ولی خان، سرخ نسان گاڑی میں سوار ایک نظریہ

سیریز: میں نے ولی خان کو یوں دیکھا
قسط نمبر، 02
عوامی نیشنل پارٹی برطانیہ کے صدر محفوظ جان بتاتے ہیں کہ جون 1988ء میں خان عبدالولی خان ڈیرہ اسماعیل خان کے دورے پر تشریف لائے۔ وہ پشاور سے ارباب ہمایون خان کے ہم راہ روانہ ہوئے، جو اُس وقت عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری تھے۔ حیرت انگیز بات یہ تھی کہ اس پورے سفر میں نہ کوئی سیکیورٹی تھی، نہ اضافی گاڑیاں، بس ایک سرخ رنگ کی نسان کار، جسے اُن کے چہیتے ڈرائیور بسم اللہ خان چلا رہے تھے۔
غروبِ آفتاب کے وقت وہ ڈیرہ پہنچے۔ اُن دنوں ڈیرہ شہر شیعہ سنی فسادات کے باعث شدید خوف و ہراس کی لپیٹ میں تھا۔ ضلعی صدر اسلم خان ایڈووکیٹ نے ولی خان کے جلوس کی سیکیورٹی ہم پی ایس ایف، گومل یونی ورسٹی کی تنظیم کے سپرد کی تھی۔ ہم شہر سے باہر ایئرپورٹ کے قریب ان کے استقبال کے لیے جمع تھے۔
ہمارا خیال تھا کہ ولی خان پشاور، کوہاٹ اور بنوں سے ہوتے ہوئے آ رہے ہوں گے، اس لیے ان کے ساتھ گاڑیوں کا ایک بڑا قافلہ ہوگا۔ ہم سب کی نظریں چلچلاتی دھوپ میں تپتی سڑک پر جمی تھیں کہ اب کوئی سرخ جھنڈے لیے قافلہ نمودار ہوگا۔
مگر جو منظر ہم نے دیکھا، وہ حیران کن تھا۔ ایک سرخ رنگ کی گاڑی ہمارے قریب آ کر رُکی۔ ڈرائیور نے مجھے دیکھتے ہی مسکرا کر ہاتھ کے اشارے سے بتایا کہ پچھلی سیٹ پر ولی خان تشریف فرما ہیں۔ میری حیرت کی انتہا نہ رہی، نہ کوئی سیکیورٹی، نہ باڈی گارڈ، نہ پولیس۔ بس ایک ہی گاڑی، جس میں ڈرائیور سمیت تین افراد سوار تھے۔
پسینے میں شرابور ولی خان گاڑی سے اُترے اور کارکنوں سے ملنے لگے۔ مجھے دیکھتے ہی پشتو میں فرمایا کہ "یا ھلکہ، تہ دلتہ سہ کے؟
اُن دنوں مجھے گومل آئے ہوئے صرف دو تین ماہ ہی ہوئے تھے۔ پھر اپنے مخصوص محبت اور شفقت بھرے انداز میں مجھے گلے لگایا۔ ہم نے بھی جوش میں نعرۂ مستانہ بلند کیا "مونگہ تا نہ زار شہ اے ولی اے ولی۔”
ہم نے کارکنوں کے ہجوم میں سے انہیں نکالا اور ایک بڑے جلوس کی صورت میں توپانوالہ چوک لائے، پھر شہر بھر کا چکر لگوایا۔ جلوس کے راستے میں جگہ جگہ لوگ اُن پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کرتے رہے، اور وہ ہاتھ ہلا ہلا کر مسکراتے ہوئے سب کا شکریہ ادا کرتے رہے۔ بعد ازاں ہم انہیں جلسہ گاہ لے آئے۔
وہ رات آج بھی یادوں کے آئینے میں روشن ہے۔ سفر، جلسہ اور جلوس کی سخت تھکن کے باوجود ولی خان ہشاش بشاش، پُروقار اور خوش طبع نظر آ رہے تھے۔ ہمارے ساتھ کھانے پر بیٹھتے ہی ان کی نفیس بذلہ سنجی، دلکش ظرافت اور محبت بھری خوش گپیاں محفل کی جان بن گئیں۔
ہمارے ایک ساتھی، عزیز الحسن وزیری (مرحوم) جو دراز قد ہونے کے ساتھ خاصے موٹے بھی تھے، کی پلیٹ میں رکھی ایک بڑی بوٹی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ولی خان نے مسکراتے ہوئے کہا "او کنہ ھلکہ، ایسہ بہ قدرے جوسہ۔” یہ سنتے ہی پوری محفل کِشتِ زعفران بن گئی۔
قارئین، اس تحریر سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ ولی خان کی قیادت کا جوہر طاقت، پروٹوکول یا خوف میں نہیں، بلکہ اعتماد، سادگی اور عوام سے بے ساختہ رشتے میں تھا۔ فسادات کے سائے میں گھرے شہر میں، بغیر سیکیورٹی ایک سرخ نسان گاڑی میں آنا محض جرات نہیں بلکہ اپنے نظریے پر غیر متزلزل یقین کی علامت تھا۔ وہ جانتے تھے کہ جس سیاست کی بنیاد عوام کے دلوں میں ہو، اسے بندوقوں اور قافلوں کی ضرورت نہیں پڑتی۔ اسی لیے لوگ ان پر پھول نچھاور کرتے تھے اور وہ مسکرا کر ہاتھ ہلاتے تھے۔ یہ ایک فرد کا نہیں، ایک فکر کا استقبال تھا۔ آج کی سیاست میں اگر کوئی سبق زندہ ہے، تو وہ یہی ہے کہ قیادت فاصلے کم کرنے کا نام ہے، نہ کہ دیواریں بلند کرنے کا۔
_______________________________
نوٹ: یہ تحریر خان عبدالولی خان کی یومِ پیدائش کے موقع پر خصوصی طور پر ابدالی ڈاٹ کام پر شائع کی جا رہی ہے۔ ابدالی ڈاٹ کام کی انتظامیہ کے لیے یہ لازم نہیں کہ وہ لکھاری کے تمام خیالات سے متفق ہو۔ تمام مضامین کی اشاعت کا مقصد آزادانہ اظہارِ رائے کو فروغ دینا ہے۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو براہِ کرم اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فیس بُک آئی ڈی اور مختصر تعارف کے ساتھ ahabdali944@gmail.com پر ای میل کریں۔ تحریر کی اشاعت یا عدمِ اشاعت کا حتمی اختیار ادارتی بورڈ کے پاس محفوظ ہے۔