پشاور میں اپنی رہائش گاہ پر ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عوامی نیشنل پارٹی کے سینئر رہنما غلام احمد بلور نے اعلان کیا کہ عمر کے اس حصے میں وہ مزید پارلیمانی اور انتخابی سیاست نہیں کر سکتے۔ اسلام آباد منتقلی سے متعلق انہوں نے وضاحت کی کہ وہ باقاعدگی سے پشاور آتے رہیں گے اور پارٹی سے وابستگی بدستور قائم رہے گی۔
غلام احمد بلور نے کہا کہ وہ باچا خان اور ولی خان کے پکے سپاہی ہیں اور ان کا نظریہ اور سوچ قبر میں بھی ان کے ساتھ رہے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک شدید مہنگائی، بے روزگاری اور دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے۔ انہوں نے مئی میں پاک فوج کے شاہینوں کی جانب سے بھارت کو دی جانے والی شکست کو ایک بڑا کارنامہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس فتح نے پاکستان کو زمین سے آسمان تک پہنچا دیا، مگر بدقسمتی سے ملک میں دہشت گردی آج تک کنٹرول نہیں ہو سکی۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چار مرتبہ طاغوتی قوتوں کے ہاتھوں ان کی جیتی ہوئی نشستیں ہروائی گئیں۔ جمہوریت کی بات کرنے پر انہیں روکا گیا اور اسمبلی میں انہیں یہ اجازت تک نہ دی گئی کہ وہ جمہوریت پر کھل کر بات کر سکیں۔ غلام احمد بلور نے کہا کہ ملک میں تین مارشل لاء لگے، اسٹیبلشمنٹ سیاست پر چھا گئی اور دس دس سال تک حکومت کرتی رہی، جس کے باعث جمہوری عمل بار بار روکا گیا اور ملک اقتصادی طور پر پیچھے چلا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ بھارت کو شکست دینے پر دنیا میں پاکستان کو عزت ملی مگر اپنے ہی ملک میں دہشت گردی ختم نہ ہو سکی۔ ملک دہشت گردی سے تباہ و برباد ہو چکا ہے اور ہر طرف پختون مارے جا رہے ہیں، جسے انہوں نے جرنیلوں کی مہربانی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ولی خان کی ایک ایک بات سچ ثابت ہو گئی، جو کل جہادی تھے آج وہی ہمیں مار رہے ہیں۔
غلام احمد بلور نے سخت لہجے میں کہا کہ جرنیل سن لیں، یہ ملک تمہارے جہیز میں نہیں آیا تھا۔ جنرل صاحب، یہ پنجاب تمہاری ماں کے جہیز میں آیا ہے؟ تم سب کچھ بیچ رہے ہو۔ اگر پنجاب پاکستان ہے تو خیبر پختونخوا بھی پاکستان ہے۔ پاکستان کو لوٹا جا رہا ہے۔ خیبر پختونخوا سونا، پٹرول، سوئی گیس اور بجلی پیدا کر رہا ہے اور یہ سب کچھ ہم سے لے جایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اصلی پاکستان ٹوٹ چکا ہے، اب جو کچھ بچا ہے اسے رہنے دیا جائے۔
انہوں نے وزیر دفاع خواجہ آصف کے 18ویں ترمیم سے متعلق بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ پرانے مسلم لیگی ہیں، قراردادِ پاکستان پڑھ لیں۔ صوبائی خودمختاری کیا ہے؟ دفاع، کرنسی اور خارجہ امور مرکز کے پاس ہیں جبکہ باقی تمام اختیارات صوبوں کے پاس ہونے چاہئیں، یہی قراردادِ پاکستان ہے۔ صوبہ الگ بھی ہو سکتا ہے، یہی پاکستان کی بنیاد ہے۔ انہوں نے اپیل کی کہ خدارا پاکستان کو رہنے دیا جائے، چار صوبے مل کر پاکستان بناتے ہیں، روز روز ترامیم نہ کی جائیں۔ اگر 18ویں ترمیم ختم کی گئی تو خدا نہ کرے پھر کیا ہوگا۔ پاکستان کی بنیادوں کو نہ ہلایا جائے۔
غلام احمد بلور نے کہا کہ سیاستدان مرتے دم تک قوم و ملت کی خدمت کرتا ہے۔ وہ اسٹیبلشمنٹ کے دشمن نہیں، وہ بھی ہم میں سے ہیں، مگر وہ پاکستان کو آباد اور خوشحال دیکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر امریکہ نے ایران پر حملہ کیا، خدا نہ کرے ایسا ہوا، تو پھر پاکستان کہاں کھڑا ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان کے تین جیتے ہوئے الیکشن ہروائے گئے، اب وہ کس لیے بیٹھے رہیں؟ ان لوگوں کو وہ پسند نہیں، مگر ان کی عمر کا لحاظ تو کرنا چاہیے تھا، وہ تو آخری الیکشن لڑ رہے تھے۔ پشاور ان کا گھر ہے، انہیں پشاور سے بے حد محبت ہے، مگر حالات، واقعات اور مجبوریاں ایسی ہیں کہ وہ پشاور چھوڑ رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کا اسٹیبلشمنٹ سے کبھی کوئی رابطہ نہیں رہا، بلکہ اسٹیبلشمنٹ انہی لوگوں سے رابطہ کرتی تھی جنہیں وہ جتوانا چاہتے تھے۔
غلام احمد بلور نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی ایک زبردست جماعت ہے۔ وہ پی ٹی آئی سے جیت کر ہارے، مگر نظریے پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ لوگ ولی خان سے اختلاف کر کے گئے اور پھر واپس آئے، مگر وہ دیوار پر بیٹھنے والوں میں سے نہیں جو کبھی اِدھر اور کبھی اُدھر چھلانگ لگاتے ہیں۔ ان کے عزیز پارٹی میں شہید ہوئے، وہ ایک سیاسی ورکر ہیں اور مرنے تک سیاسی سرگرمیاں جاری رکھیں گے، تاہم اب الیکشن لڑنا اور پارلیمانی سیاست کرنا ان کے بس کی بات نہیں رہی۔
آخر میں غلام احمد بلور نے کہا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ہیں اور باچا خان اور ولی خان کے نظریے کے ساتھ مرنے کے بعد بھی وفادار رہیں گے، جب کہ کچھ لوگ مفادات کی خاطر راستے بدلتے ہیں مگر وہ اصولوں پر قائم رہنے والے ہیں۔
شیئرکریں: