علم و حکمت کی پیکر اور طنز و مزاح کی صاحبِ اسلوب استاد ڈاکٹر روبینہ شاہین اُردو ادب کے افق پر ایک روشن اور ثابت قدم ستارے کی مانند جلوہ گر ہیں۔ 04 مئی 1970ء کو مانسہرہ کی علمی فضا میں آنکھ کھولنے والی اس باوقار شخصیت نے ابتدائی تعلیم اسلامیہ پبلک سکول مانسہرہ سے حاصل کی اور پھر جامعہ پشاور سے اُردو ادب میں ایم۔اے، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں امتیازی انداز میں مکمل کیں۔ یوں اُن کا تعلیمی سفر محض اسناد کے حصول تک محدود نہ رہا بلکہ فکری پختگی اور تحقیقی ژرف نگاہی میں ڈھلتا گیا۔
1993ء سے جامعہ پشاور کے شعبۂ اُردو سے وابستگی اُن کے علمی تسلسل اور ادارہ جاتی وفاداری کا روشن ثبوت ہے۔ تدریس اُن کے لیے پیشہ نہیں، ایک ذمے دارانہ امانت ہے۔ وہ 2017ء تا 2020ء صدرِ شعبہ رہیں اور اپنی انتظامی بصیرت سے شعبے کو تحقیقی وقار عطا کیا۔ شعبۂ اُردو کے تحقیقی و ادبی مجلے "خیابان” کی مدیرہ کی حیثیت سے بھی انہوں نے معیار، توازن اور تنقیدی دیانت کی ایسی روایت قائم کی جو اہلِ قلم کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ اس وقت وہ جامعہ پشاور میں فیکلٹی آف اسلامک اینڈ اورینٹل سٹڈیز کی ڈین کے منصب پر فائز ہیں، جہاں اُن کی سنجیدگی اور فیصلہ سازی کی قوت ادارہ جاتی نظم کو استحکام بخش رہی ہے۔
قارئین، ڈاکٹر روبینہ شاہین سے ملاقات یہ احساس دلانے کے لیے کافی ہے کہ سنجیدگی بھی شائستگی کے ساتھ نبھائی جا سکتی ہے۔ وہ مسکراتی کم اور پرکھتی زیادہ ہیں، اور اُن کی یہ پرکھ ہمیشہ درست پیمانے پر پوری اُترتی ہے۔ اُن کا طنز قہقہوں کی محفل نہیں سجاتا بلکہ ذہن کے دریچے وا کرتا ہے۔ وہ مزاح کو ہلکا نہیں ہونے دیتیں، اُن کے ہاں مزاح شعور کی آنچ میں پکا ہوا ہوتا ہے۔ ایسا مزاح جو محض ہنساتا نہیں، سوچنے پر مجبور کرتا ہے اور جب بات سمجھ آ جائے، تو ہنسی خود بہ خود سنجیدگی میں ڈھل جاتی ہے۔
تنقید اُن کے اسلوب میں تذلیل نہیں بلکہ تشخیص ہے۔ وہ تحریر کو رد نہیں کرتیں، اسے کھولتی ہیں، لفظ کو بچا لیتی ہیں اور فریب کو بے نقاب کر دیتی ہیں۔ طالب علم جب اُن کے سامنے اپنا مسودہ رکھتا ہے، تو وہ محض غلطی کی نشان دہی نہیں کرتیں، سوچ کا زاویہ درست کرتی ہیں۔ آئینہ دکھاتی ہیں، مگر شیشہ نہیں توڑتیں۔ شاگرد خود کو سنوارتا ہے اور یہی ان کی تدریس کی اصل کامیابی ہے۔
کسی بھی اجلاس میں اُن کی موجودگی محض رسمی شرکت نہیں بلکہ فکری مرکزیت کا اعلان ہوتی ہے۔ ایک جملہ پوری فائل پر بھاری پڑ جاتا ہے۔ وہ بولیں، تو وضاحتیں غیر ضروری ہو جاتی ہیں اور خاموشی بھی معنی خیز ہو اٹھتی ہے۔ اُن کے سامنے فیصلے جذبات سے نہیں، دلیل سے طے پاتے ہیں۔ گویا اُن کا وقار اعلان کا محتاج نہیں۔ وہ اُن کی چال کی متانت، لباس کی سادگی میں پوشیدہ معنویت اور لہجے کے وزن سے خود ظاہر ہوتا ہے۔ بقولِ غالبؔ:
ہیں اور بھی دنیا میں سخن ور بہت اچھے
کہتے ہیں کہ غالبؔ کا ہے اندازِ بیاں اور
وہ اس عہد کی نمائندہ عورت ہیں جب علم کو زیور کی حاجت نہ تھی اور زیورِ علم کے سامنے سر جھکاتا تھا۔ ڈاکٹر روبینہ شاہین شور سے نہیں، خاموش محنت سے پہچانی جاتی ہیں۔ وہ سطح پر نہیں، تہہ میں بیٹھ کر موتی تراشتی ہیں۔ ایسی استاد جو محض سبق نہیں دیتیں بلکہ سوال عطا کرتی ہیں اور وہ سوال زندگی بھر انسان کے ساتھ چلتا رہتا ہے، رہ نمائی بھی کرتا ہے اور احتساب بھی۔
اللہ تعالیٰ ہماری محترم استاد ڈاکٹر روبینہ شاہین صاحبہ کا سایۂ شفقت و محبت ہم تمام تشنگانِ علم و ادب پر دیرپا قائم رکھے، اور ہمیں اُن کی علمی دیانت، فکری جرات اور تہذیبی وقار سے فیض یاب ہونے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔
جاتے جاتے بس کچھ اشعار ان کے نام کرنا چاہوں گا کہ:
وہ لفظ تولتی ہیں، تو معنی سنور جاتے ہیں
قلم اٹھاتی ہیں، تو زاویے نکھر جاتے ہیں
نہ شور کرتی ہیں نہ دعویٰ کمال کا رکھتی ہیں
وہ خامشی میں بھی اک وقارِ حال کا رکھتی ہیں
وہ طنز کرتی ہیں، تو آئینہ صاف ہو جائے
فریب ٹوٹ کے خود اپنے خلاف ہو جائے
وہ درس دیتی نہیں، فکر جگا دیتی ہیں
سوال دے کے زمانے کو آزما دیتی ہیں
جہاں دلیل رکے، وہ وہاں سے بول اٹھیں
سکوت بھی ہو، تو معنی ہزار کھول اٹھیں
________________________________
ابدالی ڈاٹ کام کی انتظامیہ کے لیے یہ لازم نہیں کہ وہ لکھاری کے تمام خیالات سے متفق ہو۔ تمام مضامین کی اشاعت کا مقصد آزادانہ اظہارِ رائے کو فروغ دینا ہے۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو براہِ کرم اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فیس بُک آئی ڈی اور مختصر تعارف کے ساتھ ahabdali944@gmail.com پر ای میل کریں۔ تحریر کی اشاعت یا عدمِ اشاعت کا حتمی اختیار ادارتی بورڈ کے پاس محفوظ ہے۔
