پختون سرزمین کی تاریخ محض فتوحات، سیاسی اُتار چڑھاؤ یا اقتدار کی کشمکش تک محدود نہیں، بلکہ یہ اُن باوقار انسانوں کے لہو سے رقم ہے جنہوں نے خوف، جبر اور انتہا پسندی کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں بھی سچ اور امن کا چراغ روشن رکھا۔ بونیر جیسے حساس اور آزمائش زدہ خطے میں جب شدت پسند قوتیں طاقت پکڑ چکی تھیں اور عام آدمی خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہا تھا، ایسے کٹھن وقت میں جن معدودے چند ناموں نے ڈٹ کر مزاحمت کی، اُن میں فاتح خان شہید (تمغۂ شجاعت) ایک توانا، باوقار اور روشن علامت کے طور پر نمایاں ہو کر سامنے آتے ہیں۔
سید احمد خان المعروف فاتح خان شہید کا تعلق بونیر سے تھا۔ وہ یکم ستمبر 1963ء کو سلطان وس کے گاؤں کے ایک معزز خاندان میں مہتاب خان کے گھر پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد گورنمنٹ ہائی سکول جوخیلہ (پیر بابا) سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ بعد ازاں روزگار کی تلاش انہیں عمان لے گئے، جہاں محنت اور دیانت کے بل پر انہوں نے اپنا کاروبار قائم کیا۔ مگر دیارِ غیر کی آسائشیں بھی انہیں اپنی مٹی، اپنے لوگوں اور اپنے وطن کے زمینی حقائق سے جدا نہ کر سکیں۔ چنانچہ 1990ء کی دہائی میں وہ وطن واپس لوٹے اور شعوری طور پر عملی سیاست کے میدان میں قدم رکھا، جہاں انہوں نے عوامی حقوق، سماجی انصاف اور اپنے خطے کے محروم طبقات کی ترجمانی کو اپنی جدوجہد کا محور بنایا۔
2009ء میں جب بونیر اور ملحقہ علاقوں میں شورش اور دہشت گردی نے پورے معاشرے کو خوف و ہراس کی لپیٹ میں لے رکھا تھا اور بیشتر لوگ خاموشی یا مجبوری کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور تھے، ایسے نازک اور کٹھن وقت میں فاتح خان نے خاموش تماشائی بننے کے بجائے کھل کر انتہاپسندی کی مخالفت کی۔ انہوں نے نہ صرف ایک واضح اور دوٹوک مؤقف اپنایا بلکہ عملی طور پر عوام کو منظم کرنے کے لیے "امن لشکر” کے پلیٹ فارم کا انتخاب کیا، جس کے وہ بانی اور سربراہ تھے اور تادمِ شہادت اسی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے۔ اسی پلیٹ فارم کے ذریعے انہوں نے امن کا پیغام عام کیا اور شدت پسندی کے خلاف بھر پور آواز بلند کی۔ یہی جرات، بے خوفی اور اصول پسندی بالآخر ان کے لیے جان لیوا ثابت ہوئی، مگر وہ ایک لمحے کے لیے بھی اپنے نظریے اور مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے۔
قارئین، فاتح خان شہید عوامی نیشنل پارٹی کے نظریاتی اور متحرک راہ نما تھے۔ وہ باچا خان کے عدمِ تشدد اور خان عبدالولی خان کی جمہوریت اور قومی وقار پر مبنی فکر سے گہری وابستگی رکھتے تھے۔ ان کی سیاست محض انتخابی عمل یا ذاتی اثر و رسوخ تک محدود نہیں تھی بلکہ اس کی بنیاد عوام کے تحفظ، سماجی ہم آہنگی اور پختون معاشرے کو انتہاپسندی سے بچانے پر تھی۔ بونیر کے عوام انہیں ایک بااثر سیاسی شخصیت کے ساتھ ساتھ ایک ذمے دار سماجی راہ نما کے طور پر جانتے اور مانتے تھے۔
ان کی خدمات اور جرات کے اعتراف میں 23 مارچ 2012ء میں صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے انہیں تمغۂ شجاعت سے نوازا۔ یہ اعزاز دراصل صرف ایک فرد کے لیے نہیں بلکہ اس سوچ کے لیے تھا جو خوف کے مقابل سچ کا ساتھ دیتی ہے۔
03 نومبر 2012ء کو بونیر میں ہونے والا خودکش حملہ محض فاتح خان شہید پر حملہ نہیں تھا بلکہ یہ امن، جمہوری سیاست اور پختون معاشرے کی روشن روایت پر کاری ضرب تھی۔ اس حملے میں فاتح خان شہید اپنے ساتھیوں سمیت جامِ شہادت نوش کر گئے۔ ان کی شہادت نے پورے علاقے کو سوگوار کر دیا اور یہ تلخ حقیقت ایک بار پھر آشکار ہوئی کہ انتہاپسندی کے خلاف کھڑے ہونے والوں کو سب سے بھاری قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔
ان کے فرزند ملک عابد خان کے الفاظ اس سانحے کی گہرائی کو پوری شدت سے بیان کرتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ جب والد پر حملے کی خبر ملی، تو ہم ایبٹ آباد میں موجود تھے اور فوراً بونیر کی جانب روانہ ہوئے۔ راستے میں جگہ جگہ پولیس چیک پوسٹیں قائم تھیں۔ ایک چیک پوسٹ پر جب ہم نے اپنا تعارف کرایا، تو پولیس اہل کار آبدیدہ ہو گئے اور بے ساختہ بول اُٹھے کہ "آج بونیر یتیم ہو گیا ہے۔” یہ ایک جملہ اس حقیقت کی گواہی ہے کہ فاتح خان شہید محض ایک سیاسی راہ نما نہیں تھے بلکہ پورے علاقے کے لیے سہارا، اعتماد اور حوصلے کی علامت تھے۔
قارئین، فاتح خان شہید کی جدوجہد ان کی شہادت کے ساتھ ختم نہیں ہوئی، بلکہ یہ ایک فکری وراثت کی صورت میں آگے بڑھتی رہی۔ ان کا گھرانہ آج بھی عوامی نیشنل پارٹی کے پلیٹ فارم سے عدمِ تشدد، جمہوریت اور عوامی خدمت پر مبنی سیاست کا علم بلند کیے ہوئے ہیں۔ افسر خان اور ڈاکٹر سراج کمال اس تسلسل کی روشن مثالیں ہیں۔ افسر خان نے سیاسی اور تنظیمی جدوجہد کے ذریعے عوامی مسائل کو ایوانوں تک پہنچایا، جب کہ ڈاکٹر سراج کمال نے سماجی خدمت، شعور کی بیداری اور جمہوری اقدار کے فروغ میں عملی کردار ادا کیا۔ یہ دونوں شخصیات اس حقیقت کی گواہی ہیں کہ شہداء کی قربانیاں وقتی نہیں ہوتیں، بلکہ نسل در نسل ایک نظریے کی صورت منتقل ہوکر معاشروں کو سمت اور حوصلہ عطا کرتی ہیں۔
فاتح خان شہید کی خدمات کے اعتراف میں جرگہ ہال ڈگر کو ان کے نام سے موسوم کر کے "فاتح خان شہید میموریل ہال” کا نام دیا جانا اس امر کی علامت ہے کہ قومیں اپنے محسنوں کو فراموش نہیں کرتیں۔ یہ یادگار نہ صرف ان کی قربانی اور قیادت کی نشانی ہے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے استقامت، شعور اور عوامی خدمت کا مستقل حوالہ بھی ہے۔
فاتح خان شہید کو محض ایک دہشت گرد حملے میں جان گنوانے والا سیاسی راہ نما سمجھنا ان کے ساتھ صریح ناانصافی ہوگی۔ وہ اس پختون روایت کے سچے علمبردار تھے جو ظلم، جبر اور خوف کے سامنے جھکنے کے بجائے سر اُٹھا کر جینے کا حوصلہ عطا کرتی ہے۔ ان کی زندگی اور شہادت ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ امن کا راستہ بلاشبہ کٹھن ہے، مگر یہی راستہ قوموں کو بقا، وقار اور پہچان عطا کرتا ہے۔ آج فاتح خان شہید کو یاد کرنا محض ایک رسمی یا جذباتی عمل نہیں، بلکہ ایک اجتماعی عہد کی تجدید ہے کہ ہم خوف کے آگے سر نہیں جھکائیں گے، انتہاپسندی کے خلاف فکری اور سیاسی جدوجہد کو جاری رکھیں گے،اور اس سوچ، اس نظریے کو زندہ رکھیں گے جس کے لیے انہوں نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔
قارئین، فاتح خان شہید بونیر کی تاریخ کا ایک روشن، باوقار اور ناقابلِ فراموش باب ہیں۔ ایسے باب کبھی بند نہیں ہوتے، بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ مزید روشن ہو کر آنے والی نسلوں کو سمت اور حوصلہ عطا کرتے رہتے ہیں۔
______________________________
ابدالی ڈاٹ کام کی انتظامیہ کے لیے یہ لازم نہیں کہ وہ لکھاری کے تمام خیالات سے متفق ہو۔ تمام مضامین کی اشاعت کا مقصد آزادانہ اظہارِ رائے کو فروغ دینا ہے۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو براہِ کرم اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فیس بُک آئی ڈی اور مختصر تعارف کے ساتھ
ahabdali944@gmail.com پر ای میل کریں۔ تحریر کی اشاعت یا عدمِ اشاعت کا حتمی اختیار ادارتی بورڈ کے پاس محفوظ ہے۔