ڈاکٹر محمد فاروق خان علم، انسانیت اور امن کا شہید

پاکستان کی فکری اور دینی تاریخ میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو صرف اپنے علم یا منصب کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنے کردار، انسان دوستی اور جرأتِ اظہار کے باعث یاد رکھی جاتی ہیں۔ ڈاکٹر محمد فاروق خان بھی انہی نابغۂ روزگار شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جنھوں نے انتہا پسندی، دہشت گردی اور تشدد کے خلاف دلیل، حکمت اور اخلاق کے ساتھ آواز بلند کی اور اسی جرم میں اپنی جان قربان کر دی۔
ڈاکٹر محمد فاروق خان معروف پاکستانی ماہرِ نفسیات، اسلامک اسکالر اور جامعہ سوات کے وائس چانسلر تھے۔ شمال مغربی پاکستان میں انھوں نے طالبان کی سخت مزاحمت کی اور نہایت وضاحت کے ساتھ یہ مؤقف اختیار کیا کہ جو لوگ معصوم انسانوں کو دہشت گردانہ کارروائیوں میں نشانہ بناتے ہیں، ان کا اسلامی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کا یہ موقف محض ایک رائے نہیں بلکہ دلیل، مطالعے اور دینی فہم پر مبنی ایک شعوری اعلان تھا، جو شدت پسند بیانیے کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن گیا۔
ان کی ابتدائی تعلیم صوابی میں ہوئی۔ بعد ازاں وہ حسن ابدال کیڈٹ کالج اور پھر کوہاٹ کیڈٹ کالج گئے۔ میڈیسن کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد انھوں نے سائیکیٹری میں تخصص کیا۔ 1979ء میں خیبر میڈیکل کالج پشاور سے ایم بی بی ایس پاس کیا اور 1984ء میں اعلیٰ تعلیم کے لیے یونی ورسٹی آف ویانا چلے گئے۔ وطن واپسی پر مردان کے علاقے بغدادہ میں نجی کلینک قائم کیا، جہاں وہ ایک معالج کے ساتھ ساتھ ایک سماجی اور فکری راہ نما کے طور پر بھی پہچانے جانے لگے۔
حکومتِ پاکستان نے ان کی صلاحیتوں اور خدمات کے اعتراف میں انھیں جامعہ سوات کا پہلا وائس چانسلر مقرر کیا، جب کہ علمی و فکری خدمات کے صلے میں انھیں ستارۂ امتیاز سے بھی نوازا گیا۔ بطورِ ماہرِ نفسیات وہ نہ صرف عملی میدان میں سرگرم رہے بلکہ الیکٹرانک میڈیا پر بھی دہشت گردی، شدت پسندی اور مذہبی انتہا پسندی کے خلاف جرأت مندانہ مؤقف اختیار کرتے رہے۔ طالب علمی کے زمانے میں وہ جماعتِ اسلامی کی طلبہ تنظیم اسلامی جمعیت طلبہ سے وابستہ رہے، تاہم فکری بلوغت کے ساتھ ان کی سوچ محض تنظیمی وابستگی سے آگے بڑھ کر ایک ہمہ گیر دینی و انسانی فکر میں ڈھل گئی۔
ڈاکٹر فاروق خان کی تصانیف ان کے فکری سفر کی عکاس ہیں، جن میں پاکستان اور اکیسویں صدی، What Is Islam، Struggle for Islamic Revolution، جہاد، قتال اور عالمِ اسلام، اسلام کیا ہے؟ اور مسئلہ کشمیر شامل ہیں۔ یہ کتب دراصل اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ مذہب کو تشدد نہیں بلکہ دعوت، اصلاح اور شعور کا ذریعہ سمجھتے تھے۔
02 اکتوبر 2010ء کو مردان میں صوابی روڈ پر واقع ڈیفنس کالونی میں اپنے کلینک کے اندر نامعلوم افراد نے ان پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی شہید ہو گئے۔ یہ قتل دراصل ایک فرد کا نہیں بلکہ امن، دلیل اور انسانیت کے بیانیے کا قتل تھا۔
ڈاکٹر فاروق خان کی شہادت پر معروف عالمِ دین جناب جاوید احمد غامدی کی گفتگو ایک فکری اور اخلاقی دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے۔ غامدی صاحب کے الفاظ میں ڈاکٹر فاروق خان ان کے عزیز بھائی، دیرینہ دوست اور رفیقِ فکر تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ لوگ ان کے علم، تصنیفات، خطابت اور دینی خدمات کا ذکر کریں گے، لیکن جس چیز نے انھیں سب سے زیادہ متاثر کیا، وہ ڈاکٹر صاحب کی انسانیت تھی۔ ان کا حلم، متانت، شائستگی، انسان دوستی اور ہر وقت چہرے پر موجود تبسم، یہ سب ان کی شخصیت کا مستقل حوالہ بن چکا تھا۔
غامدی صاحب کے مطابق بیس سالہ رفاقت میں کبھی ایک لمحے کے لیے بھی ڈاکٹر فاروق خان کے رویے میں سختی، تلخی یا اخلاقی پستی محسوس نہیں ہوئی۔ وہ امن کے داعی تھے اور ان کی پوری زندگی دعوت، استدلال اور خیر خواہی سے عبارت تھی۔ اختلاف کے باوجود شائستگی، دلیل کے باوجود نرمی اور یقین کے باوجود انکساری، یہ ان کے مزاج کا خاصہ تھا۔
غامدی صاحب اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ڈاکٹر فاروق خان کا طرزِ عمل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ کا عملی عکس تھا۔ وہ نہ داروغہ بن کر بولتے تھے اور نہ فیصلے مسلط کرتے تھے، بلکہ دلیل کے ساتھ بات رکھتے، سننے کا حوصلہ رکھتے اور مخاطب کے اخلاص کو ہمیشہ پیشِ نظر رکھتے تھے۔ اسی رویے نے انھیں شدت پسند فکر کے لیے ناقابلِ برداشت بنا دیا۔
ان کے نزدیک ڈاکٹر فاروق خان کی جدوجہد ایک فرد کی جدوجہد تھی، مگر اصل ضرورت اس جدوجہد کو ایک منظم فکری تحریک میں ڈھالنے کی ہے۔ مسلمانوں کے مذہبی فکر کی تشکیلِ جدید کی تحریک، جو جمود، تعفن اور فکری تعصب کو توڑ کر قرنِ اول کے فہمِ اسلام کی روشنی میں آگے بڑھے۔
آخر میں غامدی صاحب اس حقیقت کی طرف متوجہ کرتے ہیں کہ دین کسی فرد پر قائم نہیں ہوتا۔ افراد آتے جاتے رہتے ہیں، دین اللہ کا ہے اور وہ اپنے کام کے لیے نئے خدام پیدا کرتا رہتا ہے۔ ڈاکٹر فاروق خان بھی انہی خدام میں سے ایک تھے۔ ان کی شہادت ایک بڑا نقصان ضرور ہے، مگر ان کا پیغام، ان کا کردار اور ان کی قربانی آنے والی نسلوں کے لیے ایک زندہ حوالہ ہے۔
ڈاکٹر محمد فاروق خان کی زندگی اور شہادت ہمیں یہ سوال دے کر رخصت ہوئی ہے کہ کیا ہم دلیل، امن اور انسانیت کے راستے کو اپنانے کا حوصلہ رکھتے ہیں…؟ تاریخ بتاتی ہے کہ اصل شہید وہی ہوتا ہے جو مرنے کے بعد بھی سوچ کو زندہ رکھے اور ڈاکٹر فاروق خان یقیناً انہی میں سے تھے۔
_________________________________
ابدالی ڈاٹ کام کی انتظامیہ کے لیے یہ لازم نہیں کہ وہ لکھاری کے تمام خیالات سے متفق ہو۔ تمام مضامین کی اشاعت کا مقصد آزادانہ اظہارِ رائے کو فروغ دینا ہے۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو براہِ کرم اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فیس بُک آئی ڈی اور مختصر تعارف کے ساتھ ahabdali944@gmail.com پر ای میل کریں۔ تحریر کی اشاعت یا عدمِ اشاعت کا حتمی اختیار ادارتی بورڈ کے پاس محفوظ ہے۔