پاکستان کی سیاسی فضا تضادات، منافقت اور دوہرے معیارات سے بھری پڑی ہے۔ خاص طور پر جب بات پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)، جمیعت علمائے اسلام (ف) اور پختون خوا ملی عوامی پارٹی جیسی سیاسی جماعتوں کے رویوں کی ہو۔ یہ جماعتیں، جمہوریت اور انتخابی شفافیت کے علم بردار ہونے کے دعووں کے باوجود، اپنے اقدامات اور پالیسیوں میں یکسانیت کی شدید کمی کا مظاہرہ کرتی رہی ہیں۔
☆ پی ٹی آئی کا غیر جمہوری رویہ اور جھوٹ کی فیکٹری: پی ٹی آئی جو خود کو ایک اصلاح پسند اور جمہوری جماعت کے طور پر پیش کرتی ہے، مسلسل غیر جمہوری practices میں ملوث رہی ہے۔ اس پارٹی کی قیادت کا جھوٹ گھڑنے، غلط معلومات پھیلانے اور سیاسی مخالفین کے خلاف ذاتیاتی حملے کرنے کی کی مہارت ہے اور اس عمل پر فخر کرتے ہیں۔ سیاست میں کشیدگی اور بد تمیزی کا کلچر ان کے ہاں عام سی بات ہے۔ یہ رویہ نہ صرف جمہوری مکالمے کی روح کو مجروح کرتا ہے بلکہ ایک زہریلا سیاسی ماحول بھی پیدا کرتا ہے۔
یہ عمل پی ٹی آئی کے منصفانہ اور شفاف سیاست کے دعوے پر سوالیہ نشان لگاتے ہیں۔ اگر پی ٹی آئی واقعی جمہوریت پر یقین رکھتی ہے، تو اسے یہ تقسیم کرنے والی practices ترک کرنی چاہیے اور احترام اور جواب دہی کی ثقافت کو فروغ دینے پر توجہ دینی چاہیے۔
☆ پی ٹی آئی کا آمرانہ ماضی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں: اپنے دور حکومت میں پی ٹی آئی کی حکم رانی آمرانہ رویوں اور جمہوری اصولوں کی واضح خلاف ورزیوں سے بھری رہی۔ جماعت نے سیاسی اقدار کو مجروح کیا، انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی اور ریاستی اداروں کے غلط استعمال کے ذریعے اختلاف رائے کو کچلا۔ سب سے زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ پی ٹی آئی نے فوجی قیادت کے سامنے سویلین بالادستی  مکمل طور پر surrender کر دی جس سے پاکستان کی کمزور جمہوریت کو مزید نقصان پہنچا۔
ان اقدامات کے باوجود پی ٹی آئی نے اب تک اپنے آمرانہ رویوں کو تسلیم کرنے یا ان کے لیے معافی مانگنے سے انکار کیا ہے۔ اپنی غلطیوں کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کرنے والی جماعت کو مستقبل میں جمہوری اقدار کو برقرار رکھنے والی قوت کے طور پر کیسے تسلیم کیا جا سکتا ہے.. ؟
☆ 2024ء کے انتخابات کے حوالے سے پی ٹی آئی کے دوہرے معیارات:
2024ء کے انتخابات کے حوالے سے پی ٹی آئی کا رویہ اس کے دوہرے معیارات کی واضح مثال ہے۔ جماعت نے ان حلقوں کے نتائج کو مسترد کر دیا جہاں وہ ہار گئی۔ انہیں فراڈ کا نتیجہ قرار دیا جب کہ اپنی جیت کو شفاف اور منصفانہ قرار دیا۔ انتخابی نتائج کے حوالے سے یہ انتخابی رویہ پی ٹی آئی کے موقع پرستانہ رویے کو بے نقاب کرتا ہے۔
اگر پی ٹی آئی انتخابی شفافیت کے بارے میں سنجیدہ ہے، تو اسے تمام انتخابی نتائج پر یکساں معیار لاگو کرنا چاہیے، نہ کہ صرف ان پر جو جماعت کے حق میں ہوں۔ یہ inconsistency پی ٹی آئی کی عادتاً جھوٹ بولنے اور پاپولزم کے زور پر گم راہ کن بیانیے کی تکرار کرتی ہے اور اس تاثر کو مضبوط کرتی ہے کہ یہ جماعت اصولوں سے زیادہ مفادات اور طاقت کے حصول میں دل چسپی رکھتی ہے۔
☆ اے این پی کے پی ٹی آئی کے جمہوری کردار کے بارے میں خدشات:
عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) ہمیشہ سے پی ٹی آئی کے جمہوری کردار کے بارے میں شکوک و شبہات رکھتی ہے۔ اے این پی کا ماننا ہے کہ پی ٹی آئی ایک جمہوری سیاسی جماعت نہیں بلکہ ایک "ہجوم ذہنیت کی حامل سیاسی گروپ” ہے جو انتشار اور قطبی تقسیم پر پلتا ہے۔ اس جماعت کے ماضی کے اقدامات بشمول اس کی آمرانہ حکم رانی اور اختلاف رائے کو کچلنے کی کوششیں اس تاثر کو مزید مضبوط کرتے ہیں۔
اے این پی کو یقین ہے کہ اگر پی ٹی آئی دوبارہ حکومت میں آتی ہے، تو وہ وہی غلطیاں دہرائے گی جس سے پاکستان کے جمہوری اداروں کو مزید نقصان پہنچے گا۔ یہی وجہ ہے کہ اے این پی نے ہمیشہ پی ٹی آئی کو ایک جمہوری قوت کے طور پر تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے اور اس جماعت کے ساتھ کسی بھی اتحاد سے دور رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔
 ☆ جمیعت علمائے اسلام (ف) اور پی کے مپ کی "فارم 47” پر منافقت:
پی ٹی آئی کے اتحادیوں یعنی جمیعت علمائے اسلام (ف) اور پی کے مپ کی منافقت سیاسی صورت حال کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہے۔ جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور پیک مپ کے محمود خان اچک زئی دونوں نے اسی "فارم 47” کے عمل کے ذریعے سیٹیں جیتی ہیں جس پر پی ٹی آئی تنقید کرتی ہے۔ تاہم، یہ رہ نما اپنی سیٹیں چھوڑنے کے بہ جائے اپنے موقف میں تضادات کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہیں۔
اگر پی ٹی آئی، جمیعت علمائے اسلام (ف) اور پیک مپ "گرینڈ اپوزیشن الائنس” بنانے کے لیے سنجیدہ ہے، تو انہیں یکسانیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے "فارم 47” کے ذریعے جیتی گئی حکومتیں اور سیٹیں چھوڑنی چاہیے۔ یہ قبول نہیں کیا جا سکتا کہ جب یہ عمل دوسروں کے فائدے میں ہو، تو یہ غلط ہے لیکن جب یہ آپ کے فائدے میں ہو، تو یہ درست ہے۔ یہ دوہرا معیار کسی بھی طرح جمہوری جدوجہد کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور ان جماعتوں کی منافقت کو بے نقاب کرتا ہے۔
☆ پاکستانی سیاست میں یکسانیت اور دیانت داری کی ضرورت:
پی ٹی آئی، جمیعت علمائے اسلام (ف) اور پی کے میپ اور ان کے ہم خیال دوسری جماعتوں کے دوہرے معیارات پاکستانی سیاست کے گہرے مسائل کو اجاگر کرتے ہیں۔ کسی بھی معنی خیز سیاسی ریفارمز یا اتحاد کے کام یاب ہونے کے لیے جماعتوں کو پالیسی کی یکسانیت، دیانت داری اور جمہوری اصولوں کے حقیقی عہد کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
قارئین، پی ٹی آئی کا غیر جمہوری رویہ اپنے آمرانہ ماضی کو تسلیم کرنے سے انکار اور 2024ء کے انتخابات کے حوالے سے متضاد موقف اسے کسی بھی سیاسی اتحاد کے لیے ناقابل اعتماد بناتے ہیں۔ اسی طرح جمیعت علمائے اسلام (ف) اور پی کے میپ کی "فارم 47” پر منافقت عوامی اعتماد کو مزید کم زور کرتی ہے۔
عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) جمہوری اقدار اور انتخابی سالمیت کو برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔ جب تک یہ اہم مسائل حل نہیں ہو جاتے، پارٹی سیاسی مصلحت پر اپنے اصولوں کو ترجیح دیتی رہے گی، تاکہ جمہوریت، انسانی حقوق اور سویلین بالادستی کے لیے اس کی جدوجہد غیر متزلزل رہے۔
__________________________
ابدالى انتظامیہ کا لکھاری سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شایع کروانا چاہتے ہیں، تو اُسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ ahabdali944@gmail.com پر اِی میل کر دیجئے۔ تحریر شایع کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

شیئرکریں: