​اُردو ادب کی بساط پر بہت سے ستارے نمودار ہوتے ہیں۔ کچھ اپنی علمیت سے رعب ڈالتے ہیں اور کچھ اپنی گفتگو سے دل جیت لیتے ہیں۔ لیکن میڈم روبینہ شاہین ایک ایسی شخصیت کا نام ہے جہاں علم کا وقار اور ممتا کی شفقت ایک مقام پر آ کر مل گئے ہیں۔ اُنہیں "محبت کی دیوی” کہنا محض ایک جذباتی اظہار نہیں بلکہ اُن کی اِس ہمہ گیر شخصیت کا اعتراف ہے جو اپنے شاگردوں کے لیے شجرِ سایۂ دار کی مانند ہے۔ آپ کے بارے میں میم فرحانہ قاضی کچھ یوں فرماتی ہیں:
"میم صرف کورس نہیں پڑھاتی بلکہ انسان کو زندگی کے گُر سیکھاتی ہیں اور میں نے زندگی کے گُر میم سے سیکھے ہیں”
​میڈم کی شخصیت کا پہلا رخ اُن کا بے پناہ وقار ہے۔ جب وہ سامنے ہو، تو دیکھنے والا ایک پل کے لیے سہم کر رُک جاتا ہے۔ اُن کی مہرباں شخصیت تمکُنت سے بھرپور چال اور چہرے پر سجی سنجیدگی ایک ایسا رعب پیدا کرتی ہے کہ پہلی بار ملنے والا گفتگو کی ہمت نہیں پاتا۔ یہ وہ رعب نہیں جو خوف سے پیدا ہو بلکہ وہ ھیبت ہے جو خالص علمی وجاہت اور خودداری کا خاصہ ہوتی ہے۔ دور سے دیکھنے پر وہ اُردو ادب کی کسی قدیم داستان کی کوئی شہزادی معلوم ہوتی ہیں جس کے نزدیک جانا محال ہوتا ہے ​لیکن جیسے ہی وہ لب کشائی کرتی ہیں یہ رعب و دبدبے کا حصار ایک دم موم کی طرح پگھلنے لگتا ہے۔ اُن کی آواز میں ایسی مٹھاس اور اپنائیت ہے جو کسی بچھڑے ہوئے بچے کو اپنی ماں کی گود کی یاد دلاتی ہے۔ اُن کا لہجہ سماعتوں میں شہد گھولتا ہے اور اجنبیت کی برف لمحوں میں پگھل جاتی ہے۔ اُن سے بات کر کے ایسا لگتا ہے جیسے کوئی پیاسا برسوں سے کسی ٹھنڈے میٹھے چشمے کی تلاش میں ہو اور اچانک اُسے منزل مل جائے۔ وہ لفظوں کو اس قدر سلیقے سے استعمال کرتی ہیں کہ مخاطب خود کو ان کی گفتگو کے سحر میں قید پاتا ہے۔
​کمرۂ جماعت (کلاس) میں میڈم کا اندازِ بیاں ایک الگ ہی جہاں تخلیق کرتا ہے۔ وہاں وہ صرف ایک استاد نہیں بلکہ ایک داستان گو بن جاتی ہیں۔ جب وہ تنقید اور طنز ومزاح کی باریکیاں سمجھاتی ہیں تو اُن کے لہجے کی مٹھاس خشک سے خشک موضوع کو بھی دلچسپ بنا دیتی ہے۔ اُن کے پڑھانے کا انداز ایسا ہے کہ طالب علم گھڑی کی سوئیوں کو بھول کر اُن کے لفظوں کی روانی میں بہ جاتا ہے۔ اُن کی کلاس میں علم صرف کانوں تک نہیں پہنچتا بلکہ روح میں اترتا محسوس ہوتا ہے۔
​ایک ایسے دور میں جہاں خواتین کی اکثریت نمائش، زیورات اور قیمتی میک اپ سیٹس کو زندگی کا حاصل سمجھتی ہے اُسی دور میں میڈم روبینہ شاہین کا انتخاب بالکل مختلف ہے۔ اُنہوں نے اپنی زندگی کا بہترین حصہ جوانی لفظوں کی آبرو بچانے اور "ادب” کی خدمت میں صرف کر دیا۔ اُن کے لیے اصل زیور کتابوں کی خوشبو اور اصل سنگھار علم کی روشنی ہے۔ انہوں نے اس عمر میں کتابوں کو اپنا اُوڑھنا بچھونا بنایا جب دنیا رنگ و بو کے تعاقب میں رہتی ہے۔ اُن کا یہ ایثار اُنہیں ہم عصروں میں ممتاز اور منفرد بناتی ہیں۔ ​اُن کی شخصیت پر احمد فراز کا یہ شعر صادق آتا ہے:
​سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں
یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں
​اُن کے منہ سے نکلنے والا ہر لفظ گلاب کی طرح نرم اور خوشبودار ہوتا ہے۔ وہ جب مخاطب ہوتی ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ لفظوں کی تسبیح سے موتی گر رہے ہوں۔ ان کی گفتگو میں نہ سختی ہے اور نہ ہی مصنوعی پن بلکہ ایک ایسی فطری مٹھاس ہے جو صرف سچے اہل دانش کا نصیب ہوتی ہے۔
​میڈم روبینہ شاہین اُردو ادب کا وہ روشن چراغ ہیں جو خاموشی سے نسلوں کی آبیاری کر رہا ہے۔ اُن کی شخصیت ہمیں سکھاتی ہے کہ علم انسان کو متکبر نہیں بلکہ شفیق بناتا ہے۔ وہ ایک ایسی "محبت کی دیوی” ہیں جن کے سائے میں طالب علم خود کو محفوظ اور معتبر محسوس کرتے ہیں۔ ان جیسی اساتذہ ہی دراصل وہ معمار ہیں جو معاشرے کی فکری بنیادوں کو مضبوط کرتے ہیں۔
_______________________________
ابدالی ڈاٹ کام کی انتظامیہ کے لیے یہ لازم نہیں کہ وہ لکھاری کے تمام خیالات سے متفق ہو۔ تمام مضامین کی اشاعت کا مقصد آزادانہ اظہارِ رائے کو فروغ دینا ہے۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو براہِ کرم اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فیس بُک آئی ڈی اور مختصر تعارف کے ساتھ ahabdali944@gmail.com پر ای میل کریں۔ تحریر کی اشاعت یا عدمِ اشاعت کا حتمی اختیار ادارتی بورڈ کے پاس محفوظ ہے۔
شیئرکریں: