ایمن اداس پشتو موسیقی کی تاریخ میں ایک ایسا نام ہے جو اپنی آواز کی مٹھاس سے زیادہ اپنی زندگی کے المیے کی وجہ سے یاد رکھا جاتا ہے۔ وہ ایک اُبھرتی ہوئی پشتو گلوکارہ تھیں جنہوں نے نہایت کم عرصے میں شہرت کی منازل طے کیں، مگر قسمت نے اُنہیں زیادہ مہلت نہ دی۔ خیبر پختون خوا کے ایک روایتی معاشرتی پس منظر میں آنکھ کھولنے والی اس نوجوان فن کارہ نے جب گلوکاری کو اپنا میدان بنایا، تو یہ فیصلہ محض ایک پیشہ ورانہ انتخاب نہیں تھا بلکہ ایک سماجی جرات بھی تھا۔ پشتون معاشرے میں جہاں خواتین کا گھریلو دائرے سے باہر نکل کر فنونِ لطیفہ سے وابستہ ہونا آج بھی مکمل طور پر قبولِ عام حاصل نہیں کر سکا، وہاں ایمن اداس کا موسیقی کی دنیا میں قدم رکھنا اپنی ذات میں ایک خاموش بغاوت تھا۔ ایمن اداس کا تعلق ضلع مردان کے تاریخی علاقے تخت بائی سے تھا۔ وہ ایک تعلیم یافتہ فن کارہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہترین شاعرہ بھی تھیں، جس کی جھلک اُن کے گانوں کے انتخاب اور ادائیگی میں صاف محسوس کی جا سکتی تھی۔
قارئین، ایمن اداس کی آواز میں ایک خاص طرح کا درد اور سوز پایا جاتا تھا جو سامعین کو پہلی سماعت میں ہی اپنی طرف متوجہ کر لیتا تھا۔ اُن کا مشہور گانا "زما د مینی نہ توبہ دہ بیا بہ نہ کوم مینہ” پشتو موسیقی کے شائقین میں بے حد مقبول ہوا۔ اس گیت میں محبت کے جذبے کو جس سادگی اور سچائی سے پیش کیا گیا، اُس نے نوجوان نسل کو خاص طور پر متاثر کیا۔ یہ محض ایک رومانوی گیت نہیں تھا بلکہ اس میں ایک عورت کے دل کی آواز سنائی دیتی تھی جو محبت کو گناہ یا کم زوری نہیں بلکہ اپنی پہچان سمجھتی ہے۔ یہی بے ساختگی اور جذباتی سچائی اُن کی پہچان بنی۔ مقامی محفلوں، شادی بیاہ کی تقریبات اور بعد ازاں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اُن کے گیت بار بار سنے جاتے رہے۔ اگرچہ اُن کے گانوں کی تعداد زیادہ نہیں تھی لیکن جو کچھ انہوں نے پیش کیا وہ یادگار ثابت ہوا۔ اُن کے دیگر معروف گانوں میں جانانہ ستا پہ وسوسو کے اوسم، جانان راویخہ اومہ، اور د مینی نہ منکرہ، جیسے گیت بھی شامل ہیں۔
تاہم اُن کی فنی کامیابی کے ساتھ ساتھ ایک اندرونی کشمکش بھی چل رہی تھی۔ اطلاعات کے مطابق گھر کے بعض افراد اُن کے پیشے سے مطمئن نہیں تھے۔ یہ وہی تضاد ہے جو ہمارے معاشرے میں بارہا دیکھنے کو ملتا ہے۔ ایک طرف عوام انہی فن کاروں کے گیتوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں، انہیں شہرت دیتے ہیں، اُن کے نام پر محفلیں سجاتے ہیں اور دوسری طرف نجی سطح پر فن کو شک و شبہ کی نظر سے دیکھتے ہیں، خاص طور پر جب فن کار ایک عورت ہو۔ ایمن اداس کی ذاتی زندگی بھی اسی طرح کے گھریلو مسائل سے دوچار تھی، جس کی جھلک اُن کی شاعری اور گانوں میں بھی محسوس کی جا سکتی ہے۔ اُن کے بھائی اُن کے فن سے ناخوش تھے، لیکن وہ اس وقت اپنے فنی عروج کی طرف بڑھ رہی تھیں اور اپنے فن کو ترک کرنے پر آمادہ نہیں تھیں۔
قارئین، 2007ء سے 2009ء تک خیبر پختون خوا کے حالات شدید شورش اور بدامنی کا شکار رہے۔ اُس دور میں بہت سے فن کاروں نے خوف اور دباؤ کی وجہ سے اپنے فن سے کنارہ کشی اختیار کر لی یا بیرونِ ملک چلے گئے، لیکن ایمن اداس نے ان مشکل حالات کے باوجود اپنے فن کا دامن نہیں چھوڑا اور گلوکاری کا سفر جاری رکھا۔ یہ بھی اُن کی جرات اور فن سے وابستگی کا ایک اہم پہلو تھا۔
27 اپریل 2009ء کو یہ کشمکش ایک المناک انجام پر پہنچی جب پشاور میں ایمن اداس کو اُن کے اپنے بھائی نے قتل کر دیا۔ یہ واقعہ نہ صرف اُن کے خاندان بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایک سوالیہ نشان بن کر اُبھرا۔ میڈیا رپورٹس میں اسے غیرت کے تناظر میں بھی دیکھا گیا، جس نے ایک بار پھر اس بحث کو زندہ کیا کہ آخر فن اور غیرت کے تصورات آپس میں کیوں ٹکرا جاتے ہیں…؟
قارئین، ایمن اداس کی موت ایک فرد کا سانحہ ضرور تھی لیکن اس کے اثرات انفرادی دائرے سے کہیں وسیع تھے۔ اس واقعے نے پشتو موسیقی سے وابستہ خواتین کی سلامتی، سماجی قبولیت اور نفسیاتی دباؤ کے مسائل کو نمایاں کیا۔ بہت سی خواتین فن کارائیں پہلے ہی سماجی تنقید، کردار کشی اور خاندانی دباؤ کا سامنا کرتی ہیں۔ ایسے ماحول میں کام کرنا جہاں ہر قدم پر سوال اُٹھایا جائے، یقیناً آسان نہیں۔ ایمن اداس کی زندگی اس جدوجہد کی علامت بن گئی جس میں ایک طرف فن سے محبت جب کہ دوسری طرف روایت کی سخت دیواریں ہیں۔
اگر اس سانحے کو سامنے رکھ کر پشتو موسیقی اور عام لوگوں کی نفسیات کا تجزیہ کیا جائے، تو ایک گہرا تضاد اُبھر کر سامنے آتا ہے۔ ہمارے ہاں اجتماعی نفسیات میں فن سے جذباتی وابستگی تو موجود ہے، مگر فن کار سے سماجی وابستگی کم زور ہے۔ لوگ گیت سنتے ہیں، داد دیتے ہیں، مگر جب وہی فن کار اُن کے اپنے گھر کی دہلیز سے وابستہ ہو جائے، تو ردِعمل بدل جاتا ہے۔ خاص طور پر خواتین کے معاملے میں غیرت، روایت، عزت اور خاندان جیسے تصورات اس شدت سے اُبھرتے ہیں کہ فرد کی آزادی پسِ منظر میں چلی جاتی ہے۔ اس نفسیاتی کیفیت میں مردانہ بالادستی، سماجی دباؤ اور مذہبی و ثقافتی تعبیرات سب مل کر ایک ایسا ماحول تشکیل دیتے ہیں جہاں فن کارہ کو بہ طورِ انسان نہیں بلکہ بہ طورِ علامت دیکھا جاتا ہے اور اس علامت کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
قارئین، پشتو موسیقی بہ ذاتِ خود ایک قدیم اور مضبوط روایت کی حامل ہے۔ اس میں خوشی، غم، ہجرت، محبت، مزاحمت اور غیرت سب موضوعات شامل رہے ہیں۔ لیکن جب یہی موسیقی ایک عورت کی آواز میں سامنے آتی ہے، تو سماج کا رویہ یکساں نہیں رہتا۔ ایمن اداس کا کیس اسی اجتماعی ذہنی تضاد کا آئینہ دار ہے۔ ایک طرف اُن کا گیت "زما د مینی نہ توبہ دہ” عوامی سطح پر مقبول ہوتا ہے، دوسری طرف اسی آواز کو خاموش کر دیا جاتا ہے۔ یہ محض ایک جرم نہیں بلکہ ایک علامتی خاموشی تھی، جس نے یہ سوال چھوڑ دیا کہ کیا ہمارے معاشرے میں فن کار کو بہ طورِ انسان جینے کا حق حاصل ہے…؟
قارئین، ایمن اداس کی فنی تربیت میں استاد نظیر گل کا اہم کردار تھا۔ استاد نظیر گل کے مطابق ایمن اداس کی آواز پشتو کے دیگر تمام فن کاروں سے مختلف تھی۔ اُن کی آواز میں ایک خاص بھاری پن اور سوز تھا جو پشتو غزل کے لیے نہایت موزوں سمجھا جاتا تھا۔ اُنہیں سُر پر غیر معمولی دسترس حاصل تھی اور اُن کی آواز میں درد کا وہ عنصر نمایاں تھا جو کسی حد تک برِصغیر کی معروف گلوکاراؤں فریدہ خانم اور اقبال بانو کی یاد دلاتا تھا۔ استاد نظیر گل کے بقول ایمن اداس کا قتل صرف ایک فن کارہ کا قتل نہیں بلکہ پشتو ادب اور موسیقی کا قتل تھا۔
قارئین، ایمن اداس کی یاد آج بھی اُن کے گیتوں میں زندہ ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ شاید اُن کا نام نئی نسل کے لیے ایک تاریخی حوالہ بن جائے، مگر اُن کی کہانی پشتو سماج کے لیے ایک سبق بھی ہے۔ یہ سبق اس بات کا ہے کہ فن کو قبول کرنا اور فن کار کو قبول کرنا دو الگ چیزیں نہیں ہونی چاہئیں۔ جب تک ہم اپنی اجتماعی نفسیات میں اس تضاد کو دور نہیں کرتے، تب تک ایمن اداس جیسے سانحات محض خبریں نہیں بلکہ ہمارے سماجی رویّوں کا عکاس بنتے رہیں گے۔ اُن کی مختصر زندگی اور دردناک موت ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ موسیقی صرف آواز نہیں، بلکہ آزادیِ اظہار کی علامت بھی ہے اور اس علامت کو دبانے کی ہر کوشش دراصل معاشرے کی اپنی تخلیقی روح کو کم زور کرتی ہے۔ جاتے جاتے بس یہی دعا ہے کہ اللہ تعالا اُن کو جنت الفردوس میں اعلا مقام عطا فرمائے، آمین۔
______________________________
ابدالی ڈاٹ کام کی انتظامیہ کے لیے یہ لازم نہیں کہ وہ لکھاری کے تمام خیالات سے متفق ہو۔ تمام مضامین کی اشاعت کا مقصد آزادانہ اظہارِ رائے کو فروغ دینا ہے۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو براہِ کرم اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فیس بُک آئی ڈی اور مختصر تعارف کے ساتھ ahabdali944@gmail.com پر ای میل کریں۔ تحریر کی اشاعت یا عدمِ اشاعت کا حتمی اختیار ادارتی بورڈ کے پاس محفوظ ہے۔
شیئرکریں: