سوات کی سرزمین تاریخ کے ہر دور میں جرات، استقامت اور نظریاتی وابستگی کی روشن مثال رہی ہے۔ یہی وہ دھرتی ہے جہاں مشکل ترین حالات میں بھی ایسے کردار جنم لیتے رہے ہیں جو حالات کے سامنے جھکنے کے بہ جائے اپنے اصولوں پر ڈٹے رہتے ہیں۔ ان ہی تابندہ کرداروں میں وقار احمد خان کا نام ایک خاص اہمیت رکھتا ہے۔ وہ محض ایک سیاست دان نہیں تھے بلکہ ایک نظریاتی کارکن، ایک باحوصلہ انسان اور ایک ایسے خاندان کے فرد تھے جس نے جمہوریت، امن اور باچا خان کے فلسفۂ عدمِ تشدد کے لیے بے مثال قربانیاں دیں۔ ان کی زندگی جدوجہد، استقامت اور وفاداری کی ایک ایسی داستان ہے جو آج کے دور میں کم ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔
قارئین، وقار احمد خان المعروف جان لالا 15 اکتوبر 1967ء کو وادی سوات کے تحصیلِ کبل کے علاقے کوزا سمئی میں ایک معزز اور سیاسی شعور رکھنے والے خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد محمد خان ایک باوقار شخصیت کے مالک تھے، جنہوں نے اپنے بچوں کی تربیت میں اصول پسندی اور عوامی خدمت کے جذبے کو بنیادی اہمیت دی۔ وقار احمد خان نے ابتدائی تعلیم اپنے علاقے میں حاصل کی۔ اگرچہ وہ روایتی معنوں میں اعلیٰ تعلیمی اسناد کے حامل نہ تھے، مگر ان کی سیاسی بصیرت، عوامی شعور اور حالات کو سمجھنے کی صلاحیت کسی بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص سے کم نہ تھی۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے عملی زندگی میں اپنی ایک منفرد پہچان بنائی۔
ان کی عملی زندگی کا آغاز ایک عام کارکن کے طور پر ہوا۔ وہ ابتدا ہی سے عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے پلیٹ فارم سے وابستہ ہو گئے، جو باچا خان کے فلسفۂ عدمِ تشدد، انسان دوستی اور جمہوریت کی علمبردار جماعت ہے۔ وقار احمد خان نے اس نظریے کو محض سیاسی نعرہ نہیں بنایا بلکہ اسے اپنی عملی زندگی کا حصہ بنایا۔ وہ گلی کوچوں میں عوام کے مسائل سنتے، ان کے حل کے لیے کوشش کرتے اور ہر مشکل وقت میں لوگوں کے ساتھ کھڑے نظر آتے تھے۔ یہی عوامی رابطہ اور خلوص انہیں رفتہ رفتہ ایک مضبوط سیاسی مقام تک لے گیا۔
2008 کے عام انتخابات میں وہ پہلی مرتبہ خیبر پختونخوا اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ یہ وہ وقت تھا جب سوات دہشت گردی کی لپیٹ میں تھا اور سیاست کرنا کسی بھی صورت آسان نہیں تھا۔ اس کے باوجود انہوں نے نہ صرف انتخابات میں حصہ لیا بلکہ کامیابی حاصل کر کے یہ ثابت کیا کہ عوام اب بھی نظریاتی سیاست پر یقین رکھتے ہیں۔ بطور ایم پی اے انہوں نے اپنے حلقے کے مسائل کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا اور مختلف کمیٹیوں میں فعال کردار ادا کیا۔ 2018 کے انتخابات میں ایک بار پھر ان کی کامیابی اس بات کا ثبوت تھی کہ وہ محض ایک وقتی سیاستدان نہیں بلکہ عوام کے دلوں میں جگہ بنانے والے رہنما ہیں۔
تاہم وقار احمد خان کی زندگی کو سمجھنے کے لیے ان کے خاندان کی قربانیوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ سوات میں شدت پسندی کے عروج کے دوران ان کے خاندان کو نشانہ بنایا گیا۔ دہشت گردوں نے ان کے گھر، حجرے اور خاندان کو بارہا حملوں کا نشانہ بنایا۔ ان کے بھائی اقبال خان اور دو بھتیجوں سمیت خاندان کے متعدد افراد کو شہید کر دیا گیا۔ مجموعی طور پر ان کے خاندان کے 14 افراد نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ یہ کوئی معمولی قربانی نہیں بلکہ ایک ایسی داستان ہے جو اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ یہ خاندان محض سیاسی وابستگی نہیں بلکہ ایک نظریے کی حفاظت کر رہا تھا۔
ان سانحات کے باوجود نہ تو وقار احمد خان کے قدم ڈگمگائے اور نہ ہی ان کے خاندان نے اپنے راستے سے انحراف کیا۔ انہوں نے ہر دکھ اور صدمے کو صبر اور حوصلے کے ساتھ برداشت کیا اور مزید مضبوطی کے ساتھ اپنے نظریے سے جڑے رہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی ان کا خاندان اسی نظریاتی راستے پر گامزن ہے۔ حسین احمد خان المعروف خان نواب اور افتخار احمد آج بھی پارٹی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لے رہے ہیں اور اسی مشن کو آگے بڑھا رہے ہیں جس کے لیے ان کے خاندان نے اتنی بڑی قربانیاں دیں۔
بدقسمتی سے ہماری سیاست میں اصول، قربانیاں اور نظریاتی وابستگی ہمیشہ کامیابی کی ضمانت نہیں بنتیں۔ 2024 کے عام انتخابات اس کی ایک واضح مثال ہیں، جہاں اس خاندان کے ساتھ ایک بار پھر ناانصافی کی گئی۔ مبینہ طور پر مقتدرہ قوتوں کی مداخلت کے باعث ان کی جیتی ہوئی نشست کو ہار میں تبدیل کر دیا گیا۔ یہ واقعہ نہ صرف جمہوریت کے لیے ایک سوالیہ نشان ہے بلکہ ان تمام خاندانوں کے لیے بھی ایک مایوس کن پیغام ہے جو دہائیوں سے جمہوری جدوجہد میں مصروف ہیں۔
وقار احمد خان کی شخصیت اپنی مثال آپ تھی۔ وہ نہایت سادہ، ملنسار اور نرم خو انسان تھے۔ ان کے اندر تکبر کا نام و نشان نہیں تھا۔ وہ ہر شخص سے خندہ پیشانی سے ملتے اور لوگوں کے مسائل کو سنجیدگی سے سنتے تھے۔ ان کی گفتگو میں شائستگی اور رویے میں عاجزی نمایاں تھی۔ یہی خصوصیات انہیں ایک مقبول عوامی رہنما بناتی تھیں۔ وہ اقتدار کو خدمت کا ذریعہ سمجھتے تھے نہ کہ ذاتی مفاد کا۔
30 اپریل 2022ء کو دل کا دورہ پڑنے سے ان کا انتقال ہو گیا۔ ان کی یہ اچانک وفات نہ صرف ایک سیاسی سانحہ تھی بلکہ ایک سماجی المیہ بھی تھی۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ پختونخوا—اگر پورا صوبہ نہیں تو کم از کم سوات کا ہر ذی شعور انسان اس خبر پر اشکبار ہوا ہوگا، کیونکہ ان کے خاندان کی بے مثال قربانیاں اور خود وقار احمد خان کی شفاف، مخلص اور عوام دوست شخصیت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں تھی۔ ان کے جانے سے جو خلا پیدا ہوا، وہ آج بھی محسوس کیا جاتا ہے۔
ان کے جنازے میں عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی و صوبائی قائدین سمیت ہزاروں افراد نے شرکت کی اور انہیں زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا۔ ہر آنکھ اشکبار تھی اور ہر زبان ان کی خدمات کا اعتراف کر رہی تھی۔ اسی طرح خیبر پختونخوا اسمبلی میں ان کے لیے خصوصی اجلاس منعقد کیا گیا، جس میں اراکینِ اسمبلی نے ان کے کردار، جمہوری خدمات اور اپنے حلقے کے عوام کے مسائل کے لیے ان کی مسلسل جدوجہد کو خراجِ عقیدت پیش کیا، جبکہ ان کی مغفرت کے لیے اجتماعی دعا بھی کی گئی۔ یہ سب اس بات کا ثبوت تھا کہ وہ محض ایک سیاستدان نہیں بلکہ ایک قابلِ احترام عوامی رہنما تھے۔
آخر میں یہ کہنا بالکل بجا ہے کہ وقار احمد خان اور ان کا خاندان سوات ہی نہیں بلکہ پورے خیبر پختونخوا کی سیاست میں ایک علامت کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ علامت ہے استقامت کی، وفاداری کی اور اس نظریے کی جو ظلم اور جبر کے سامنے جھکنے کے بجائے ڈٹ کر مقابلہ کرنا سکھاتا ہے۔ ایسے لوگ اور ایسے خاندان تاریخ کا سرمایہ ہوتے ہیں، اور قومیں اسی وقت ترقی کرتی ہیں جب وہ اپنے ایسے کرداروں کو پہچان کر ان کی قدر کرتی ہیں۔ وقار احمد خان کا نام اور ان کی جدوجہد ہمیشہ یاد رکھی جائے گی، کیونکہ انہوں نے یہ ثابت کیا کہ اصل کامیابی اقتدار میں نہیں بلکہ اصولوں پر قائم رہنے میں ہے۔
________________________________
ابدالی ڈاٹ کام کی انتظامیہ کے لیے یہ لازم نہیں کہ وہ لکھاری کے تمام خیالات سے متفق ہو۔ تمام مضامین کی اشاعت کا مقصد آزادانہ اظہارِ رائے کو فروغ دینا ہے۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو براہِ کرم اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فیس بُک آئی ڈی اور مختصر تعارف کے ساتھ ahabdali944@gmail.com پر ای میل کریں۔ تحریر کی اشاعت یا عدمِ اشاعت کا حتمی اختیار ادارتی بورڈ کے پاس محفوظ ہے۔
شیئرکریں: