اشرف غمگین، فکرِ انقلاب کے امین شاعر

پشتو ادب کی تاریخ میں کچھ شخصیات محض شاعر یا مصنف نہیں ہوتیں بلکہ ایک عہد، ایک تحریک اور ایک فکری روایت کی علامت بن جاتی ہیں۔ محمد اشرف غمگین بھی انہی درویش صفت، محنت کش اور نظریاتی لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے زندگی بھر قلم کو مظلوم طبقے کی آواز بنایا اور ادب کو شعور کا ذریعہ سمجھا۔ ہشنغر کی مٹی نے جس ترقی پسند شاعر کو جنم دیا، وہ نہ صرف اپنے عہد کے بڑے ادیبوں کے ساتھ فکری رشتے میں جڑا رہا بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ادبی تاریخ کو محفوظ کرنے والا محقق بھی ثابت ہوا۔
اشرف غمگین 1939ء میں پڑانگ، چارسدہ میں بہادر خان کے گھر پیدا ہوئے۔ رسمی تعلیم صرف چوتھی جماعت تک حاصل کی لیکن گھر میں دینی و ادبی ماحول تھا۔ اپنی والدہ سے دینی کتابیں پڑھیں اور وہیں سے شعر و ادب کا ذوق پروان چڑھا۔ انہوں نے زندگی کا بڑا حصہ شوگر مل اور پیپر مل میں مزدوری کرتے گزارا۔ وہ محنت کش طبقے سے تعلق رکھنے والے، درویش منش اور طبقاتی شعور کے حامل انسان تھے۔ بعد میں پڑانگ سے سہرو منتقل ہو گئے جہاں اہلِ خانہ کے ساتھ زندگی بسر کی۔
واصف شاہ واصف اشرف غمگین کا تعارف کراتے ہوئے لکھتے ہیں کہ پشتو ادب میں جب ہشنغر کا ذکر آتا ہے، بیسویں صدی کے ادیبوں اور خدائی خدمت گار تحریک کی بات ہوتی ہے، تو اشرف غمگین کا نام لازمی سامنے آتا ہے۔ وہ غنی خان، اجمل خٹک، لطیف وہمی، کاکا جی صنوبر حسین مومند، سلیم راز، عبدالحنان بجلی اور قلندر مومند جیسے بڑے ناموں کے ساتھ قریبی تعلق رکھتے تھے۔ انہوں نے ہشنغر کے ادیبوں اور شاعروں کا تاریخی تذکرہ اپنی کتاب "د ہشنغر ادب” میں محفوظ کیا جس میں تقریباً 80 شاعروں کے حالاتِ زندگی اور کلام کے نمونے شامل ہیں۔ یہ کتاب آج بھی تحقیق کے لیے بنیادی ماخذ سمجھی جاتی ہے۔
1962ء میں قائم ہونے والی "ہشنغر پشتو ادبی تنظیم” میں اشرف غمگین نے نمایاں کردار ادا کیا۔ اسی پلیٹ فارم سے ان کی کتاب بھی شائع ہوئی۔ چارسدہ میں جب "انجمن ترقی پسند مصنفین” قائم ہوئی، تو اشرف غمگین اس کے اہم رکن تھے۔ فکری طور پر وہ کاکا جی صنوبر حسین مومند سے متاثر تھے جنہیں پشتو ادب میں ترقی پسند تحریک کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔
ان کی مطبوعہ تصانیف میں "د ہشنغر ادب”، "ہشنغر غزل”، "پیرِ طریقت”، "امام حسین”، "جندے”، "انقلابی فکر” اور صوبہ سرحد میں ترقی پسند تحریک کی تاریخ پر مبنی ایک کتاب شامل ہیں جب کہ غیر مطبوعہ کاموں میں "خاندان” کا ترجمہ، "حجرہ تمبیل” کے کالم اور "شفتہ شگفتہ” ناول شامل ہیں۔
اشرف غمگین کی شخصیت کا ایک خوب صورت پہلو سید محمود ظفر کے تاثرات میں جھلکتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ان کی زندگی میں جس پہلے شاعر سے ملاقات ہوئی، وہ اشرف غمگین تھے۔ پڑانگ کے سکول کے دنوں میں ایک دن اشرف ہاتھ میں کاغذ لیے ان کے پاس آئے اور پوچھا کہ کیا وہ پشتو لکھ سکتے ہیں۔ پھر انہوں نے اپنی نظم "خواب اور خیال” سنائی اور ظفر صاحب سے لکھوائی۔ آخر میں بڑے اہتمام سے اپنا نام لکھوایا محمد اشرف غمگین۔ یہی وہ لمحہ تھا جو ایک طالبِ علم کو ادب کے راستے پر لے آیا۔ بعد ازاں جب ظفر صاحب چارسدہ کے گورنمنٹ ہائی سکول پہنچے، تو اشرف غمگین کی ادبی سرگرمیاں پورے عروج پر تھیں۔ انہوں نے سید جلال مضطرب اور قمر زمان قمر کے ساتھ پشتو ادبی محفل چارسدہ قائم کی اور نوجوانوں کو ادب سے جوڑا۔ انہی کے ذریعے ظفر صاحب کی ملاقات سلیم راز، قلندر مومند، فرید صحرائی، عبدالحنان بجلی، ثاقب جان ثاقب اور کئی دیگر بڑے ادیبوں سے ہوئی۔
بعد میں ہشنغر پشتو ادبی تنظیم وجود میں آئی جہاں تاج محمد خاموش بابا کی بیٹھک میں ادبی نشستیں ہوتیں۔ ایک موقع پر معروف نقاد قلندر مومند کی موجودگی میں ظفر صاحب نے اپنا غزل پیش کیا جس پر تنقیدی اصلاح ہوئی۔ لفظوں کی باریکیوں سے روشناس ہونے کا یہ موقع ان کی ادبی تربیت کا سنگ میل بن گیا۔ وہ اعتراف کرتے ہیں کہ ان کی اصل ادبی بنیاد اشرف غمگین ہی نے رکھی۔ افسوس ناک لمحہ یہ تھا کہ سی ایم ایچ راولپنڈی میں آپریشن کے بعد صحت یاب ہو کر نکلے ہی تھے کہ موبائل پر اشرف غمگین کے انتقال کی خبر ملی اور جنازے میں شرکت بھی نصیب نہ ہو سکی، جسے وہ اپنی زندگی کی بڑی محرومی قرار دیتے ہیں۔
محب وزیر اپنے تاثرات میں لکھتے ہیں کہ جدید پشتو شاعری میں پچاس کی دہائی کے بعد ترقی پسند فکر نے جو مضبوط روایت قائم کی، اشرف غمگین اسی قافلے کے ثابت قدم سپاہی تھے۔ وہ سلیم راز کے رفیق، غنی خان کے ہم فکر اور کئی ترقی پسند شعرا کے ہم سفر رہے۔ رنگ کے اعتبار سے سانولے مگر دل کے بے حد صاف انسان تھے۔ جسمانی طور پر کم زور مگر حوصلے میں پہاڑ جیسے مضبوط۔ ظاہری طور پر سادہ مگر فکری طور پر نہایت امیر۔ اپنے تخلص کی طرح غمگین ضرور تھے مگر مزاج میں رنگینی اور زندگی سے بھر پور محبت رکھتے تھے۔
وہ جس طبقے سے تعلق رکھتے تھے اس کے دکھوں پر تڑپتے، جس قوم سے محبت کرتے تھے اس کی جہالت پر کڑھتے اور جس دور میں جیتے تھے اس کے طبقاتی نظام پر گہری نظر رکھتے تھے۔ محب وزیر بتاتے ہیں کہ پہلی ملاقات باچا خان یونی ورسٹی میں ایک مشاعرے میں ہوئی جہاں انہوں نے ڈاکٹر فضل الرحیم مروت کو دیکھ کر خوشی سے پکارا کہ "اوہ، آج عبدالرحیم مجذوب کی کمی پوری ہو گئی۔” یہ جملہ اس بات کی علامت تھا کہ وہ اپنے فکری رفقا سے کس قدر محبت رکھتے تھے۔ مشاعروں میں وہ ایک بہترین سامع بھی تھے جو ہر اچھے شعر پر بھرپور داد دیتے اور پھر خود ایسے اشعار سناتے جن میں مظلوم عوام کی ترجمانی ہوتی۔
2016ء میں پشاور میں ترقی پسند ادیبوں کے تین روزہ کنونشن میں اشرف غمگین ہر لمحہ شریک رہے۔ بحثوں میں حصہ لیا، انتظامات میں مدد کی اور مشاعروں میں بزرگ کی حیثیت سے راہ نمائی کی۔ بعد میں انہوں نے تقریباً پچاس صفحات پر مشتمل ایک تفصیلی روداد تحریر کر کے محب وزیر کو دی جو آج بھی ایک قیمتی ادبی دستاویز کے طور پر محفوظ ہے۔
27 جنوری 2019ء کو یہ ترقی پسند شاعر ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گیا اور پڑانگ کے قبرستان میں سپردِ خاک ہوا۔
مگر اشرف غمگین جیسے لوگ مر کر بھی نہیں مرتے۔ وہ اپنی تحریروں، اپنی یادوں، اپنے شاگردوں اور اپنے فکری ورثے میں زندہ رہتے ہیں۔ اشرف غمگین کا اصل کارنامہ صرف شاعری نہیں بلکہ ایک پورے خطے کی ادبی تاریخ کو محفوظ کرنا، نوجوان نسل کو ادب سے جوڑنا اور مظلوم طبقے کے احساسات کو زبان دینا تھا۔ وہ مزدور بھی تھے، محقق بھی، شاعر بھی اور نظریاتی کارکن بھی۔ ان کی زندگی اس بات کی روشن مثال ہے کہ علم اور شعور صرف ڈگریوں کا محتاج نہیں بلکہ دردِ دل اور سچائی کا نام ہے۔
آج ان کی برسی پر یہی کہا جا سکتا ہے کہ اشرف غمگین نے جس فکری چراغ کو جلایا تھا وہ آج بھی پشتو ادب کی محفلوں میں روشن ہے۔ وہ چلے گئے مگر ان کا فکر، ان کا ادب اور ان کی جدوجہد ہمیشہ زندہ رہے گی۔
_________________________________
ابدالی ڈاٹ کام کی انتظامیہ کے لیے یہ لازم نہیں کہ وہ لکھاری کے تمام خیالات سے متفق ہو۔ تمام مضامین کی اشاعت کا مقصد آزادانہ اظہارِ رائے کو فروغ دینا ہے۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو براہِ کرم اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فیس بُک آئی ڈی اور مختصر تعارف کے ساتھ ahabdali944@gmail.com پر ای میل کریں۔ تحریر کی اشاعت یا عدمِ اشاعت کا حتمی اختیار ادارتی بورڈ کے پاس محفوظ ہے۔