کچھ شخصیات اپنے عہد میں صرف اپنی ذات تک محدود نہیں رہتے بلکہ اپنی علمی، ادبی اور ثقافتی خدمات کے ذریعے پورے معاشرے کی اجتماعی یادداشت کا حصہ بن جاتی ہیں۔ لائق زادہ لائق بھی ایسی ہی ہمہ جہت شخصیت تھے جنہوں نے پشتو زبان و ادب، ریڈیو، ٹیلی ویژن، صحافت، تحقیق اور ثقافت کے مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا اظہار کیا۔ وہ بہ یَک وقت شاعر، افسانہ نگار، ڈرامہ نویس، محقق، کالم نگار، نغمہ نگار اور براڈکاسٹر تھے۔ ان کی شخصیت کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ انہوں نے ادب کو محض ذاتی اظہار کا ذریعہ نہیں بنایا بلکہ اسے اپنی زبان، ثقافت، فن کاروں اور معاشرتی اقدار کے تحفظ کا وسیلہ بھی بنایا۔ ان کی وفات کے بعد بھی ان کی کتابیں، ریڈیو ڈرامے، شاعری اور ثقافتی خدمات ان کے فکری و ادبی سفر کی گواہی دیتی ہیں۔
قارئین، لائق زادہ لائق 15 جنوری 1959ء کو سوات کے خوب صورت علاقے مدین میں پیدا ہوئے۔ سوات کی فطری خوب صورتی، تاریخی پس منظر اور ثقافتی ماحول نے ان کی شخصیت اور تخلیقی مزاج کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کا تعلق ایک ایسے خطے سے تھا جہاں پشتو زبان، لوک ادب، موسیقی، روایات اور شعری روایت عوامی زندگی کا لازمی حصہ ہیں۔ شاید یہی وجہ تھی کہ آگے چل کر ان کی ادبی دلچسپی محض کتابی ادب تک محدود نہ رہی بلکہ انہوں نے پشتو کے لوک فن، موسیقی اور فن کاروں کی زندگیوں کو بھی اپنے تحقیقی کام کا موضوع بنایا۔
لائق زادہ لائق نے اپنی ابتدائی تعلیم سے فراغت کے بعد کالج کی تعلیم سوات کے معروف تعلیمی ادارے جہان زیب کالج سے حاصل کی۔ بعد ازاں انہوں نے پشاور یونی ورسٹی سے اردو اور پشتو ادب میں ماسٹرز کی ڈگریاں، جب کہ کراچی یونی ورسٹی سے سیاسیات کی ڈگری حاصل کی۔ یوں ان کی علمی تربیت میں ادب کے ساتھ ساتھ سیاسی اور سماجی علوم کا مطالعہ بھی شامل تھا۔ یہی وسیع علمی پس منظر ان کی بعد کی تحریروں میں موضوعات کی وسعت اور فکری تنوع کا سبب بنا۔
تعلیم مکمل کرنے کے بعد لائق زادہ لائق نے عملی زندگی میں قدم رکھا اور ریڈیو پاکستان سے وابستہ ہوگئے۔ ریڈیو ان کی شخصیت اور تخلیقی سفر کا ایک اہم میدان ثابت ہوا۔ انہوں نے پروگرام سازی، ڈرامہ، فیچر، دستاویزی پروگرام، بچوں کے پروگرام، آؤٹ ڈور براڈکاسٹ اور دیگر نشریاتی سرگرمیوں میں کام کیا۔ وقت کے ساتھ وہ ریڈیو پاکستان کے مختلف اہم عہدوں پر فائز ہوئے اور اسٹیشن ڈائریکٹر، ریجنل ڈائریکٹر اور پروگرامز سے متعلق اہم ذمے داریاں بھی انجام دیں۔ ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور ادبی قابلیت نے انہیں ریڈیو پاکستان کے اعلیٰ انتظامی منصب تک پہنچایا اور وہ اپنی ملازمت کے آخری دور میں ڈائریکٹر جنرل ریڈیو پاکستان کے منصب پر بھی فائز رہے۔
