتہ یاد وی
اخوا دیخوا د بانڈو پوختنہ اوکہ
د کنڑ پہ سردرو جرگہ جرگہ شہ
د ببھسودو دورانٹو پوختنہ اوکہ
پہ لغمان کے مہترلام بابا زیارت دے
مازیگر د تیرگاڑو پوختنہ اوکہ
سیر شاہی پاچیراگام درنہ ہیر نہ شی
چپرہار کے د ڈاگو پوختنہ اوکہ
د کفن پٹکے می کوگ پہ سر راکيدہ
بیا ورزہ د خوگیانڑو پوختنہ قوکہ
د تور غر او د سور رود پہ لویہ لارہ
د ناری ناری برجو پوختنہ قوکہ
د سپین غر د جگ دالان لاندی می کیدہ
د سسوبی د اوبو پوختنہ اوکہ
وطنئی شنہ لوپٹہ پہ ما خورہ کہ
د سرگڑی د وخو پوختنہ اوکہ
تر ھغی می خڑو خاورو کے پٹ نہ کڑی
د پریوتو دیوالو پوختنہ اوکہ
تواقف می جنازہ لپارہ واخلہ
دواڑہ غاڑی د مورچو پوختنہ اوکہ
پہ ما خاوری کڑہ انبار چی ڈز وانہ ورم
پہ مزار می د ڈیوو پوختنہ اوکہ
________________________________
ابدالی ڈاٹ کام کی انتظامیہ کے لیے یہ لازم نہیں کہ وہ لکھاری کے تمام خیالات سے متفق ہو۔ تمام مضامین کی اشاعت کا مقصد آزادانہ اظہارِ رائے کو فروغ دینا ہے۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو براہِ کرم اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فیس بُک آئی ڈی اور مختصر تعارف کے ساتھ ahabdali944@gmail.com پر ای میل کریں۔ تحریر کی اشاعت یا عدمِ اشاعت کا حتمی اختیار ادارتی بورڈ کے پاس محفوظ ہے۔
Voice of resistance
Allah de obakhe