آج 27 جنوری 2026ء کو عوامی نیشنل پارٹی ضلع جامشورو، سندھ کے زیرِ اہتمام باچا خان امن کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جو باچا خان ہفتے (Bacha Khan Week 2026) کی تقریبات کا حصہ تھی۔ اس کانفرنس میں مختلف سیاسی، سماجی اور شہری نمائندوں نے شرکت کی اور اظہارِ خیال کیا۔
کانفرنس کا مقصد فخرِ افغان خان عبدالغفار خان (باچا خان) کے امن، عدمِ تشدد اور بھائی چارے کے پیغام کو اُجاگر کرنا تھا، جس کے ساتھ ساتھ ملک میں اتحاد، وفاقی یَک جہتی اور سب قوموں کے حقوق و وسائل کے تحفظ پر زور دیا گیا۔
مقررین نے کہا کہ جب تک قوموں کو اپنے وسائل، پانی، زمین اور دیگر قدرتی حقوق پر خود فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں دیا جاتا، تب تک ملک معاشی اور سیاسی اعتبار سے مضبوط نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صوبائی حدود میں تبدیلی اور وفاقی ڈھانچے کو کم زور کرنے والی باتیں امن اور ترقی کے لیے نقصان دہ ہیں اور ملک میں امن و ترقی کے لیے تمام جماعتوں اور عوام کو اپنا مثبت کردار ادا کرنا ہوگا۔
کانفرنس میں سینیٹر ایمل ولی خان سمیت دیگر پارٹی راہ نماؤں اور کارکنوں نے بھی شرکت کی اور اس موقع پر باچا خان کے فلسفۂ عدمِ تشدد، رواداری اور قوموں کے مساوی حقوق کے بیانات دیے گئے، جس کا مقصد نوجوانوں اور عوام کو امن اور بھائی چارہ کی راہ پر راغب کرنا تھا۔ یہ پروگرام باچا خان اور ان کے فرزندِ سیاست خان عبدالولی خان کی برسیوں کی مناسبت سے منائی جانے والی تقریبات کا حصہ تھا اور اس میں باچا خان کے نظریات کو موجودہ سیاسی و معاشرتی مسائل کے تناظر میں پیش کیا گیا۔