ان کی براڈکاسٹنگ خدمات کا ایک اہم پہلو یہ تھا کہ انہوں نے ریڈیو کو پشتو ادب اور ثقافت کی ترویج کے لیے مؤثر ذریعہ بنایا۔ دستیاب معلومات کے مطابق انہوں نے 500 سے زائد ریڈیو ڈرامے اور تقریباً 12 ٹی وی ڈرامے تحریر کیے، جب کہ ان کے افسانوں کی تعداد بھی ایک سو سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔ ان کے تحریری کام میں بچوں کے لیے کہانیاں، سماجی موضوعات، ثقافتی تحریریں، شاعری، ڈرامے اور تحقیقی مواد شامل تھا۔ اس اعتبار سے وہ محض ایک شاعر یا ادیب نہیں بلکہ ایک ایسے تخلیق کار تھے جنہوں نے ریڈیو اور ٹیلی ویژن جیسے عوامی ذرائع ابلاغ کو بھی پشتو زبان و ادب کے فروغ کے لیے استعمال کیا۔
قارئین، لائق زادہ لائق کی اصل شناخت ان کی کثیرالجہتی ادبی شخصیت سے ہوتی ہے۔ وہ پشتو کے شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ افسانہ نگار اور ڈرامہ نویس بھی تھے۔ ان کی تخلیقات میں رومان، انسانی جذبات، معاشرتی مسائل، امن، ثقافتی شناخت، پشتو زبان اور انسانی اقدار جیسے موضوعات نمایاں نظر آتے ہیں۔ ان کا ادبی سفر صرف شاعری تک محدود نہیں رہا بلکہ انہوں نے نثر، افسانہ، ڈرامہ، کالم، نغمہ نگاری اور تحقیق میں بھی اپنی صلاحیتوں کا اظہار کیا۔ مختلف ذرائع میں ان کی تصانیف کی تعداد 36 سے زائد اور بعض جگہ اس سے بھی زیادہ بیان کی گئی ہے۔ ان کی معروف تصانیف میں د وطن سندری، فن کار نہ مری، ماتہ آئینہ، گنبد خضرا، اور دیگر شعری، افسانوی اور تحقیقی کتابیں شامل ہیں۔
قارئین، ان کی تحقیقی خدمات میں "فن کار نہ مری” ایک نمایاں تصنیف ہے۔ یہ کتاب پشتو موسیقی اور اس سے وابستہ فن کاروں کے حالاتِ زندگی اور ثقافتی تاریخ کو محفوظ کرنے کی ایک اہم کوشش ہے۔ کتاب میں متعدد فن کاروں کے حالاتِ زندگی، ان کے فنی سفر اور ان سے متعلق مختلف معلومات شامل کی گئی ہیں۔ کتاب میں بعض فن کاروں کی نایاب تصاویر بھی شامل ہیں۔ اس کتاب کی اہمیت صرف اس لیے نہیں کہ اس میں فن کاروں کے حالات جمع کیے گئے ہیں بلکہ اس لیے بھی ہے کہ لائق زادہ لائق نے ان شخصیات کو یاد کرنے کی کوشش کی جنہیں وقت گزرنے کے ساتھ معاشرہ بھولتا جا رہا تھا۔ انہوں نے پشتو موسیقی کے مرد فن کاروں کے ساتھ خواتین فن کاروں کو بھی اہمیت دی۔ یوں "فن کار نہ مری” محض سوانحی کتاب نہیں بلکہ پشتو کے ثقافتی حافظے کو محفوظ کرنے کی ایک کوشش بن جاتی ہے۔
لائق زادہ لائق نے پشتو کے لیے متعدد قومی، ثقافتی اور فلمی نغمے بھی لکھے۔ ان کے ہاں نغمہ محض تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ زبان، تہذیب، محبت، امن اور انسانی جذبات کے اظہار کا وسیلہ بھی تھا۔ ان کی بعض تحریروں میں پشتون معاشرے کے ثقافتی رنگ، روایتی اقدار اور بدلتے ہوئے سماجی رویوں کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔
لائق زادہ لائق کی فنی میراث ان کے صاحب زادے واجد لائق کے ذریعے بھی آگے بڑھ رہی ہے، جو پشتو زبان کے معروف گلوکار ہیں۔ آج کل ان کا گایا ہوا گیت "ما بہ سنگہ ہیروی” خاصی مقبولیت حاصل کر رہا ہے، جس کے بول ان کے والد لائق زادہ لائق نے لکھے تھے۔ یوں لائق زادہ لائق کی نغمہ نگاری اور واجد لائق کی گائیکی کا یہ امتزاج ایک ہی خاندان میں پشتو ادب اور موسیقی کے فنی تسلسل کی خوب صورت مثال بن جاتا ہے۔
قارئین، لائق زادہ لائق نے پشتو موسیقی میں بدلتے ہوئے رجحانات پر بھی اظہارِ خیال کیا اور ایسے گیتوں پر تنقید کی جن میں تشدد اور سطحی موضوعات غالب ہوتے جا رہے تھے۔ اس حوالے سے ان کی دلچسپی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ وہ ادب اور موسیقی کو معاشرتی تربیت اور ثقافتی شعور کے ساتھ جوڑ کر دیکھتے تھے۔
لائق زادہ لائق کی شخصیت کا ایک اہم پہلو ان کا امن اور انسانی ہم آہنگی کے ساتھ تعلق تھا۔ ان کے ادبی اور نشریاتی کاموں میں معاشرتی مسائل اور انسانی جذبات کو نمایاں جگہ ملتی ہے۔ ان کی وفات کے بعد منعقدہ ادبی تقریبات میں بھی ادیبوں اور دانشوروں نے ان کی خدمات کو امن، قومی یَک جہتی، پشتو ادب اور ثقافت کے فروغ سے وابستہ قرار دیا۔ یہ پہلو ان کے ادبی مزاج کو سمجھنے کے لیے اہم ہے، کیوں کہ ان کے نزدیک زبان اور ادب صرف ماضی کی یاد نہیں بلکہ معاشرے کی تعمیر اور انسانی تعلقات کی مضبوطی کا ذریعہ بھی تھے۔
لائق زادہ لائق ادبی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ ادبی تنظیم سازی میں بھی فعال رہے۔ وہ "نیاز ادبی سنگر” کے بانی چیئرمین کے طور پر بھی یاد کیے جاتے ہیں۔ ان کی ادبی تنظیمی سرگرمیوں کا مقصد نہ صرف اپنی تخلیقات کی ترویج تھا بلکہ ادیبوں، شاعروں اور فن کاروں کو ایک مشترکہ ادبی پلیٹ فارم فراہم کرنا بھی تھا۔ ان کی دوسری برسی کے موقع پر منعقدہ تقریبات میں بھی ان کی ادبی، ثقافتی اور تنظیمی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔
لائق زادہ لائق کو ان کی ادبی، ثقافتی اور براڈکاسٹنگ خدمات کے اعتراف میں مختلف قومی اور ادبی اعزازات سے نوازا گیا۔ ان میں سب سے اہم صدارتی اعزاز "تمغۂ امتیاز” ہے، جو ان کی خدمات کا قومی سطح پر اعتراف تھا۔ پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز کے ریکارڈ کے مطابق ان کی پشتو کتاب "د وطن سندری” کو 2021ء کے قومی ادبی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ اس کے علاوہ مختلف ذرائع میں انہیں متعدد ادبی، ثقافتی اور براڈکاسٹنگ اعزازات ملنے کا ذکر ملتا ہے۔ ان اعزازات کی طویل فہرست اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ لائق زادہ لائق کی خدمات صرف ایک ادبی صنف یا ایک ادارے تک محدود نہیں تھیں بلکہ ان کی شخصیت نے ادب، ثقافت، موسیقی اور براڈکاسٹنگ کے متعدد میدانوں میں اپنی جگہ بنائی۔
قارئین، لائق زادہ لائق 30 اکتوبر 2023ء کو 64 برس کی عمر میں پشاور میں انتقال کر گئے۔ ان کی وفات سے پشتو ادب، ثقافت اور براڈکاسٹنگ کے حلقوں میں ایک ایسی شخصیت رخصت ہوگئی جس نے کئی دہائیوں تک مختلف میدانوں میں اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا اظہار کیا۔ انہیں ان کے آبائی علاقے مدین، سوات میں سپردِ خاک کیا گیا۔ ان کے انتقال کے بعد مختلف ادبی اور ثقافتی حلقوں کی جانب سے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا گیا اور ان کی خدمات کو پشتو زبان و ادب کے لیے ایک اہم سرمایہ قرار دیا گیا۔
لائق زادہ لائق کی زندگی کا جائزہ لیا جائے، تو یہ ایک ایسے ادیب کی داستان دکھائی دیتی ہے جس نے قلم، مائیک، ریڈیو اور تحقیق، سب کو اپنی زبان اور ثقافت کی خدمت کے لیے استعمال کیا۔ انہوں نے شاعری کی، افسانے لکھے، ڈرامے تخلیق کیے، ریڈیو پروگرام کیے، ٹی وی کے لیے لکھا، نغمے تخلیق کیے، فن کاروں کے حالات جمع کیے اور پشتو ثقافتی ورثے کو کتابوں میں محفوظ کرنے کی کوشش کی۔ ان کی شخصیت کی اصل اہمیت شاید اسی ہمہ جہت کردار میں پوشیدہ ہے کہ انہوں نے ادب کو زندگی کے مختلف شعبوں سے جوڑ دیا اور اپنے عہد کے ادبی و ثقافتی منظرنامے کو مختلف زاویوں سے محفوظ کیا۔
لائق زادہ لائق کو صرف "شاعر” یا "براڈکاسٹر” کے ایک محدود عنوان میں بیان کرنا ان کی ہمہ جہت خدمات کے ساتھ انصاف نہیں ہوگا۔ وہ ایک ایسے ادیب تھے جنہوں نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو پشتو زبان، ادب، موسیقی، فن کاروں اور ثقافتی تاریخ کے ساتھ جوڑا۔ ان کی کتاب "فن کار نہ مری” یعنی فن کار مرتا نہیں، اس بات کی خوب صورت مثال ہے کہ ایک ادیب اپنے معاشرے کے بھولے ہوئے کرداروں کو دوبارہ تاریخ کے صفحات پر زندہ کرسکتا ہے۔ ان کی زندگی ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ فنکار جسمانی طور پر دنیا سے رخصت ہوسکتا ہے، مگر اس کا فن، اس کا قلم اور اس کی تخلیق آنے والی نسلوں کے لیے زندہ رہتی ہے۔ شاید اسی حقیقت کو لائق زادہ لائق نے اپنی ایک تصنیف کے عنوان میں سمیٹ دیا تھا کہ "فن کار نہ مری”۔
____________________________
ابدالی ڈاٹ کام کی انتظامیہ کے لیے یہ لازم نہیں کہ وہ لکھاری کے تمام خیالات سے متفق ہو۔ تمام مضامین کی اشاعت کا مقصد آزادانہ اظہارِ رائے کو فروغ دینا ہے۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو براہِ کرم اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فیس بُک آئی ڈی اور مختصر تعارف کے ساتھ ahabdali944@gmail.com پر ای میل کریں۔ تحریر کی اشاعت یا عدمِ اشاعت کا حتمی اختیار ادارتی بورڈ کے پاس محفوظ ہے۔
شیئرکریں: