اکرام اللہ گران، خاموش آواز کا بے قرار شاعر

ادب کی تاریخ میں کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو ظاہری قد و قامت یا آواز کی گونج سے نہیں، بلکہ اپنے باطن کی گہرائی، فکر کی کاٹ اور فن کی سچائی سے پہچانی جاتی ہیں۔ وہ اپنے عہد کے شور میں بھی خاموش رہ کر بولتی ہیں اور وقت گزرنے کے بعد بھی اپنی موجودگی کا احساس دلاتی ہیں۔ اکرام اللہ گران کا شمار انہی تخلیق کاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے نہ صرف پشتو شاعری کو ایک الگ ذائقہ دیا بلکہ غزل کو ایک داخلی بے قراری، فکری اضطراب اور تہذیبی شعور سے ہم کنار کیا۔ ان کے یومِ وفات کے موقع پر یہ سوال پھر سے زندہ ہو جاتا ہے کہ اکرام اللہ گران آخر کون تھے، اور کیوں ان کا کلام آج بھی قاری اور سامع دونوں کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔
قارئین، اکرام اللہ گران باچا ہشتنغر (چارسدہ) کے اس ادب خیز اور مردم خیز دھرتی کے فرزند تھے جس نے پشتو ادب کو بے شمار معتبر نام عطا کیے۔ وہ بہ ظاہر قد میں چھوٹے اور آواز میں کم زور تھے، مگر فن اور فکر کے میدان میں بڑے بڑے دعوے داروں پر بھاری دکھائی دیتے ہیں۔ وہ محلہ یاسین زئی، پُرانگ چارسدہ میں میاں عبدالرحیم کے گھر 1941ء میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے رائج دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ آٹھویں جماعت تک سکول کی تعلیم بھی حاصل کی۔ بعد ازاں روزگار کے سلسلے میں ملک کے مختلف حصوں میں رہے، اور یہی مسلسل سفر ان کی شخصیت میں ایک داخلی بے چینی اور تخلیقی اضطراب کا سبب بنتا رہا۔ اپنی زندگی کے ان احوال کا مختصر مگر بامعنی ذکر انہوں نے خود اپنی کتاب "زما غزل” کے ابتدائی صفحات میں کیا ہے۔
اکرام اللہ گران اپنی شاعری کے حوالے سے ایک غیر روایتی مزاج رکھتے تھے۔ وہ اپنے اشعار کو باقاعدہ ترتیب یا حفاظت میں رکھنے کے قائل نہیں تھے۔ کاغذ کے ٹکڑوں پر بکھری ہوئی سطریں لکھتے اور پھر خود بھی ان سے بے خبر ہو جاتے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کی شاعری کو اصل معنوں میں محفوظ کرنے والی ان کی مرحومہ بہن تھیں، جو کپڑے دھوتے وقت ان کی جیبوں سے نکلنے والے اوراق کو خاموشی سے سنبھال کر رکھ لیتی تھیں۔ بعد میں یہی بکھرا ہوا سرمایہ انہیں واپس ملا اور اسی احسان کے اعتراف میں اکرام اللہ گران نے اپنی کتاب "زما غزل” اپنی بہن کے نام منسوب کی۔ یہ واقعہ ان کی شخصیت کے اس نرم، شکر گزار اور انسانی پہلو کو آشکار کرتا ہے جو ان کی شاعری میں بھی جھلکتا ہے۔
بیسویں صدی کے تیز رفتار ادبی ماحول میں، جب غزل اپنے عروج پر تھی اور بڑے بڑے اساتذہ اس صنف کو اپنے اپنے رنگ میں برت رہے تھے، اکرام اللہ گران نے اپنا ایک الگ لہجہ اور شناخت قائم کی۔ انہوں نے شاعری کا آغاز نظم سے کیا۔ ان کی پہلی نظم "خواگہ زہر” ایک واقعے کے تاثر پر مبنی تھی جو 1959ء میں رسالہ "رنڑا” میں شائع ہوئی۔ اسی سال انہوں نے غزل کا باقاعدہ آغاز بھی کیا اور پھر اپنی تخلیقی توانائی کا اصل رُخ اسی صنف کی طرف موڑ دیا۔ خود وہ اس کشمکش کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ مراد صاحب انہیں نظم اور غزل دونوں لکھنے کا مشورہ دیتے تھے، جب کہ حمزہ بابا کا خیال تھا کہ نظم لکھنے سے غزل متاثر ہو گی، اس لیے صرف غزل پر توجہ دی جائے۔ گران کے بہ قول، ان کی بے قراری کا میلان بہ ہرحال غزل ہی کی طرف زیادہ رہا۔
ستا نظر سہ رنگ قاتل دے ستا نظر سہ مسیحا دے
زما خاوری دی پہ سر کڑی کہ پہ بام زما غزل دے
ہر منگے می رنگینی دہ، ہره پیغلہ می خیالونہ
د جندی پہ مستہ غاڑہ پہ ہر گام زما غزل دے
د غزل سمندر دی گرانہ قابو نہ شو
سریدلے پہ ورشو د ھشتنغر دے
اکرام اللہ گران کے فنی مقام کا اندازہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ حمزہ بابا جیسے بڑے شاعر نے ان کی شادی کے موقع پر اشعار کہے، جو پہلے حمزہ بابا کی کتاب "سلگئی” میں اور بعد میں خود گران کی کتاب "زما غزل” میں شامل ہوئے۔ ان اشعار میں نہ صرف گران کی غزل کی تعریف موجود ہے بلکہ آخری مصرعے سے شادی کا سال بھی نکلتا ہے، جو اس ادبی تعلق کی گہرائی کو ظاہر کرتا ہے۔
اکرام اللہ گران نے اپنے عہد کے کئی اہم ادبی کرداروں کا اعترافِ احسان بھی کیا۔ خصوصاً مرحوم ولی محمد طوفان اور مہدی شاہ باچا کا ذکر ملتا ہے، جنہوں نے نوجوان لکھنے والوں کے ساتھ ساتھ گران کی شاعری کو بھی اپنے زیرِ انتظام رسائل میں جگہ دی۔ یہ وہ ادبی فضا تھی جس میں گران کا فن پروان چڑھا اور نکھر کر سامنے آیا۔
اگرچہ اکرام اللہ گران بنیادی طور پر شاعر کے طور پر پہچانے جاتے ہیں، مگر وہ نثر نگار بھی تھے۔ ان کی شائع شدہ شعری کتابوں میں ‘زما غزل’ اور ‘ژوند د خیال پہ آئینہ کے’ شامل ہیں۔ نثر میں ان کا افسانوی مجموعہ "سپوگمئی” اور نثری تصنیف "د گران فکرونہ” اب تک شائع نہیں ہو سکیں، جب کہ نظموں کا مجموعہ ‘زما نظم’ بھی غیر مطبوعہ ہے۔ یہ پشتو ادب کے لیے ایک خلا ہے کہ ان کے فن و فکر کے یہ گوشے تاحال قارئین تک نہیں پہنچ سکے۔
ناجانڑہ کلے دے ہر زاے کے چم پہ چم ویرہ دہ
سہ بوگنوونکی خاموشی دہ دم پہ دم ویرہ دہ
د حادثو سمندرونہ ڈوبیدل چی پہ کے
اوس ھغہ سترگو تہ راپیخہ د شبنم ویرہ دہ
دا بت شکن حالات د زڑونو بت کدی نڑوی
ما سرہ گرانہ گوارے ھم د خپل صنم ویره دہ
قارئین، اکرام اللہ گران کی شاعری کو پختون خوا کے نامور گلوکاروں نے اپنی آوازوں میں ڈھال کر مزید دوام بخشا۔ یہی ان کے فن کی اصل طاقت ہے کہ ان کا کلام پڑھنے والا ہو یا سننے والا، آخر تک ایک خاص سحر میں مبتلا رہتا ہے۔ 11 دسمبر 2014ء کو وہ اس فانی دنیا سے رخصت ہوئے اور چارسدہ میں اپنی آبائی قبرستان میں سپردِ خاک ہوئے، مگر ان کا کلام آج بھی زندہ ہے۔
آج 11 دسمبر کو اکرام اللہ گران کا یومِ وفات ہے۔ یہ فیصلہ قاری خود کرے کہ اس مختصر سے وجود میں کتنا بڑا، کتنا رنگین اور کتنا مضطرب دل دھڑکتا تھا۔ بس ان کی شاعری پڑھ لیجیے، سب کچھ خود عیاں ہو جائے گا۔
قارئین، اکرام اللہ گران پر تحقیقی حوالے سے عثمان سائر نے باچا خان یونی ورسٹی چارسدہ سے ایم فل کا مقالہ تحریر کیا ہے۔ مزید تفصیل کے لیے گران کی کتب، ان پر ہونے والی گفتگو، تذکرے اور طیب اللہ طیب صاحب کی مفصل کتاب "اکرام اللہ گران، فن اور شخصیت” کا مطالعہ یقیناً قاری کو ایک بھر پور ادبی تجربہ فراہم کرے گا۔
____________________________
ابدالی ڈاٹ کام کی انتظامیہ کے لیے یہ لازم نہیں کہ وہ لکھاری کے تمام خیالات سے متفق ہو۔ تمام مضامین کی اشاعت کا مقصد آزادانہ اظہارِ رائے کو فروغ دینا ہے۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو براہِ کرم اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فیس بُک آئی ڈی اور مختصر تعارف کے ساتھ ahabdali944@gmail.com پر ای میل کریں۔ تحریر کی اشاعت یا عدمِ اشاعت کا حتمی اختیار ادارتی بورڈ کے پاس محفوظ ہے۔