توشہ خانہ (State Repository) ایک باقاعدہ سرکاری محکمہ ہے، جہاں ریاستی عہدے داروں کو غیر ملکی دوروں کے دوران ملنے والے قیمتی تحائف جمع اور محفوظ کیے جاتے ہیں۔ یہ تحائف صدرِ مملکت، وزیرِ اعظم، وزرائے اعلیٰ یا دیگر اعلیٰ سرکاری عہدے داروں کو ان کے ذاتی تشخص کے بہ جائے ان کے سرکاری منصب کی حیثیت سے پیش کیے جاتے ہیں، اس لیے انہیں ریاست کی ملکیت تصور کیا جاتا ہے۔
کسی بھی غیر ملکی دورے کے دوران وزارتِ خارجہ کے اہل کار موصول ہونے والے تحائف کا باضابطہ اندراج کرتے ہیں، جب کہ وطن واپسی پر یہ تمام تحائف توشہ خانہ میں جمع کروائے جاتے ہیں۔ یہاں محفوظ تحائف یا تو قومی یادگار کے طور پر رکھے جاتے ہیں، یا پھر کابینہ کی منظوری سے انہیں فروخت کر دیا جاتا ہے، تاکہ ان کی مالیت قومی خزانے میں جمع ہو سکے۔
پاکستان کے قوانین کے مطابق اگر کسی تحفے کی مالیت 30 ہزار روپے سے کم ہو، تو تحفہ حاصل کرنے والا شخص اسے بلا معاوضہ اپنے پاس رکھ سکتا ہے۔ تاہم جن تحائف کی قیمت 30 ہزار روپے سے زائد ہو، انہیں حاصل کرنے کے لیے مقررہ قیمت کا 50 فی صد ادا کرنا لازم ہوتا ہے۔
توشہ خانہ دراصل ایک سرکاری گودام یا محفوظ ذخیرہ گاہ ہے، جہاں ان تمام تحائف کو باقاعدہ ضابطوں کے تحت رکھا جاتا ہے۔ چونکہ اعلیٰ ریاستی شخصیات سرکاری فرائض کی انجام دہی کے سلسلے میں بیرونِ ملک دورے کرتی ہیں، اس لیے انہیں ملنے والی ہر قیمتی شے ریاست کی امانت سمجھی جاتی ہے۔
وطنِ عزیز پاکستان میں توشہ خانہ کے قیام کو 1972ء میں ایک باقاعدہ ایکٹ کے ذریعے قانونی حیثیت دی گئی، تاکہ غیر ملکی تحائف کے اندراج، تحفظ، استعمال اور فروخت سے متعلق قواعد و ضوابط کو منظم اور شفاف بنایا جا سکے۔
شیئرکریں: