ڈاکٹر خالق زیارؔ، ترقی پسند فکر اور پشتو ادب کا روشن حوالہ

پختون معاشرہ صدیوں سے ایسی ہمہ جہت شخصیات کو جنم دیتا آیا ہے جو قلم، فکر اور عمل کے ذریعے سماج کو نئی سمت عطا کرتی ہیں۔ ان ہی درخشاں ناموں میں ایک باوقار اور معتبر نام ڈاکٹر خالق زیار کا ہے، جو بہ یک وقت ایک درد مند طبیب، حساس شاعر، سنجیدہ ادیب، مترجم اور ترقی پسند دانش ور تھے۔ ان کی زندگی اس حقیقت کی جیتی جاگتی مثال ہے کہ ادب محض الفاظ کا کھیل نہیں بلکہ سماجی شعور، انسانی ہم دردی اور فکری بیداری کا ایک طاقت ور ذریعہ ہوتا ہے۔
قارئین، ڈاکٹر عبدالخالق زیارؔ کا تعلق خیبر پختون خوا کے ضلع ملاکنڈ کے تحصیل درگئی کے ایک سادہ مگر باشعور گھرانے سے تھا۔ اگرچہ ان کی درست تاریخِ پیدائش عوامی ریکارڈ میں واضح طور پر درج نہیں، تاہم قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ 1950ء کی دہائی میں پیدا ہوئے۔ ایک ایسے ماحول میں آنکھ کھولی جہاں سماجی محرومیاں، طبقاتی فرق اور فکری جمود نمایاں تھا، اور یہی عناصر بعد ازاں ان کی فکر اور تخلیقی اظہار کا بنیادی حوالہ بنے۔
پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر خالق زیارؔ ایک طبیب تھے، مگر ان کی اصل شناخت انسان دوستی تھی۔ وہ علاج کو محض جسمانی بیماری تک محدود نہیں رکھتے تھے بلکہ مریض کے دُکھ، اس کے معاشرتی حالات اور ذہنی کرب کو بھی سمجھنے کی کوشش کرتے تھے۔ غریب، نادار اور پسماندہ طبقات کے لیے ان کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہتا۔ خدمتِ خلق کو وہ پیشہ نہیں بلکہ اخلاقی فریضہ سمجھتے تھے۔ ڈاکٹر خالق زیارؔ کی طبی اور سماجی خدمات کا سب سے روشن اور عملی اعتراف یہ ہے کہ تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال درگئی میں ایک مستقل بلاک ان کے نام سے منسوب کیا گیا۔ یہ اعزاز کسی سرکاری عہدے یا اثر و رسوخ کا نتیجہ نہیں بلکہ برسوں پر محیط خلوصِ خدمت، انسان دوستی اور پیشہ ورانہ دیانت داری کا ثمر ہے۔ اس بلاک کا قیام اس بات کی علامت ہے کہ ڈاکٹر زیار نے طب کو کاروبار نہیں بلکہ عبادت سمجھا۔ آج بھی جب اس بلاک میں مریض علاج کے لیے داخل ہوتے ہیں، تو ڈاکٹر خالق زیارؔ کا نام ایک خاموش پیغام دیتا ہے کہ اصل عظمت خدمت میں ہے، نہ کہ شہرت میں۔
قارئین، ادبی دنیا میں ڈاکٹر خالق زیارؔ کو پشتو زبان کے ایک ترقی پسند شاعر اور ادیب کی حیثیت سے ممتاز مقام حاصل ہے۔ ان کی شاعری میں رومانویت کے بہ جائے انسان، درد، ناانصافی، غربت، جبر اور محرومی کے خلاف گہری مگر باوقار صدائے احتجاج سنائی دیتی ہے۔ وہ ان شاعروں میں شامل تھے جنہوں نے ادب کو ذاتی جذبات کے اظہار کے بہ جائے اجتماعی شعور کی بیداری کا وسیلہ بنایا۔ ان کے اشعار بعرے بازی کے بغیر، مگر پورے فکری وقار کے ساتھ، مظلوم انسان، کچلے ہوئے طبقات اور بالخصوص عورت کی محرومیوں کا ترجمان ہیں۔
ڈاکٹر خالق زیارؔ کی ایک نمایاں ادبی خدمت عالمی ادب کے تراجم ہیں۔ انہوں نے مشرقِ وسطیٰ کے عظیم ادیب خلیل جبران کے معروف ناول "Broken Wings” کا پشتو ترجمہ "مات سانگونہ” کے عنوان سے کیا۔ یہ ترجمہ محض لسانی کاوش نہیں تھا بلکہ عورت کے حقوق، جذباتی آزادی اور سماجی جبر جیسے حساس موضوعات کو پشتون معاشرے میں متعارف کرانے کی ایک سنجیدہ اور جرات مند کوشش تھی۔ اس سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ ڈاکٹر زیار ادب کو سماجی اصلاح کا ایک مؤثر ہتھیار سمجھتے تھے۔
قارئین، موصوف نے اپنی زندگی میں متعدد کتب، شعری مجموعے اور ادبی تراجم پیش کیے۔ ان میں تلوسی، شاعری کا پہلا مجموعہ، خپل رباب خپلہ نغمہ، دوسرا شعری مجموعہ جو بعد از وفات شائع ہوا۔ "شعری کلیات، شاعری کا مجموعی انتخاب، مات سانگونہ، خلیل جبران کے ناول کا پشتو ترجمہ، پہ سویل لویدیز ہند کے د پختنو بغاوتونہ، ووسنام میلز کی کتاب کا ترجمہ، دا خاوره دا خلک، تحقیقی و ادبی کام، اور پختانہ بغاوتونہ، پختون تاریخ سے متعلق ایک اہم تصنیف شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ان کے درجنوں ادبی و فکری مضامین پشتو کے مختلف ادبی جرائد میں وقتاً فوقتاً شائع ہوئے ہیں، جو ان کے مطالعے کی وسعت اور فکری گہرائی کا مظہر ہیں۔
ڈاکٹر زیارؔ کی سوچ ترقی پسند، انسانیت دوست اور امن پسند تھی۔ وہ تشدد، انتہا پسندی، تنگ نظری اور جمود کے سخت ناقد تھے۔ ان کے ہاں نہ نسل کو فوقیت حاصل ہے، نہ زبان کو، نہ مذہب کو بلکہ صرف انسان مرکزِ فکر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا فکری دائرہ محدود نہیں بلکہ آفاقی نوعیت کا حامل ہے۔ انہوں نے اپنے فکری مشن کو صرف قلم تک محدود نہیں رکھا بلکہ عملی زندگی میں بھی مظلوموں اور مستحقین کی بھلائی کے لیے کام کیا۔
قارئین، پشتو شعر و ادب کے اُفق کا یہ روشن ستارہ 26 دسمبر 2016ء کو اس دنیا سے رخصت ہوگئے، مگر ان کی فکر، شاعری اور خدمات آج بھی زندہ ہیں۔ ان کے شاگرد، چاہنے والے اور اہلِ قلم انہیں ایک ایسے شخص کے طور پر یاد کرتے ہیں جس نے پوری زندگی علم، انسانیت اور سچائی کا ساتھ دیا۔ ان کی یاد میں منعقد ہونے والی ادبی تقریبات اس حقیقت کی گواہ ہیں کہ وہ محض ایک فرد نہیں بلکہ ایک فکری روایت تھے۔
بلاشبہ ڈاکٹر خالق زیارؔ پشتو ادب اور پختون سماج کا وہ قیمتی اثاثہ ہیں جنہوں نے قلم اور کردار دونوں سے انسان دوستی، امن اور شعور کا پیغام دیا۔ ان کی زندگی اور تخلیقات یہ واضح کرتی ہیں کہ علم و ادب نہ صرف الفاظ ہیں بلکہ سماجی تبدیلی اور انسانی بہتری کا طاقت ور ذریعہ بھی ہیں۔ ایسے لوگ وقت کی گرد میں گم نہیں ہوتے بلکہ تاریخ اور دلوں میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ جاتے جاتے موصوف کے ان اشعار پر اجازت طلب کرنا چاہوں گا کہ:
بس قلار شہ د زڑہ سرہ
چی سہ اوشو ھغہ اوشو
نور می پریدہ بے خبرہ
چی سہ اوشو ھغہ اوشو
لاڑ زما لالے ئی مڑ کو
کہ پہ چاڑہ کہ پہ چاکو وو
پریدہ نورہ دا خبرہ
چی سہ اوشو ھغہ اوشو
اور دے پاتی پختون خوا تہ
راخوریگی زہ ئی وینم
د امو نہ تر خیبرہ
چی سہ اوشو ھغہ اوشو
جنگ د لادہ بادہ پریستم
جنگ تباہ کڑم جنگ برباد کڑم
نور بہ زان ساتم د شرہ
چی سہ اوشو ھغہ اوشو
زئی چی نوے ساز پیدا کڑو
زئی چی نوی ٹپہ اوکو
د دی خاوری پہ سندرہ
چی سہ اوشو ھغہ اوشو
_________________________________
ابدالی ڈاٹ کام کی انتظامیہ کے لیے یہ لازم نہیں کہ وہ لکھاری کے تمام خیالات سے متفق ہو۔ تمام مضامین کی اشاعت کا مقصد آزادانہ اظہارِ رائے کو فروغ دینا ہے۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو براہِ کرم اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فیس بُک آئی ڈی اور مختصر تعارف کے ساتھ ahabdali944@gmail.com پر ای میل کریں۔ تحریر کی اشاعت یا عدمِ اشاعت کا حتمی اختیار ادارتی بورڈ کے پاس محفوظ ہے۔