فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافن) نے عام انتخابات 2024 سے متعلق رپورٹ جاری کر دی۔ جس کے مطابق ریٹرننگ آفیسر (آر او) فارم 47 انتخابی امیدواروں، ایجنٹس اور مبصرین کی موجودگی میں بناتا ہے لیکن 260 حلقوں میں سے 135 کے آراوز  نے تمام قانونی تقاضے پورے نہیں کیے۔
آر اوز کے اس عمل سے انتخابی شفافیت کےلیے الیکشن کمیشن کی کاوشیں متاثر ہوئیں، آر اوز نے 135 قومی اسمبلی حلقوں میں نتائج کی تیاری کا مشاہدہ نہیں کرنے دیا، مشاہدے سے روکے گئے۔ حلقوں میں سے 46 میں پی ٹی آئی حمایتِ یافتہ کام یاب ہوئے، 43 میں ن لیگ اور 28 میں پیپلز پارٹی کے امیدوار کام یاب ہوئے۔ سب سے زیادہ بے قاعدگیاں ان حلقوں میں ہوئیں، جن میں تحریکِ انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار جیتے۔
فافن کا کہنا ہے کہ 65 حلقوں کےنتائج تیاری میں انتخابی امیدواروں، ایجنٹس کو جائزے سے روکا گیا۔ ایسے حلقوں میں سے ن لیگ کے 25، پی ٹی آئی حمایتِ یافتہ 24، پی پی 5 امیدوار جیتے۔ رات 2 بجے تک نتائج تیاری کی قانونی مہلت پر صرف 4 انتخابی حلقوں میں عمل ہوا۔
رپورٹ کے مطابق زیرِ مشاہدہ 80 حلقوں میں سے 42 میں تھیلے امیدوار یا ایجنٹس کے بغیر کھولے گئے۔ آر اوز نے 53 قومی اسمبلی حلقوں میں فارم 45 کی گنتی کی درستگی کرائی۔
شیئرکریں: