کسی خطے کی اصل پہچان اس کے قلعوں، وادیوں یا قدرتی حسن سے نہیں بلکہ ان شخصیات سے ہوتی ہے جو اس کی تاریخ، زبان اور تہذیب کو وقت کی گرد سے محفوظ رکھتی ہیں۔ وادیٔ سوات جو صدیوں سے تہذیبوں کا مسکن رہی ہے، آج اگر علمی و ثقافتی حوالے سے کسی ایک معتبر نام کی وجہ سے پہچانی جاتی ہے تو وہ نام پرویش شاہین ہے۔ وہ محض ایک شاعر، ادیب یا محقق نہیں بلکہ ایک ایسا فکری ورثہ ہیں جنہوں نے سوات اور مجموعی طور پر پختون خطے کی تاریخ کو شعور، دیانت اور تحقیق کے ساتھ محفوظ کیا۔
پرویش شاہین 12 اکتوبر 1944ء کو سوات کے تاریخی گاؤں منگلور میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم گورنمنٹ سکول منگلور سے حاصل کی۔ بعد ازاں یونی ورسٹی آف پشاور سے ایم اے پشتو اور ایم اے اُردو کی ڈگریاں حاصل کیں، جب کہ ایم اے تاریخ اور ایم اے ایجوکیشن پنجاب یونی ورسٹی سے مکمل کیں۔ علمی قابلیت کے اعتراف میں یونی ورسٹی آف پشاور نے انہیں گولڈ میڈل سے نوازا۔ مزید برآں انہوں نے علامہ اقبال اوپن یونی ورسٹی اسلام آباد سے سوشیالوجی کی سند بھی حاصل کی۔ یہی علمی تنوع ان کی تحریروں میں فکری گہرائی، توازن اور وسعت پیدا کرتا ہے۔
ادبی دنیا میں پرویش شاہین کی پہچان ان کی غیر معمولی تصنیفی اور تحقیقی خدمات سے ہے۔ وہ پشتو اور اُردو زبان میں تقریباً 55 معیاری کتب کے خالق ہیں، جب کہ انگریزی میں بھی ان کی تحریریں شائع ہو چکی ہیں۔ ان کے ایک ہزار سے زائد تحقیقی مضامین اور پانچ سو کے قریب کالم مختلف قومی و بین الاقوامی اخبارات، جرائد اور تحقیقی مجلات میں شائع ہو چکے ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ وہ ساتویں جماعت کے طالب علم تھے جب روزنامہ شہباز پشاور میں ان کی تحریریں شائع ہونا شروع ہو گئیں، جو ان کی فکری بلوغت کا واضح ثبوت ہے۔
ان کی تحریروں کے موضوعات محض تاریخ تک محدود نہیں بلکہ سوات کی مقامی تہذیب، پشتون معاشرت، گندھارا تہذیب، بدھ مت کا تاریخی پس منظر، لسانیات، لوک ادب، ماحولیات اور ثقافتی ورثے کے تحفظ جیسے ایسے موضوعات بھی شامل ہیں جن پر کم توجہ دی جاتی رہی ہے۔ ان کی دو کتب علامہ اقبال اوپن یونی ورسٹی اور سی ایس ایس کے نصاب میں بھی شامل رہ چکی ہیں، جو ان کے علمی مقام کا اعتراف ہے۔
پرویش شاہین کی شخصیت کا ایک درخشاں پہلو ان کی ذاتی لائبریری اور میوزیم ہے، جو ان کے اپنے گھر میں قائم ہے۔ اس لائبریری میں اس وقت تیس ہزار سے زائد نایاب کتابیں، رسائل، جرائد، مخطوطات اور قدیم اشیا محفوظ ہیں۔ یہ محض ذاتی ذخیرہ نہیں بلکہ ایک چلتی پھرتی جامعہ اور تاریخ کا بیش بہا خزانہ ہے، جس سے محققین، طلبہ اور اہلِ علم مسلسل استفادہ کرتے آ رہے ہیں۔ ان کی دلی خواہش ہے کہ یہ علمی سرمایہ ریاستی سرپرستی میں محفوظ ہو تاکہ آنے والی نسلیں بھی اس سے فائدہ اُٹھا سکیں۔
عملی زندگی میں انہوں نے تدریس کو بطورُ مشن اختیار کیا۔ بطورِ استاد خدمات انجام دینے کے بعد گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری سکول پشاور میں پرنسپل کے عہدے پر فائز رہے اور گریڈ انیس میں ریٹائر ہوئے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی ان کی علمی سرگرمیاں نہ رکیں بلکہ مزید وسعت اختیار کرتی گئیں۔ وہ اسلام آباد کے لوک ورثہ ادارے کے ساتھ قدیم لکڑی کے میوزیمز کے تحفظ پر بطور ریسرچ اسکالر کام کرتے رہے۔ اسی طرح سوئٹزرلینڈ اور جاپان کے اشتراک سے چلنے والے کالام ڈیویلپمنٹ پراجیکٹ (1998-2000) میں کنسلٹنٹ اور چیئرمین کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔
سوات میں دہشت گردی کے سیاہ دور کے دوران میں پرویش شاہین نے علم اور ثقافت کے تحفظ میں غیرمعمولی جرأت کا مظاہرہ کیا۔ طالبان کے خلاف ریاستی مؤقف کی حمایت کی جس کے نتیجے میں ان پر جانی حملہ بھی ہوا، تاہم وہ محفوظ رہے۔ ان کی لائبریری کو شدید نقصان پہنچایا گیا، مگر انہوں نے شورش کے دوران میں قیمتی آثارِ قدیمہ کو زمین میں دفن کر کے تباہی سے بچا لیا۔ بعد ازاں بدھ مت کے مجسمے کو پہنچنے والے نقصان کی بحالی کے لیے اطالوی مشن کے ساتھ بطورِ رضاکار بھی کام کیا۔ انہوں نے ڈائریکٹر نیشنل لینگویج اتھارٹی خیبر پختون خوا کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔
ادبی سطح پر وہ اس وقت سوات ادبی جرگہ کے صدر ہیں اور ملک بھر میں منعقد ہونے والے علمی و ادبی سیمینارز میں مختلف موضوعات پر اظہارِ خیال کرتے رہتے ہیں۔ ان کے انٹرویوز قومی و بین الاقوامی ٹی وی چینلز پر نشر ہو چکے ہیں اور تحقیقی حلقوں میں ان کا نام ایک مستند حوالہ سمجھا جاتا ہے۔
مختصر یہ کہ پرویش شاہین ایک فرد نہیں بلکہ ایک ادارہ ہیں۔ وہ اس خاموش مگر مضبوط روایت کے امین ہیں جو کتاب، قلم اور شعور کے ذریعے قوموں کو زندہ رکھتی ہے۔ ایسے لوگ وقت کے شور میں کم دکھائی دیتے ہیں مگر تاریخ کے اوراق پر ہمیشہ روشن رہتے ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں عمرِ دراز عطا فرمائے تاکہ ان کا قلم اس مٹی کی قیمتی تاریخ آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ کرتا رہے، آمین۔
________________________________
ابدالی ڈاٹ کام کی انتظامیہ کے لیے یہ لازم نہیں کہ وہ لکھاری کے تمام خیالات سے متفق ہو۔ تمام مضامین کی اشاعت کا مقصد آزادانہ اظہارِ رائے کو فروغ دینا ہے۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو براہِ کرم اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فیس بُک آئی ڈی اور مختصر تعارف کے ساتھ ahabdali944@gmail.com پر ای میل کریں۔ تحریر کی اشاعت یا عدمِ اشاعت کا حتمی اختیار ادارتی بورڈ کے پاس محفوظ ہے۔
شیئرکریں: