پختون معاشرہ ہمیشہ سے کہانی، طنز اور مزاح کے ذریعے اپنے دُکھ سکھ بیان کرتا آیا ہے۔ یہ مزاح محض ہنسی کا سامان نہیں بلکہ سماجی رویّوں، معاشی محرومیوں اور روز مرہ زندگی کے تلخ حقائق کو نرم اور مؤثر انداز میں پیش کرنے کا ایک طاقتور ذریعہ رہا ہے۔ اسی روایت میں کچھ فن کار ایسے پیدا ہوئے جنہوں نے محدود وسائل، غیر رسمی پلیٹ فارمز اور علاقائی سطح پر کام کرتے ہوئے بھی عوام کے دلوں میں مستقل جگہ بنائی۔ انہی فن کاروں میں ایک نمایاں نام فضل رحمان کا ہے، جو عوام میں "سیلئی” کے نام سے مشہور ہوئے اور پشتو مزاحیہ اداکاری کی ایک پہچان بن گئے۔
قارئین، فضل رحمان المعروف سیلئی کا تعلق خیبر پختون خوا کے خوب صورت مگر فن کے حوالے سے محروم خطے سوات سے تھا۔ ان کی زندگی کا بڑا حصہ سٹیج، کیمرے اور عوامی محفلوں میں گزرا۔ وہ کسی بڑے ادارے یا مین سٹریم چینل سے وابستہ نہیں رہے، مگر ان کی مقبولیت کسی بھی معروف فن کار سے کم نہ تھی۔ "سیلئی” ان کا اصل نام نہیں بلکہ ایک مزاحیہ کردار تھا، جو اس قدر مقبول ہوا کہ یہی ان کی شناخت بن گیا۔ عوام نے انہیں ان کے اصل نام کے بجائے اسی کردار کے نام سے یاد رکھا۔
سیلئی کی اداکاری کی سب سے بڑی خوبی ان کا قدرتی پَن تھا۔ وہ بناوٹ، مصنوعی مکالموں اور غیر فطری حرکات کے قائل نہیں تھے۔ ان کے کردار عام زندگی سے اُٹھائے گئے ہوتے تھے۔ کبھی بوڑھی عورت، کبھی ساس، کبھی سادہ لوح دیہاتی اور کبھی ایسا فرد جو پورے معاشرے کی کم زوریوں کو ایک ہی کردار میں سمیٹ لیتا تھا۔ ان کا مزاح نہ فحش تھا اور نہ ہی سطحی، بلکہ روز مرہ سماجی تضادات پر مبنی ہوتا تھا جسے ہر طبقہ آسانی سے سمجھ لیتا تھا۔
انیس سو نوے کی دہائی اور دو ہزار کی ابتدائی برسوں میں پشتو سی ڈی اور ڈی وی ڈی ڈراموں کے عروج نے علاقائی فن کاروں کے لیے ایک سنہری دور کی حیثیت اختیار کرلی۔ کیوں کہ اُس زمانے میں نہ یوٹیوب تھا، نہ سوشل میڈیا، اور نہ ہی ٹی وی چینلز پر پشتو مواد کے لیے مناسب گنجائش موجود تھی۔ ایسے میں سی ڈی اور ڈی وی ڈی ڈرامے ہی عوامی تفریح کا سب سے بڑا ذریعہ تھے۔ گاؤں، بازار، ہوٹل اور سفر کے دوران میں یہی ڈرامے چلتے نظر آتے تھے۔ اسی دور میں سیلئی جیسے فن کار عوامی سطح پر ستارے بن کر اُبھرے۔
سيلئی کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے بہ خوبی لگایا جا سکتا ہے کہ ان کے کئی ڈراموں نے پشتو سی ڈی اور ڈی وی ڈی دور میں ریکارڈ توڑ شہرت حاصل کی۔ خصوصاً "غوبل د خواخی اینگور” اور "چترئی بی بی” ایسے ڈرامے ثابت ہوئے جنہوں نے غیر معمولی عوامی پذیرائی حاصل کی۔ یہ ڈرامے نہ صرف بار بار دیکھے گئے بلکہ گاؤں، قصبوں اور شہروں میں ایک طویل عرصے تک لوگوں کی گفتگو کا حصہ بنے رہے۔ ان کی سی ڈیز اور ڈی وی ڈیز اُس وقت سب سے زیادہ فروخت ہونے والوں میں شمار ہوتی تھیں، جب کہ ہوٹلوں اور گھریلو محفلوں میں یہ ڈرامے بارہا چلائے جاتے تھے۔ ان میں سيلئی کی اداکاری اس قدر فطری، برجستہ اور یادگار تھی کہ کردار خود ڈرامے پر حاوی ہو گیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی یہ ڈرامے پشتو مزاحیہ تاریخ کے سب سے زیادہ دیکھے جانے والے اور پسندیدہ کاموں میں شمار ہوتے ہیں۔
سيلئی نے اپنے کیریئر میں سیکڑوں پشتو مزاحیہ ڈراموں میں کام کیا۔ بعض اندازوں کے مطابق ان کی پروڈکشنز کی تعداد 200 سے زائد ہے۔ اگرچہ یہ ڈرامے تکنیکی اعتبار سے کم زور تھے، مگر مواد، مکالموں اور کرداروں کے لحاظ سے عوام کے دلوں کے بے حد قریب تھے۔ ان ڈراموں نے نہ صرف فن کاروں کو روزگار فراہم کیا بلکہ پشتو زبان، ثقافت اور مزاح کو گھر گھر پہنچایا۔
وقت کے ساتھ ساتھ سی ڈی اور ڈی وی ڈی کلچر زوال کا شکار ہوگیا۔ اس کی کئی وجوہات تھیں، جن میں غیر قانونی کاپیاں، غیر منظم مارکیٹ، فن کاروں کا معاشی استحصال اور پھر ڈیجیٹل میڈیا کا اچانک پھیلاؤ شامل ہیں۔ یوٹیوب اور سوشل میڈیا نے اگرچہ مواد کو عام کر دیا، مگر مقامی فن کاروں کے لیے باقاعدہ آمدن کے دروازے بہ تدریج بند ہوتے چلے گئے۔ اس زوال کا سب سے زیادہ نقصان انہی فن کاروں کو ہوا جن کی زندگی کا دارومدار اسی صنعت پر تھا۔
افسوس کہ پشتو مزاح کو زندگی بھر ہنسانے والا یہ فن کار خود زیادہ عرصہ زندگی کی مسکراہٹوں سے لطف اندوز نہ ہو سکا۔ فضل رحمان المعروف سیلئی 29 ستمبر 2016ء بہ روزِ جمعرات حرکتِ قلب بند ہو جانے کے باعث اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ موصوف ضلع سوات کے علاقے کانجو کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔ ان کی اچانک وفات نے نہ صرف سوات بلکہ پورے پشتو فن و ثقافت سے وابستہ حلقوں کو گہرے صدمے سے دوچار کر دیا۔ ایک ایسا فن کار جو سٹیج اور اسکرین پر قہقہے بکھیرتا رہا، خاموشی سے رخصت ہو گیا اور یوں پشتو مزاح کا ایک پورا باب بند ہوگیا۔
آج سيلئی ہمارے درمیان موجود نہیں، مگر ان کی اداکاری آج بھی یوٹیوب اور سوشل میڈیا پر زندہ ہے۔ ان کے مکالمے، حرکات اور کردار آج بھی لوگوں کو ہنساتے ہیں، اور یہی کسی بھی فن کار کی اصل کامیابی ہوتی ہے۔
قارئین، یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ فضل رحمان سیلئی محض ایک مزاحیہ اداکار نہیں تھے بلکہ وہ پختون معاشرے کے ایک عہد کی نمائندگی کرتے تھے۔ وہ عہد جس میں کم وسائل کے باوجود تخلیق، سچائی اور عوامی وابستگی موجود تھی۔ پشتو سی ڈی اور ڈی وی ڈی ڈراموں کا عروج و زوال اپنی جگہ، مگر سیلئی جیسے فن کار اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ اصل فن کار وہ ہوتا ہے جو وسائل کے بغیر بھی لوگوں کے دل جیت لے۔ ایسے فن کاروں کو یاد رکھنا دراصل اپنی ثقافتی تاریخ کو زندہ رکھنے کے مترادف ہے۔ جاتے جاتے بس یہی دعا ہے کہ اللہ تعالا اُن کو جنت الفردوس میں اعلا مقام عطا فرمائے، آمین۔
_________________________________
ابدالی ڈاٹ کام کی انتظامیہ کے لیے یہ لازم نہیں کہ وہ لکھاری کے تمام خیالات سے متفق ہو۔ تمام مضامین کی اشاعت کا مقصد آزادانہ اظہارِ رائے کو فروغ دینا ہے۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو براہِ کرم اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فیس بُک آئی ڈی اور مختصر تعارف کے ساتھ ahabdali944@gmail.com پر ای میل کریں۔ تحریر کی اشاعت یا عدمِ اشاعت کا حتمی اختیار ادارتی بورڈ کے پاس محفوظ ہے۔
شیئرکریں: