پختون سیاست کی تاریخ میں کچھ نام محض افراد نہیں بلکہ نظریہ، روایت اور قربانی کی علامت بن جاتے ہیں۔ ڈاکٹر شمشیر علی خان شہید بھی انہی کرداروں میں شامل ہیں جنہوں نے خوف، تشدد اور جبر کے ماحول میں جمہوری سیاست، عدمِ تشدد اور عوامی خدمت کا راستہ اختیار کیا۔ سوات جیسے حساس خطے میں، جہاں سیاست طویل عرصے تک پابندیوں اور بعد ازاں دہشت گردی کی زد میں رہی، ان کی زندگی اور شہادت نظریاتی استقامت، خاندانی سیاسی روایت اور عوامی ذمہ داری کی ایک روشن مثال ہے۔
قارئین، ڈاکٹر شمشیر علی خان شہید کا شمار پختون سیاست کے اُن راہ نماؤں میں ہوتا ہے جنہوں نے سیاست کو ذاتی مفاد، اقتدار یا وقتی فائدے کے بہ جائے نظریے، خدمت اور عوامی ذمے داری کے طور پر اپنایا۔ سوات جیسے حساس اور مشکل خطے میں جہاں ایک طویل عرصے تک خوف، شدت پسندی اور عدمِ تحفظ نے سماجی و سیاسی زندگی کو مفلوج کر رکھا تھا، وہ ایک ایسے سیاسی کردار کے طور پر سامنے آئے جو بندوق کے مقابلے میں دلیل، جبر کے مقابلے میں قانون اور تشدد کے مقابلے میں جمہوری شعور پر یقین رکھتے تھے۔ ان کی سیاست وقتی ردِعمل نہیں بلکہ ایک گہری تاریخی، فکری اور خاندانی روایت کا تسلسل تھی۔
ڈاکٹر شمشیر علی خان کا تعلق سوات کے اُن سیاسی گھرانوں میں سے تھا جنہیں بجا طور پر اس خطے کے بانی سیاسی خاندانوں میں شمار کیا جا سکتا ہے۔ ریاستِ سوات کے دور میں یہاں باقاعدہ سیاسی سرگرمیوں پر سخت پابندی عائد تھی، سیاسی جماعتیں ممنوع تھیں اور عوام کو منظم سیاسی شعور سے دور رکھنے کی کوشش کی جاتی تھی۔ ایسے گھٹن زدہ ماحول میں بھی شمشیر علی خان کا خاندان خاموش تماشائی نہیں رہا بلکہ برِصغیر کی اُس عظیم اور تاریخی تحریک سے وابستہ رہا جس کی بنیاد باچا خان نے رکھی تھی۔ یہ وابستگی محض ہمدردی یا جذباتی تعلق تک محدود نہیں تھی بلکہ ایک فکری اور اخلاقی رشتہ تھا، جس کی بنیاد عدمِ تشدد، انسان دوستی، قومی شعور اور سیاسی بیداری پر استوار تھی۔
ڈاکٹر شمشیر علی خان شہید کی خاندانی سیاسی وابستگی بھی اسی روایت کی مظہر ہے۔ ڈاکٹر شمشیر کے والد بزرگوار عبدالرشید خان عرف ڈھیرئی بابا نے عوامی نیشنل پارٹی کا پرچم سوات لایا اور وہ عوامی نیشنل پارٹی سوات کے پہلے ضلعی صدر بھی رہے۔ جب سوات بونیر اور شانگلہ ایک ضلع تھا۔ یہ خاندان پختون سیاست میں ایک روشن روایت کی نمائندگی کرتا رہا، اور ڈاکٹر شمشیر علی خان اسی سیاسی اور نظریاتی وراثت کے وارث تھے۔
قارئین، ڈاکٹر شمشیر علی خان 15 مئی 1950ء کو سوات کے علاقے ڈھیرئی میں پیدا ہوئے۔ اگرچہ ان کی ابتدائی تعلیم کے حوالے سے تفصیلی معلومات تک راقم کی رسائی نہ ہوئی، تاہم یہ حقیقت ریکارڈ پر موجود ہے کہ انہوں نے قانون کی تعلیم حاصل کی اور ایل ایل بی کرنے کے بعد وکالت کے پیشے سے وابستہ ہوئے۔ قانون سے ان کی وابستگی نے ان کی شخصیت میں استدلال، برداشت اور آئینی شعور کو جِلا بخشی، جو ان کی سیاسی فکر اور طرزِ عمل میں نمایاں طور پر جھلکتا رہا۔
بطورِ وکیل وہ محض ایک پیشہ ور فرد نہیں تھے بلکہ انصاف کے اجتماعی تصور پر یقین رکھنے والے سماجی کارکن بھی تھے۔ وہ سوات بار ایسوسی ایشن کے صدر رہے، جہاں انہوں نے وکلا کے حقوق، عدالتی نظام کی بہتری اور ادارہ جاتی استحکام کے لیے بھر پور کردار ادا کیا۔ وکالت اور سیاست کا یہ امتزاج انہیں ایک ایسا راہ نما بناتا ہے جو عوامی مسائل کو نہ صرف سمجھتا تھا بلکہ انہیں آئینی اور قانونی دائرے میں حل کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا تھا۔
قارئین، 2008ء کے عام انتخابات میں ڈاکٹر شمشیر علی خان سوات کے حلقہ پی ایف-83 سے عوامی نیشنل پارٹی کے ٹکٹ پر صوبائی اسمبلی کے رُکن منتخب ہوئے۔ یہ وہ دور تھا جب سوات دہشت گردی، خوف اور بدامنی کی شدید لہر کی زد میں تھا اور جمہوری سیاست کرنا جان جوکھوں کا کام بن چکا تھا۔ ایسے حالات میں ان کی انتخابی کامیابی عوام کے اعتماد، نظریاتی وابستگی اور جمہوری سیاست پر یقین کا واضح اظہار تھی۔ صوبائی اسمبلی میں ان کی موجودگی محض عددی نمائندگی تک محدود نہیں رہی۔ وہ ماحولیات، سماجی بہبود، زکوٰۃ و عشر اور خواتین کی فلاح سے متعلق قائمہ کمیٹیوں میں سرگرم رہے اور پسماندہ طبقات، عام آدمی اور نظر انداز شدہ طبقات کے مسائل کو مؤثر انداز میں ایوان تک پہنچاتے رہے۔
ڈاکٹر شمشیر علی خان اس بات پر پختہ یقین رکھتے تھے کہ پائیدار امن بندوق یا طاقت کے زور پر نہیں بلکہ انصاف، تعلیم، سیاسی شعور اور عوامی شمولیت سے قائم ہوتا ہے۔ یہی سوچ شدت پسند قوتوں کے لیے سب سے بڑا خطرہ تھی، کیوں کہ دلیل اور شعور ان کے تشدد آمیز بیانیے کی نفی کرتے تھے۔
یکم دسمبر 2009ء سوات کی سیاسی تاریخ کا ایک سیاہ دن بن کر سامنے آیا، جب ڈاکٹر شمشیر علی خان اپنے آبائی علاقے میں عوام سے مل رہے تھے کہ ان کے حجرے میں ایک خودکش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اُڑا دیا۔ اس بزدلانہ حملے میں وہ موقع پر ہی شہید ہوگئے، جب کہ ان کے دو بھائی اور دیگر افراد شدید زخمی ہوئے۔ یہ حملہ صرف ایک شخص پر نہیں بلکہ جمہوری سیاست، عدمِ تشدد اور عوامی نمائندگی کے پورے تصور پر حملہ تھا۔
مگر دہشت گرد اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکے۔ ڈاکٹر شمشیر علی خان کی شہادت کے بعد ہونے والے ضمنی انتخابات میں ان کے بھائی رحمت علی خان نے عملی سیاست میں حصہ لیا اور PK-83 سے ممبر صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے اور بعد میں ڈیڈک چیرمین بھی منتخب ہوئے۔ یہ کامیابی محض ایک انتخابی نتیجہ نہیں تھی بلکہ عوام کی جانب سے دہشت گردی کے بیانیے کو مسترد کرنے اور نظریاتی سیاست کے تسلسل کی توثیق تھی۔ شمشیر علی خان کا خاندان بے پناہ قربانیوں اور مسلسل مصائب کے باوجود آج بھی باچا خان کے فلسفۂ عدمِ تشدد، جمہوریت اور سیاسی جدوجہد پر قائم ہے اور عوامی نیشنل پارٹی کے پلیٹ فارم سے اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے۔
ڈاکٹر شمشیر علی خان شہید کی قربانی اور نظریاتی خدمات کے اعتراف میں عوامی نیشنل پارٹی کی صوبائی حکومت نے 2010ء میں تحصیلِ کبل سوات میں قائم ڈگری کالج کو ان کے نام سے منسوب کیا۔ آج یہ تعلیمی ادارہ "ڈاکٹر خان شہید ڈگری کالج کبل سوات” کے نام سے جانا جاتا ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ ڈاکٹر شمشیر علی خان شہید کی جدوجہد محض سیاسی نہیں بلکہ علمی اور فکری وراثت کی صورت میں بھی زندہ ہے۔ یہ ادارہ نئی نسل کو شعور، جمہوریت اور عدمِ تشدد کے اُس راستے سے جوڑنے کا ذریعہ ہے جس کی قیمت انہوں نے اپنی جان دے کر ادا کی۔
قارئین، ڈاکٹر شمشیر علی خان شہید کی زندگی اور شہادت پختون سیاست کا ایک باوقار اور روشن باب ہے۔ وہ ایک فرد نہیں بلکہ ایک روایت تھے۔ وہ روایت جو ریاستی پابندیوں، جبر، دہشت گردی اور خوف کے باوجود زندہ رہی۔ ان کی سیاست اس حقیقت کی گواہ ہے کہ اصل وراثت عہدے یا طاقت نہیں بلکہ فکر، حوصلہ اور نظریاتی استقامت ہوتی ہے، اور یہی وراثت آج بھی ان کا خاندان اور ان کی سیاسی روایت سنبھالے ہوئے ہے۔
_________________________________
ابدالی ڈاٹ کام کی انتظامیہ کے لیے یہ لازم نہیں کہ وہ لکھاری کے تمام خیالات سے متفق ہو۔ تمام مضامین کی اشاعت کا مقصد آزادانہ اظہارِ رائے کو فروغ دینا ہے۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو براہِ کرم اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فیس بُک آئی ڈی اور مختصر تعارف کے ساتھ ahabdali944@gmail.com پر ای میل کریں۔ تحریر کی اشاعت یا عدمِ اشاعت کا حتمی اختیار ادارتی بورڈ کے پاس محفوظ ہے۔
شیئرکریں: