جامعہ کی زندگی محض درس و تدریس تک محدود نہیں ہوتی بلکہ یہ انسان کو مختلف اذہان، تجربات اور شخصیات سے روشناس کرواتی ہے۔ روزانہ نت نئی ملاقاتیں ہوتی ہیں، کچھ رسمی، کچھ عارضی اور کچھ ایسی جو دل و ذہن پر دیرپا نقش چھوڑ جاتی ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ بعض اندازے محض گمان نہیں رہتے بلکہ حقیقت کا روپ دھار لیتے ہیں۔
حال ہی میں چائنہ ونڈو میں کتاب "ڈوبتے چاند کا آخری منظر” کی تقریبِ رونمائی ایک علمی و ادبی ماحول میں منعقد ہوئی، جہاں مختلف طبقہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے افراد موجود تھے۔ اسی تقریب کے بعد ایک سینئر ادبی شخصیت سے تفصیلی ملاقات کا موقع ملا۔ اس سے قبل دو تین مختصر ملاقاتیں ضرور ہو چکی تھیں، مگر ہر بار وہ مجھے ایک نئے زاویے سے نظر آئے۔ کبھی ان کی گفتگو میں سنجیدگی جھلکتی، کبھی ان کی مسکراہٹ میں گہرے تجربات کی جھلک دکھائی دیتی۔ اس ملاقات میں تاہم ان کی شخصیت کا ایک زیادہ متوازن اور فکری پہلو سامنے آیا۔
واپسی کے سفر میں ادب، معاشرت اور تخلیقی ذمے داری پر سیر حاصل گفتگو ہوئی۔ یہ گفتگو محض رسمی جملوں یا تعریفی کلمات تک محدود نہیں تھی بلکہ اس میں عہدِ حاضر کے ادبی مسائل، لکھنے والے کی سماجی ذمے داری اور فکری دیانت جیسے موضوعات زیرِ بحث آئے۔ ایسے لمحات کم ہی نصیب ہوتے ہیں جب گفتگو انسان کو سوچنے پر مجبور کر دے اور اندر کہیں ایک نئی روشنی جگا دے۔
پشاور میں قیام کے دوران میں مسلسل نئے تجربات اور مختلف النوع آرا سے گزر رہا ہوں۔ یہ شہر جہاں تہذیب و تاریخ کا امین ہے، وہیں بعض اوقات تنگ نظری کے سائے بھی دکھائی دیتے ہیں۔ کچھ لوگ ہر موضوع کو محض صنفِ نازک کے گرد گھما کر دیکھنے کے عادی ہو چکے ہیں اور زندگی کے وسیع تر مسائل سے آنکھ چرا لیتے ہیں۔ مگر اس سینئر شخصیت میں میں نے ایک مختلف اندازِ فکر پایا۔ ان کا نقطۂ نظر نہ صرف متوازن تھا بلکہ مثبت سوچ اور سماجی شعور سے بھرپور بھی۔
جتنا میں نے انہیں قریب سے جانچا، اتنا ہی یہ یقین مضبوط ہوتا گیا کہ وہ محض وقتی شہرت کے طالب نہیں بلکہ ادب کو سنجیدگی سے برتنے والے افراد میں شامل ہیں۔ میرا پختہ یقین ہے کہ آنے والا وقت انہیں ایک معتبر، سنجیدہ اور فکر انگیز ادیب کے طور پر پہچانے گا، جن کی تحریریں محض لفظوں کا مجموعہ نہیں بلکہ معاشرے کا آئینہ دار ہوں گی۔
پہلی ملاقات کی الوداع سلام چائے کے آخری گھونٹ پر ہوئی۔ اس لمحے میں ایک عجیب سی اپنائیت اور احترام کی کیفیت تھی۔ یوں محسوس ہوا جیسے یہ محض ایک رسمی ملاقات نہیں بلکہ زندگی کے اُن تجربات میں سے ایک ہے جو وقت کے ساتھ دھندلے نہیں پڑتے بلکہ مزید واضح ہو جاتے ہیں۔
قارئین، یہ ملاقات بھی میری زندگی کی اُن یادوں میں شامل ہو گئی جو صرف یاد بن کر نہیں رہتیں بلکہ ایک حوالہ بن جاتی ہیں۔ ایک ایسا حوالہ جو انسان کے فکری سفر میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
_________________________________
ابدالی ڈاٹ کام کی انتظامیہ کے لیے یہ لازم نہیں کہ وہ لکھاری کے تمام خیالات سے متفق ہو۔ تمام مضامین کی اشاعت کا مقصد آزادانہ اظہارِ رائے کو فروغ دینا ہے۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو براہِ کرم اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فیس بُک آئی ڈی اور مختصر تعارف کے ساتھ ahabdali944@gmail.com پر ای میل کریں۔ تحریر کی اشاعت یا عدمِ اشاعت کا حتمی اختیار ادارتی بورڈ کے پاس محفوظ ہے۔
شیئرکریں: