ضلع صوابی کی تاریخ میں چند نام ایسے ہیں جو اپنی خلوص، عوامی خدمت اور ترقی کے جذبے کی وجہ سے ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ انہی درخشاں اور ناقابلِ فراموش ناموں میں ایک عظیم نام حاجی رحمان اللہ خان کا ہے، جنہیں عوام محبت، عقیدت اور احترام سے "بابائے صوابی” کہتے تھے۔ وہ صرف ایک سیاسی راہ نما نہیں بلکہ ایک وژنری شخصیت تھے جنہوں نے اپنی بصیرت، عملی اقدامات اور عوامی سوچ سے صوابی کی تقدیر بدلنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔
قارئین، حاجی رحمان اللہ خان 1941ء میں ضلع صوابی کے گاؤں کرنل شیر کلے میں پیدا ہوئے۔ ان کی شخصیت عوامی خدمت اور عوامی فلاح و بہبود کے فلسفے سے جڑی ہوئی تھی۔ انہوں نے ہمیشہ قیادت کو ایک مقدس ذمے داری کے طور پر دیکھا، جس کا اصل مقصد عوام کے مسائل کو حل کرنا، لوگوں کے بنیادی حقوق کو یقینی بنانا اور علاقے کو ترقی کی راہ پر گام زن کرنا تھا۔
ان کے سیاسی سفر کا آغاز مقامی سطح پر عوامی نمائندگی اور تنظیموں میں شامل خدمات سے ہوا، لیکن وہ جلد ہی اپنے مضبوط عوامی جذبے اور قیادت کی صلاحیت کی وجہ سے بڑے عہدوں پر پہنچ گئے۔ انہوں نے طویل عرصے تک عوامی نیشنل پارٹی سے وابستگی برقرار رکھی، جو پاکستان میں پختون قوم پرستی، عوامی حقوق اور ترقی پسند پالیسیوں کی حامل ایک معتبر سیاسی جماعت ہے۔
حاجی رحمان اللہ خان دو بار رکن قومی اسمبلی (MNA) کے طور پر منتخب ہوئے۔ پہلی بار 1990ء سے 1993ء تک اور دوسری بار 1997ء سے 1999ء تک، دونوں بار وہ NA‑8 (صوابی) کے الیکشن میں کامیاب ہوئے۔ انہوں نے 1990ء کے انتخابات میں واضح اکثریت کے ساتھ فتح حاصل کی، جس میں انہوں نے پاکستان ڈیموکریٹک الائنس (PDA) کے امیدوار سلیم خان کو بڑے مارجن سے ہرایا تھا۔ اگرچہ 1993ء کے انتخابات میں انہوں نے جمعیت علمائے اسلام کے امیدوار مولانا فضل اللہ کے خلاف سخت مقابلے کے بعد نشست کھودی، مگر 1997ء کے عام انتخابات میں انہوں نے دوبارہ کامیابی حاصل کی، اس بار آپ کے مضبوط سیاسی اجتماعیت اور عوامی اعتماد نے انہیں کامیابی عطا کی۔
قارئین، حاجی رحمان اللہ خان کی سیاسی خدمات صرف پارلیمانی نمائندگی تک محدود نہیں رہیں۔ انہوں نے ضلع بھر میں عملی ترقیاتی اقدامات کیے جن کا اثر آج بھی صوابی کے عوام محسوس کرتے ہیں۔ انہوں نے تعلیم کے فروغ پر خاص توجہ دی اور متعدد گرلز اور بوائز سکولز کے قیام میں کلیدی کردار ادا کیا، جس نے نہ صرف عمومی شرحِ خواندگی بڑھائی بلکہ خاص طور پر لڑکیوں کو تعلیم کے مواقع فراہم کیے۔ ان کی قیادت میں صوابی میں اعلیٰ تعلیمی ادارے بھی قائم ہوئے جن میں یونی ورسٹی آف صوابی ایک شان دار مثال ہے، جو آج پورے خطے کے طلبہ و طالبات کے لیے علم اور تحقیق کا منبع ہے۔ اسی طرح گجو خان میڈیکل کالج اور ہسپتال نے صحت اور طبی تعلیم کے شعبے میں بنیادی تبدیلیاں لائیں، جس نے مقامی سطح پر معیاری علاج اور طبی تعلیم کے مواقع کو فروغ دیا۔
امن و امان کے قیام اور انتظامی استحکام کے بغیر کسی معاشرے کی ترقی ممکن نہیں ہوتی۔ حاجی رحمان اللہ خان نے پولیس سٹیشن اور شاہ منصور جیل جیسے اہم اداروں کے قیام میں کلیدی کردار ادا کیا، جس سے قانون کی عمل داری مضبوط ہوئی اور عوام میں تحفظ کا احساس پیدا ہوا۔ ان اصلاحات نے ترقیاتی منصوبوں کے نفاذ کو بھی سرعت بخشی اور صوابی کو ایک منظم ضلع کے طور پر سامنے لایا۔
ایک اور تاریخی اقدام تحصیل رزڑ کا قیام تھا، جو صرف انتظامی تبدیلی نہ تھا بلکہ عوامی سہولت اور ترقی کے پیش نظر ایک دور اندیش قدم تھا۔ اس اقدام نے مقامی آبادی کو سرکاری امور کے لیے دور دراز علاقوں کے سفر کی زحمت سے نجات دلائی اور ترقیاتی عمل کو تیز کیا۔
حاجی رحمان اللہ خان کا سیاسی سفر صرف انتخابی جنگوں تک محدود نہیں تھا، بلکہ انہوں نے اپنے اصولوں پر مستقل مزاجی سے عمل کیا۔ انہوں نے پارٹی قیادت کے ساتھ وفاداری برقرار رکھی، مشکلات اور اندرونی چیلنجز کا ڈٹ کر مقابلہ کیا، اور مضبوط سیاسی موقف کے ساتھ عوامی حقوق کے لیے جدوجہد کی۔  ان کی وفات 14 مئی 2015ء کو ہوئی۔ ان کے جنازے میں صوبائی و مقامی سیاسی راہ نماؤں، اے این پی کارکنان اور عوام کی کثیر تعداد نے شرکت کی، جو ان کے عوامی مقام، احترام اور عوام کے دلوں میں ان کی جگہ کا واضح مظہر تھی۔
قارئین، حاجی رحمان اللہ خان کو عوام نے محبت، احترام اور عقیدت کے جذبے کے ساتھ "بابائے صوابی” کا لقب دیا۔ یہ صرف ایک لفظ نہیں بلکہ ان کے کردار، خدمات اور عوامی مقام کی علامت ہے۔ وہ صوابی کے ہر فرد کے لیے ایک باپ کی طرح تھے، جو اپنے علاقے کے غریب، مزدور، کسان، طالب علم اور عام شہری کے مسائل سنتے اور ان کے حل کے لیے عملی اقدامات کرتے۔ ان کی قیادت میں ضلع کی ترقی، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں نمایاں تبدیلیاں آئیں، اور عوام کو بنیادی سہولیات میسر آئیں جو پہلے ایک خواب کے مترادف تھیں۔ یہ لقب اس بات کا اعتراف ہے کہ حاجی رحمان اللہ خان نے کبھی اقتدار یا عہدے کے لیے کام نہیں کیا بلکہ ہمیشہ عوام کی بھلائی اور خدمت کو اولین ترجیح دی۔ یہی بے لوث خدمت، عوامی محبت اور قیادت کی بصیرت انہیں صوابی کے حقیقی رہنما اور مشعلِ راہ بناتی ہے، اور اسی وجہ سے وہ ہر دل میں بابائے صوابی کے طور پر ہمیشہ زندہ رہیں گے۔
قارئین، آج اگرچہ حاجی رحمان اللہ خان ہم میں جسمانی طور پر موجود نہیں، مگر ان کے قائم کردہ تعلیمی ادارے، صحت و طب کے مراکز، ترقیاتی منصوبے اور انتظامی اصلاحات ان کی زندہ یادگار ہیں۔ ہزاروں طلبہ کی کامیاب زندگی، بے شمار مریضوں کی صحت یابی، اور لاکھوں لوگوں کی آسانیاں ان کے لیے صدقہ جاریہ ہیں۔ ایسے لوگ وقت کی گرد میں نہیں دبتے بلکہ تاریخ کے صفحات پر ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ ان کی خدمات آئندہ نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں اور ان کا نام صوابی کے ساتھ ہمیشہ کے لیے جڑا رہے گا۔ جاتے جاتے بس یہی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ بابائے صوابی حاجی رحمان اللہ خان کو جنتِ الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، آمین۔
_____________________________
ابدالی ڈاٹ کام کی انتظامیہ کے لیے یہ لازم نہیں کہ وہ لکھاری کے تمام خیالات سے متفق ہو۔ تمام مضامین کی اشاعت کا مقصد آزادانہ اظہارِ رائے کو فروغ دینا ہے۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو براہِ کرم اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فیس بُک آئی ڈی اور مختصر تعارف کے ساتھ ahabdali944@gmail.com پر ای میل کریں۔ تحریر کی اشاعت یا عدمِ اشاعت کا حتمی اختیار ادارتی بورڈ کے پاس محفوظ ہے۔
شیئرکریں: