کچھ شخصیات محض نام نہیں ہوتیں بلکہ وہ ایک عہد، ایک روایت اور ایک تہذیبی تسلسل کی علامت بن جاتی ہیں۔ جب علم، شائستگی، نرم خوئی اور کردار سازی کا ذکر ہو،  تو ایسے اساتذہ خود بہ خود یاد آتے ہیں جنہوں نے درس گاہوں کو صرف تعلیمی ادارے نہیں بلکہ اخلاقی تربیت کے مراکز بنا دیا۔ گورنمنٹ افضل خان لالا پوسٹ گریجویٹ کالج مٹہ کے شعبۂ انگریزی کے مایہ ناز استاد پروفیسر شوکت علی بھی انہی درخشاں شخصیات میں شامل ہیں جن کا ذکر احترام اور محبت کے ساتھ کیا جاتا ہے۔
شوکت علی صاحب کا تعلق سوات کے علمی اور باوقار علاقے چارباغ سے ہے۔ وہ ایک ایسے علمی خانوادے میں پیدا ہوئے جہاں تعلیم، خدمت اور شرافت محض اقدار نہیں بلکہ عملی روایت تھیں۔ وہ محمد شیرین مرزا صاحب (مرحوم) کے فرزند، معروف ماہرِ تعلیم اور سابق ڈائریکٹر ایجوکیشن حبیب الرحمان صاحب اور مشہور سرجن نثار علی صاحب کے چھوٹے بھائی ہیں۔ اس خاندانی پسِ منظر نے ان کی شخصیت میں وقار، اعتدال اور خدمتِ خلق کے اوصاف فطری طور پر راسخ کر دیے۔
موصوف کا تعلیمی سفر گورنمنٹ ہائی سکول چارباغ سے شروع ہوا، جہاں سے انہوں نے علم کا چراغ روشن کیا۔ بعد ازاں گورنمنٹ جہان زیب کالج سیدو شریف میں ایف ایس سی اور بی ایس سی کی منازل طے کیں اور وہیں سے ایم اے انگلش کی ڈگری حاصل کی۔ جہانزیب کالج جیسے تاریخی ادارے سے وابستگی نے ان کی فکری تشکیل میں گہرائی، زبان میں نفاست اور تدریس میں معیار پیدا کیا۔
تعلیم سے فراغت کے بعد 1988ء میں لیکچرار کے طور پر گورنمنٹ کالج ڈگر، بونیر میں باقاعدہ تدریسی خدمات کا آغاز کیا۔ 1991ء میں گورنمنٹ جہان زیب کالج میں واپسی نے انہیں اپنے مادرِ علمی سے ایک بار پھر جوڑ دیا۔ 1998ء میں ان کا تبادلہ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج مٹہ ہوا، جہاں انہوں نے اپنی علمی زندگی کا سب سے تاب ناک اور یادگار باب رقم کیا۔
ان کی تدریس صرف نصابی کتب تک محدود نہ تھی بلکہ کردار سازی، زبان و بیان کی نفاست اور انسانی اقدار کی آبیاری تک پھیلی ہوئی تھی۔ ان کا ہر لیکچر محض ایک سبق نہیں بلکہ ایک زاویۂ نظر، ایک فکری دریچہ اور ایک اخلاقی پیغام ہوا کرتا تھا۔ وہ استاد جو طلبہ کو صرف معلومات نہیں بلکہ شعور عطا کرے، سر شوکت علی اسی قبیل سے تعلق رکھتے تھے۔
پروفیسر شوکت علی اُن خوش پوش، سلیقہ مند اور پُرکشش اساتذہ میں شمار ہوتے تھے جنہیں طلبہ محبت سے "چاکلیٹی ہیرو” کہا کرتے تھے۔ بہ ظاہر سنجیدہ اور باوقار شخصیت کے پیچھے ایک نہایت دھیمے لہجے، شیریں کلامی اور محبت سے بھر پور دل چھپا تھا۔ ان کی گفتگو میں ایسی مٹھاس تھی جو دل کو چھو جاتی، اور ان کی مسکراہٹ میں ایسی اپنائیت جو اجنبی کو بھی اپنا بنا لیتی۔ طلبہ کے لیے وہ ایک مشفق باپ، ساتھی اساتذہ کے لیے ایک مخلص دوست اور اپنے علاقے کے لیے ایک سچے عاشق تھے۔ کالج کے ہر گوشے میں ان کی موجودگی نظم، تہذیب اور شائستگی کی علامت سمجھی جاتی تھی۔
پروفیسر شوکت علی نے نہ صرف تدریسی میدان میں بلکہ انتظامی ذمہ داریوں میں بھی اعلیٰ مثال قائم کی۔ 09 جنوری 2022ء کو وہ گریڈ 20 میں ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ، انگلش کی حیثیت سے سبک دوش ہوئے۔ اگرچہ وہ سرکاری ذمے داریوں سے ریٹائر ہو گئے، مگر علم، اخلاق اور تربیت کی وہ شمعیں جو انہوں نے روشن کیں، وہ آج بھی طلبہ کے دلوں میں روشن ہیں اور رہیں گی۔
قارئین، پروفیسر شوکت علی جیسے اساتذہ کسی ایک ادارے کا اثاثہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کی متاع ہوتے ہیں۔ وہ چلے تو جاتے ہیں، مگر اپنی سوچ، تربیت اور کردار کے نقوش نسلوں پر چھوڑ جاتے ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ پروفیسر شوکت علی صاحب کو صحتِ کاملہ، عزت و وقار میں اضافہ اور عمر میں برکت عطا فرمائے، ان کی خدمات کو شرفِ قبولیت بخشے اور ان کی زندگی کو آنے والی نسلوں کے لیے علم، اخلاق اور شائستگی کا روشن نمونہ بنائے، آمین۔
_________________________________
ابدالی ڈاٹ کام کی انتظامیہ کے لیے یہ لازم نہیں کہ وہ لکھاری کے تمام خیالات سے متفق ہو۔ تمام مضامین کی اشاعت کا مقصد آزادانہ اظہارِ رائے کو فروغ دینا ہے۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو براہِ کرم اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فیس بُک آئی ڈی اور مختصر تعارف کے ساتھ ahabdali944@gmail.com پر ای میل کریں۔ تحریر کی اشاعت یا عدمِ اشاعت کا حتمی اختیار ادارتی بورڈ کے پاس محفوظ ہے۔
شیئرکریں: