قارئین، یہ الفاظ کسی جذباتی نعرے کا حصہ نہیں تھے بلکہ عوامی نیشنل پارٹی کے نظریاتی کارکن، جید عالمِ دین، محقق، امن کے داعی اور اے این پی کے مرکزی سیکرٹری برائے امورِ علما مولانا خان زیب کے تھے، جنہیں 10 جولائی 2025ء کی سہ پہر باجوڑ میں ان کے محافظ اور ڈرائیور سمیت نامعلوم افراد نے 18 گولیاں مار کر شہید کر دیا۔ یہ محض ایک فرد کی شہادت نہیں تھی بلکہ شعور، امن، دلیل اور حق کی آواز کو خاموش کرنے کی کوشش تھی۔
زما پہ سوچونو دے قدغن ولی
افتاب خو رنڑا دہ خوریدل کوی
10 جولائی 2025ء کو عوامی نیشنل پارٹی اپنے نوجوان شہید اور امن کے استعارے بشیر احمد بلور کے صاحب زادے ہارون بلور شہید کی ساتویں برسی منا رہی تھی کہ اسی دن سہ پہر ریاست نے مولانا خان زیب کی صورت میں ایک اور شہید کا تحفہ دیا۔ وجہ صاف تھی کہ مولانا خان زیب نے باجوڑ میں بڑھتی بدامنی کے خلاف تمام سیاسی جماعتوں کے مشورے سے 13 جولائی کو امن مارچ کا اعلان کیا تھا اور اسی مہم کے سلسلے میں شنڈئی موڑ، جو باجوڑ کا ریڈ زون سمجھا جاتا ہے، کے قریب ان کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا۔
قارئین، مولانا خان زیب 1980ء میں ضلع باجوڑ کی تحصیل ناواگئی میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام شیخ خانہ گل تھا۔ قوم کے اعتبار سے وہ ترکھانی قبیلے کی ذیلی شاخ سالارزئی (شومہ خیل، شیخان) سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے آبا و اجداد زمانۂ قدیم سے چارمنگ اور ناواگئی میں آباد رہے جب کہ پشاور کے قریب تحصیل متھرا میں ان کی برادری کا ایک مکمل گاؤں "شیخ کلے” کے نام سے موجود ہے۔
مولانا خان زیب نے گورنمنٹ ہائی سکول ناواگئی سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ دینی تعلیم کا آغاز 1992ء میں مولانا عبید اللہ شہید چترالی کے مدرسے سے کیا اور 1998ء تک وہاں زیرِ تعلیم رہے۔ 1999ء میں مولانا حسن جان شہید کے مدرسہ امداد العلوم و مسجد درویش، صدر پشاور سے درس نظامی مکمل کیا اور بعد ازاں وفاق المدارس سے ماسٹر کے مساوی سند حاصل کی۔ 2000ء میں ان کی شادی کے بندھن میں بندھ گئے۔ وہ چھے بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے اور چار بیٹوں اور تین بیٹیوں کے باپ تھے۔
مولانا خان زیب نے دین کو محض محراب و منبر تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے عمل، خدمت اور سماجی ذمے داری سے جوڑا۔ وہ 27 برس تک اپنے محلے کی مسجد میں بغیر کسی معاوضے کے خطیب رہے۔ روزانہ نماز عشاء کے بعد قرآن پاک کا ترجمہ پڑھاتے رہے اور ہر جمعہ کی رات ختمِ قرآن کا مستقل اہتمام کرتے تھے۔ دارالعلوم رحمانیہ ناواگئی میں چھے سال تک بلا تنخواہ تدریسی خدمات انجام دیں، ضلع مہمند کے صافی علاقے زیارت بابا جامع مسجد میں تین سال تک بغیر معاوضہ جمعہ اور عیدین کی امامت کی، اور مختلف علاقوں میں رمضان المبارک کے دوران میں قرآن کے ترجمے کے دروس دیتے رہے۔ وہ دو سال تک معروف شیخ القرآن مولانا عبدالسلام کے ساتھ رمضان میں قرآن کے ترجمے کے دروس میں شریک رہے۔
سماجی زندگی میں وہ عملی انسان تھے۔ دس سال تک ناواگئی بازار میں شہد کا کاروبار کیا، کھیتی باڑی سے وابستہ رہے اور چھے سال تک ناواگئی بازار کے صدر کے طور پر تاجر برادری کے جائز حقوق کے تحفظ کےلیے تگ ودو کرتے رہے۔ عوامی مسائل میں ان کی موجودگی ہر طبقے کو معلوم تھی۔ وہ اے این پی کے مرکزی راہ نما شیخ جہان زادہ کے چھوٹے بھائی تھے اور 2002ء، 2008ء اور 2018ء کے عام انتخابات میں اپنے بھائی کی انتخابی مہم میں بھر پور کردار ادا کرتے رہے۔ 2024ء میں وہ خود باجوڑ سے اے این پی کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے امیدوار تھے۔ اگرچہ عوام نے انہیں ایوان میں بھیجنے کا موقع نہ دیا، مگر انہوں نے شکست کو کبھی مایوسی میں نہیں بدلا اور پارٹی و عوامی جدوجہد میں پہلے سے زیادہ متحرک ہو گئے۔ وہ اے این پی کے صوبائی الیکشن کمیشن کے رکن اور بعد ازاں مرکزی کابینہ میں سیکرٹری برائے علما رہے۔
2008ء اور 2009ء کے بدترین حالات میں، جب باجوڑ سے بڑے پیمانے پر نقل مکانی ہوئی، مولانا خان زیب نے علاقہ چھوڑنے سے انکار کر دیا۔ ان کے بقول سب سے بڑی بہادری جان بچا کر نکل جانا تھی مگر اگر وہ نکل جاتے، تو جنگ رکنا ناممکن ہو جاتی۔ "آپریشن شیر دل” سے قبل ان کے گاؤں میں دھماکے ہوئے، مارٹر گولے ان کے گھر پر گرے، خاندان کی خواتین زخمی ہوئیں، ان کے گھر پر دو بار میزائل داغے گئے، ایک دھماکے سے ایک ہفتے تک ان کے کان بند رہے، مگر وہ ڈٹے رہے۔ طالبان کے قبضے میں موجود فوجی جوانوں کی رہائی کے لیے انتہائی خطرناک جرگے میں گئے اور انہیں رہا کروایا۔ شاعر محمد اسلام ارمانی کے قتل کے بعد جب جنازہ پڑھانے پر پابندی لگائی گئی، مولانا خان زیب نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر جنازہ پڑھایا اور اس کی قیمت بھی ادا کی۔
بیا ھیس کلہ زہ نفرت د مولا د ٹکی نہ کوم
تہ رالہ پیدا کہ مولانا لکہ خان زیب
شمعی د وطن پہ سسیدلو اوخکو اوئیل
بل در پکے سوک شتہ دے پروانہ لکہ خان زیب
اوس بہ دا شتمنہ پختون خوا پہ چغو وائی
دومرہ غورہ نہ ووم خزانہ لکہ خان زیب
جنگ تہ بہ سوک بد وائی قاتل شی سوک کگلے
امن بہ سوک غواڑی روزانہ لکہ خان زیب
د قام لاس کے د لالٹین غوندی زلیگی
پہ تيارہ کے دے رنڑا لکہ خان زیب
وہ نہ صرف عالمِ دین تھے بلکہ ایک وسیع النظر دانشور، فصیح و بلیغ مقرر، سماجی کارکن اور فعال سیاسی ورکر تھے۔ جرگوں میں ان کی موجودگی مسئلے کے حل کی ضمانت سمجھی جاتی تھی۔ باجوڑ اور مومند کے قبائل کے درمیان سرحدی تنازعہ ان کے جان دار کردار سے جرگے کے ذریعے حل ہوا اور ایک بڑی قبائلی لڑائی ٹل گئی۔ وہ خوش مزاج، شفیق اور تعلق نبھانے والے انسان تھے جن کی صحبت میں وقت کا احساس نہیں ہوتا تھا۔
ان کا سب سے بڑا فکری کارنامہ پختون خوا اور باجوڑ کی تاریخ و وسائل پر ان کی تصانیف ہیں۔ "باجوڑ: تاریخ کی روشنی میں” اور "شتمنہ پختون خوا” جیسی کتب دراصل دعوتِ شعور تھیں۔ وہ پختون خوا وطن کے وسائل پر گہری نظر رکھتے تھے، سٹڈی سرکلز منعقد کرتے، نوجوانوں کو یہ بتاتے کہ ان کی زمین کتنی زرخیز اور قیمتی ہے اور کس طرح اسے لوٹا جا رہا ہے۔ یہی شعور، یہی سوال، ان کا سب سے بڑا جرم بن گیا۔ روزنامہ شہباز اور پختون میگزین میں ان کے مضامین شائع ہوتے رہے، سوشل میڈیا پر آن لائن سٹڈی سرکلز اور سوال و جواب کے سلسلے جاری رہے، اور دو مزید کتب کے مسودات اور سیکڑوں غیر مطبوعہ مضامین ان کی علمی وسعت کا ثبوت ہیں۔
قارئین، موصوف کی شہرۂ آفاق کتاب "شتمنہ پختون خوا” آج محض ایک تصنیف نہیں بلکہ پختون شعور، مزاحمت اور فکری بیداری کی علامت بن چکی ہے۔ اس کتاب کو شائع کرنے والے ادارے مفکورہ (Mafkoora) کے مطابق اس کے روزانہ ایک ہزار سے زائد نسخے فروخت ہو رہے ہیں، جس کے باعث اب تک اس کے آٹھ سے زائد ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں۔ باجوڑ میں مولانا خان زیب کی شہادت کے بعد اس کتاب کی مقبولیت میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے اور عوامی طلب کے پیشِ نظر اس وقت اس کے بیس ہزار سے زائد نسخے زیرِ طبع ہیں، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ مولانا شہید کا فکری پیغام ان کی شہادت کے بعد بھی زیادہ شدت اور وسعت کے ساتھ زندہ ہے۔ یہ امر بھی لائقِ تحسین ہے کہ مفکورہ ریسرچ سنٹر پشاور کے سربراہ حیات روغانی نے کتاب کو زیادہ سے زیادہ قارئین تک پہنچانے کے لیے اس کی قیمت 700 روپے سے کم کر کے 500 روپے مقرر کر دی ہے، جب کہ اسے اُردو اور انگریزی زبان میں ترجمہ کر کے شائع کرنے کا اعلان بھی کیا گیا ہے، تاکہ مولانا خان زیب کی فکر علاقائی حدود سے نکل کر وسیع تر قومی اور عالمی سطح پر قارئین تک پہنچ سکے۔ یہی وجہ تھی کہ قلم، کتاب اور شعور بندوق والوں کے لیے ناقابلِ برداشت ٹھہرے۔
د منطق دلیل میدان می تری گٹلے
دا ٹوپک پہ لاس چی ما لہ راروان دی
ریاست کے مائنز اینڈ منرلز ایکٹ، سابقہ فاٹا کے وسائل پر قبضے اور انضمام کی واپسی جیسے منصوبوں کے خلاف سب سے مؤثر عوامی آواز باجوڑ سے اُٹھی، جس کے روح رواں مولانا خان زیب تھے۔ اے این پی کے "خپلہ خاورہ خپل اختیار” کی جدوجہد میں ان کا کردار فیصلہ کن تھا۔ یہی وجہ تھی کہ انہیں دھمکیاں ملیں، پارٹی چھوڑنے یا علاقہ چھوڑنے کا کہا گیا، مگر انہوں نے صاف انکار کیا اور کہا کہ وہ اپنے وطن، پارٹی اور نظریے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔
کہ ووم جوندے ده ازادی د اتنڑ برخہ شم
کہ چری مڑ ووم دا زیری می تر گوره راوڑئی
ده تور پنجاب توری گیدڑی دومرہ مستی شولی
راتلی راتلی د پختون خوا ده غرو زمری ئی مات کڑو
مولانا خان زیب کو اپنی جان کے شدید خطرات کا اندازہ تھا۔ انہوں نے اپنی ٹوپی، چادر، رومال اور حتیٰ کہ گاڑی تک بدل دی تھی تاکہ پہچانے نہ جائیں، مگر اس کے باوجود وہ باجوڑ چھوڑنے پر تیار نہیں تھے۔ یہ باچا خان کے عدمِ تشدد کے فلسفے کی وہ تربیت تھی جس میں انسان جھکنے کے بجائے سر کٹانا سیکھتا ہے۔
مولانا خان زیب صرف انسانوں ہی سے محبت نہیں کرتے تھے بلکہ فطرت سے بھی عاشقانہ لگاؤ رکھتے تھے۔ انہوں نے پہاڑوں میں اپنے ہاتھوں سے ڈھائی لاکھ درخت لگائے، پانچ ہزار پرندوں کے گھونسلے بنوائے، ہر دس دن بعد ڈیڑھ سو کلو گندم دانے کی صورت میں بکھیرتے اور پانی کا باقاعدہ انتظام کرتے تھے۔ یہ سب بغیر کسی تشہیر کے ایک خاموش خدمت تھی۔
قارئین، افسوس ناک امر یہ ہے کہ ان کی شہادت کے بعد ان کے جنازے میں شریک لوگوں پر بھی دہشت گردی کے مقدمات درج کیے گئے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس ریاست میں امن کی بات کرنا جرم ہے…؟ کیا عدمِ تشدد کی آواز سزائے موت کے قابل ہو چکی ہے…؟ کیا پختون خوا میں کتاب، قلم اور دلیل بندوق سے زیادہ خطرناک ہو گئے ہیں…؟
قارئین، مولانا خان زیب ایک شخص نہیں تھے بلکہ ایک نظریہ تھے۔ وہ علم، دین، سیاست، معیشت، ماحول اور محبت کا حسین امتزاج تھے۔ ان کی شہادت اس خطے کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان ہے، مگر ان کی فکر، جدوجہد اور مثال زندہ رہے گی۔ اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ہمیں یہ توفیق دے کہ ہم صاحبِ کردار لوگوں کی قدر ان کی زندگی میں کرنا سیکھیں، تاکہ ہر سچ کو لاش پر لکھنے کی روایت ختم ہو سکے۔ آمین۔
جاتے جاتے ان اشعار پر اجازت طلب کرنا چاہوں گا کہ:
ما وژنی ھم تا وژنی
ٹولہ پختون خوا وژنی
تا د امن چغی کڑی
تا خو خامخا وژنی
تہ سبا پاسون غواڑی
تا خو بہ سبا وژنی
تہ د پختون حق غواڑی
تا بہ پہ ریختیا وژنی
تور تہ گوتہ مہ نیسہ
تا پہ حق وینا وژنی
زہ ئی پہ تا مړ کڑمہ
تا بہ پہ بل چا وژنی
دوی بہ د خان زیب پہ شان
ہر پختون ملا وژنی
نہ یم پہ تیارہ محفوظ
ھم می پہ رنڑا وژنی
ما وژنی ھم تا وژنی
ٹولہ پختون خوا وژنی
