ہر دور میں کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو اپنی زندگی کے ذریعے معاشرے کے لیے مثال قائم کر دیتی ہیں۔ شہید شعیب خان اسی قسم کے راہ نما تھے، جنہوں نے سیاست کو اقتدار کا کھیل نہیں بلکہ خدمت اور قربانی کا فریضہ بنایا۔ ان کی زندگی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ حقیقی سیاست صرف ووٹ جیتنے یا نشست حاصل کرنے کا نام نہیں، بلکہ عوام کی بھلائی، اصولوں کی پاسداری اور معاشرتی امن قائم رکھنے کی لگن ہے۔
سابق ممبر صوبائی اسمبلی شعیب خان شہید ایک ہمہ جہت شخصیت تھے جن کا نام سنتے ہی پختون وقار، صوابی کی مٹی اور اصولی سیاست کا تصور ذہن میں ابھرتا ہے۔ وہ ایک ایسے دور کی علامت تھے جب سیاست خدمت، قربانی اور اخلاقی جرات کا دوسرا نام سمجھی جاتی تھی۔
شہید شعیب خان کی سیاست اقتدار کے حصول کی سیاست نہیں تھی، بلکہ یہ ایک نظریاتی سفر تھا، جس میں ذاتی مفاد، خوف اور مصلحت کا کوئی دخل نہ تھا۔ وہ پختون قوم کے دکھ، محرومی اور عزت کے محافظ تھے۔ ان کی ذات میں سادگی، درویشی اور قیادت کا حسین امتزاج موجود تھا، جو آج کے شور زدہ سیاسی ماحول میں نایاب ہو چکا ہے۔
شعیب خان مرحوم کی زندگی کا سب سے نمایاں پہلو ان کا بے داغ کردار تھا۔ وہ سیاست میں بھی ایک متقی انسان کے طور پر پہچانے جاتے تھے۔ نہ دولت کی ہوس، نہ شہرت کا جنون اور نہ ہی اقتدار کی لالچ، یہ سب ان کے مزاج سے کوسوں دور تھا۔
وہ جس محفل میں بیٹھتے، وہاں شائستگی، برداشت اور اخلاق خود بخود غالب آ جاتا۔ ان کا تقویٰ محض عبادات تک محدود نہیں تھا بلکہ یہ ان کے فیصلوں، گفتگو اور عمل میں جھلکتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ دوست اور مخالف دونوں ان کے کردار کے معترف تھے۔
ان کی شخصیت اس بات کی عملی مثال تھی کہ اگر سیاست اخلاق کے دائرے میں رہے تو وہ معاشرے کے لیے رحمت بن جاتی ہے، اور اگر اخلاق سے خالی ہو جائے تو زحمت۔
شہید شعیب خان صرف ایک سیاسی راہ نما نہیں تھے، بلکہ وہ سماجی سطح پر ایک معجزاتی کردار کے حامل انسان بھی تھے۔ ان کی سب سے بڑی شناخت ضلعی اور مقامی مصالحت و امن کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے تھی، جہاں انہوں نے برسوں پرانے تنازعات کو حکمت، صبر اور انصاف کے ساتھ حل کیا۔
ان کے حجرے کے دروازے ہر وقت کھلے رہتے۔ کوئی مظلوم ہو، کوئی ناراض، کوئی دشمنی میں الجھا ہو، شعیب خان سب کے لیے امید کی کرن تھے۔ انہوں نے نفرت کے بہ جائے مکالمے کو فروغ دیا اور انتقام کے بہ جائے درگزر کو اپنا شعار بنایا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا نام آج بھی صوابی میں امن، صلح اور بھائی چارے کی علامت کے طور پر لیا جاتا ہے۔
شہید شعیب خان کی سیاسی زندگی جدوجہد اور قربانی سے عبارت ہے۔ چھے (06) مرتبہ جیل جانا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ انہوں نے کبھی ظلم کے سامنے سر نہیں جھکایا۔ قید و بند کی صعوبتیں، دھمکیاں اور دباؤ ان کے حوصلے کو متزلزل نہ کر سکے۔
وہ پختون قوم کے حقوق کے لیے کھل کر بولتے تھے، چاہے اس کی قیمت انہیں آزادی کی صورت میں ادا کرنی پڑے۔ یہی بے خوفی اور ثابت قدمی انہیں عوامی نیشنل پارٹی صوابی کی صدارت تک لے گئی، جہاں انہوں نے دو مرتبہ عوام اور کارکنوں کا اعتماد حاصل کیا۔ کیوں کہ ان کی سیاست مصلحت نہیں، مزاحمت کی سیاست تھی وہ بھی وقار اور اصولوں کے ساتھ۔
قارئین، 1997ء کا انتخابی معرکہ شعیب خان شہید کی عوامی مقبولیت کا عملی اظہار تھا۔ صوبائی اسمبلی کی نشست پر ان کی کامیابی محض ایک انتخابی جیت نہیں تھی، بلکہ یہ عوام کی طرف سے ان کی دیانت، قربانی اور مسلسل جدوجہد کی توثیق تھی۔ وہ ایوان میں بھی وہی شعیب خان تھے جو گلی، حجرے اور کھیتوں میں نظر آتے تھے۔ سادہ، باوقار اور عوام دوست۔ ان کا طرزِ سیاست اشرافیہ سے نہیں بلکہ عوام کے دلوں سے جڑا ہوا تھا۔ انہوں نے ثابت کیا کہ اگر نیت صاف ہو تو سیاست بھی عبادت بن سکتی ہے۔
72 برس کی پختہ عمر میں، ایک دردناک اور ظالمانہ واقعے نے اس چراغ کو بجھا دیا جو برسوں سے روشنی بانٹ رہا تھا۔ انہیں اپنے ہی حجرے میں بے رحمی سے شہید کر دیا گیا۔ یہ واقعہ صرف ایک فرد کا قتل نہیں تھا، بلکہ امن، برداشت اور اصولی سیاست پر حملہ تھا۔
مگر تاریخ گواہ ہے کہ جسمانی موت نظریات کو ختم نہیں کر سکتی۔ شہید شعیب خان آج بھی اپنے کردار، قربانی اور خدمات کے ذریعے زندہ ہیں۔ وہ ایک ایسا چراغ تھے جو خود تو بجھ گئے مگر آنے والی نسلوں کے لیے راستہ روشن کر گئے۔ یہی وجہ ہے کہ پختون قوم اور صوابی کی مٹی ہمیشہ اس سپوت پر فخر کرتی رہے گی۔
قارئین، شعیب خان شہید کی زندگی اور قربانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ سیاست اخلاق، خدمت اور اصولوں کے بغیر نامکمل ہے۔ وہ خود تو ہم سے جدا ہو گئے، لیکن ان کے نظریات، کردار اور امن کے مشن کی روشنی ہمیشہ زندہ رہے گی۔ آج ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چل کر نہ صرف اپنی قوم بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی وفاداری، حوصلہ اور اخلاقی قیادت کی مثال قائم کرنی ہوگی۔
جاتے جاتے بس یہی دعا ہے کہ خداوندِ تعالا شعیب خان شہید کے درجات بلند فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے، اور ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق دے، آمین۔
____________________________
ابدالى انتظامیہ کا لکھاری سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شایع کروانا چاہتے ہیں، تو اُسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ ahabdali944@gmail.com پر اِی میل کر دیجئے۔ تحریر شایع کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔
