فن کے اظہار کے لیے فن کاروں کے خیالات کسی حدود و قیود کے پابند نہیں ہوتے۔ آج ہم جس فن کار کا تعارف کروا رہے ہیں، ان کی خاصیت یہ ہے کہ وہ دنیا بھر کی مشہور شخصیات کے پورٹریٹ تیار کرنے کے لیے کسی عام پینسل، کینوس یا پینٹنگ برش کے بہ جائے چھلنی اور سوئی دھاگوں کا استعمال کرتی ہیں۔
یہ منفرد فن الماس خانم نامی آرٹسٹ کے ذریعے پیش کیا جاتا ہے، جن کا تعلق خیبر پختون خوا کے ضلع ملاکنڈ کے علاقے ہریان کوٹ سے ہے۔ الماس خانم اب تک چھلنی پر سوئی دھاگے کی مدد سے درجنوں شخصیات کے منفرد اور دلکش پورٹریٹ تخلیق کر چکی ہیں۔ ان کے گھرانے کو ہاڑی پر واقع گھر ہونے کی وجہ سے علاقے کے لوگ "چاند والے” کے نام سے جانتے ہیں۔ الماس نے اس فن کی تربیت کسی مخصوص ادارے یا اسکول سے نہیں بلکہ اپنے والد، آرٹسٹ طالب جان، اور بھائی کامران خان سے حاصل کی، جو خود بھی فنون لطیفہ کے ماہر ہیں۔
الماس خانم کا کہنا ہے کہ چھوٹے سائز کے پورٹریٹ تیار کرنے میں دو سے تین دن کا وقت لگتا ہے، جب کہ بڑے جال یا بڑے سائز کے پورٹریٹ کو مکمل کرنے میں دس سے بارہ دن درکار ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق اب تک وہ بین الاقوامی شہرت یافتہ شخصیات جیسے کہ باچا خان، عبدالستار ایدھی، ملالہ یوسف زئی اور ان کے والد ضیاءالدین یوسف زئی، سابقہ وزیرِ اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو، افغانستان کے صدر محمد اشرف غنی، صحافی حامد میر، مچھیا بابا، غازی امان اللہ خان، شہید عثمان خان کاکڑ، اور چی گویرا سمیت دیگر مشہور شخصیات کے پورٹریٹ تخلیق کر چکی ہیں۔
یہ منفرد اور جدید تخلیقی طرز فن الماس خانم کو نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں ممتاز اور پہچانا ہوا فن کار بناتا ہے، جو روایت اور جدت کا حسین امتزاج پیش کرتا ہے۔

شیئرکریں: