تورلالی کاکا، باجوڑ کی مٹی کا سپوت اور پختون قومی تحریک کا چراغ

تہ می شہ اجمل خٹک
زہ بہ تور لالی شمہ
پختونوں کی قومی محرومیوں کی داستان طویل بھی ہے اور کرب ناک بھی، مگر ان تمام مصائب کے باوجود ایک حقیقت ایسی ہے جس پر پختون بحیثیتِ قوم فخر کر سکتے ہیں، اور وہ ہے ان کی تاریخ سے وابستہ وہ عظیم لوگ جنہیں وقت نے قومی ہیرو کے درجے پر فائز کیا۔ تاریخ کی کتابیں ایسے کرداروں سے بھری پڑی ہیں، مگر یہ فیصلہ کہ کون قوم کا ہیرو تھا اور کون غدار، یہ کسی وقتی ریاستی بیانیے، مصنوعی ڈسکورس یا طاقت کے زور پر نہیں ہوتا بلکہ یہ فیصلہ وقت کرتا ہے۔ تاریخ بنائی نہیں جاتی، تاریخ خود کو حقائق کی لہروں میں، زمانوں کی گردش کے ساتھ خود تخلیق کرتی اور خود منواتی ہے۔
اسی حقیقت کی ایک روشن مثال ہمیں خلافتِ بنو عباس کے دور میں امام احمد بن حنبلؒ کی صورت میں ملتی ہے، جنہیں ہر طرح کی اذیتیں دی گئیں مگر وہ حق پر ڈٹے رہے۔ انہوں نے خلیفہ معتصم اور واثق باللہ کے سامنے جرأت سے کہا تھا کہ میرے اور آپ کے درمیان حق و باطل کا فیصلہ ہمارے جنازے کریں گے۔ تاریخ نے دیکھا کہ ان کے جنازے میں آٹھ لاکھ مرد اور ساٹھ ہزار عورتوں نے شرکت کی، اور یوں وقت نے اپنا فیصلہ خود سنا دیا۔
پختونوں کی ماضی قریب کی تاریخ پر نظر ڈالیں، تو ہمیں زیادہ تر وہ ہیروز ملتے ہیں جنہوں نے میدانِ جنگ میں کارنامے انجام دیے، مگر فخرِ افغان، بابائے امن، باچا خان وہ واحد قومی ہیرو ہیں جنہوں نے امن، عدمِ تشدد اور فکری جدوجہد کے ذریعے یہ مقام حاصل کیا۔ باچا خان کی جدوجہد کے لیے پوری کتابیں درکار ہیں، مگر اگر اختصار کے ساتھ کہا جائے، تو انہوں نے پختون سماج کی فکری تشکیل نو کے لیے تین بنیادی کام کیے۔ ایک، پختونوں کو اجتماعی طور پر علم اور تعلیم کی طرف راغب کیا۔ دوسرا، برصغیر کے اس پراشوب اور جنگی ماحول میں عدمِ تشدد اور سیاسی شعور کے ذریعے پختونوں کی جنگی ذہنیت کو ایک پُرامن، باوقار قومی جدوجہد میں بدل دیا۔ تیسرا اور شاید سب سے بڑا کام، پختون معاشرے کے غیر منظم ڈھانچے کو ایک منظم تنظیمی شکل دے کر ایک لاکھ سے زائد خدائی خدمت گاروں کی ایسی جماعت تیار کی جو اپنے نظریے کی سچائی پر شعوری طور پر قائم تھی۔
یہ وابستگی جذباتی نہیں بلکہ تربیت یافتہ شعور کا نتیجہ تھی۔ ایسے ہی ہزاروں خدائی خدمت گار جنہوں نے کبھی باقاعدہ درس گاہ نہیں دیکھی تھی، باچا خان کی عملی تربیت سے ایسے نظریہ دان بنے جو عمر بھر اپنے مقصد سے پیچھے نہیں ہٹے، چاہے اس راہ میں کتنی ہی مصیبتیں کیوں نہ آئیں۔
انہی گُم نام مگر عظیم خدائی خدمت گاروں میں ایک نام تورلالی کاکا کا ہے، جن کا ذکر شاید تاریخ کی کتابوں میں کم ملے، مگر اپنی مٹی کی یادداشت میں وہ ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ ان کا اصل نام غلام رسول خان تھا، مگر خاندان میں محبت سے انہیں تورلالی کہا جاتا تھا۔ 1929ء میں وہ ملک محمد شریف کے گھر پیدا ہوئے۔ نسلاً ان کا تعلق باجوڑ ناواگئی کے تاریخی غلجی قبیلے سے تھا، جب کہ ان کا خاندان آج بھی خار باجوڑ میں آباد ہے۔ ان کے والد ملک محمد شریف اپنے وقت کے ایک معتبر اور بااثر شخص تھے اور خان آف خار کے قابلِ اعتماد لوگوں میں شمار ہوتے تھے۔
تورلالی کاکا نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ چارسدہ، سردھیری میں گزارا اور جوانی ہی سے پختون قوم پرست سیاست سے وابستہ ہو گئے۔ وہ نیشنل عوامی پارٹی کے سرگرم کارکن تھے۔ ان کی سیاسی زندگی کا فیصلہ کن موڑ 23 مارچ 1973ء کے لیاقت باغ سانحے کے بعد آیا، جب ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے خلاف اپوزیشن کے ایک پُرامن جلسے پر بلا اشتعال فائرنگ کی گئی۔ اس جلسے میں خان عبدالولی خان، اجمل خٹک، مفتی محمود، مولانا نورانی سمیت کئی بڑے راہ نما موجود تھے اور متعدد کارکن شہید ہوئے۔
اجمل خٹک کو اطلاع ملی کہ ان کے قتل کا منصوبہ ہے، چنانچہ انہوں نے جلاوطنی کا فیصلہ کیا۔ اس نازک وقت میں تورلالی کاکا ان کے ساتھ کھڑے تھے۔ دونوں نے باجوڑ کے راستے افغانستان جانے کا فیصلہ کیا۔ سلارزو متہ شاہ میں رات گزاری گئی اور پھر ملک سرور خان، ان کے بیٹے ملک عبدالغنی خان اور دیگر ساتھیوں کے ہم راہ اجمل خٹک بابا کو گھوڑے پر سوار کرا کے لیٹئی کنڈو کے راستے افغانستان کے کنڑ چغسرئی تک پہنچایا گیا۔
تورلالی کاکا زندگی بھر اجمل خٹک بابا کے ساتھ رہے اور کابل تک ان کے ہم راہ گئے۔ کابل میں سردار داؤد کے دور میں اجمل خٹک کو غیر معمولی عزت اور اعلیٰ سطحی پروٹوکول حاصل تھا، بیرونی سفیروں سے ملاقاتیں ہوئیں اور ماسکو و مشرقی یورپ کے دورے بھی کیے گئے۔ ان تمام مراحل میں تورلالی کاکا ان کے چند قابلِ اعتماد ساتھیوں میں شامل تھے۔
1983ء میں کچھ وجوہات کی بنا پر تورلالی کاکا کابل سے دہلی چلے گئے اور دو سال وہاں قیام کیا، مگر 1985ء میں ببرک کارمل کے دور میں دوبارہ کابل واپس آ گئے۔ 1988ء میں جب ضیاء الحق کے طویل مارشل لا کے بعد جمہوریت بحال ہوئی اور عام معافی کا اعلان ہوا، تو خان عبدالولی خان کے کہنے پر اجمل خٹک بابا اپنے ساتھیوں سمیت وطن واپس آئے، جن میں تورلالی کاکا بھی شامل تھے۔
واپسی کے بعد تورلالی کاکا نے باجوڑ میں اے این پی کی تنظیمی بنیاد رکھی اور 1992ء سے بھرپور سیاسی جدوجہد کا آغاز کیا۔ وہ نہ اقتدار کے خواہاں تھے اور نہ دولت کے۔ کابل کی جلاوطنی میں بادشاہوں، سفیروں اور بڑے لوگوں کے درمیان رہے، مگر سیاست سے ایک روپیہ بھی نہیں کمایا۔ آخری دم تک ایک باوقار، خوددار پختون کی طرح زندگی گزاری۔
1997ء میں اجمل خٹک بابا نے باجوڑ کے دورے کے دوران میں کہا تھا کہ اگر تورلالی میرے ساتھ نہ ہوتے، تو آج اجمل خٹک بھی نہ ہوتا۔ یہ جملہ تورلالی کاکا کی عظمت کا سب سے بڑا اعتراف ہے۔
24 فروری 2006ء کو تورلالی کاکا اس دنیا سے رخصت ہو گئے، مگر ان کی زندگی ہم سب کے لیے یہ پیغام چھوڑ گئی کہ غربت کے باوجود اگر انسان دیانت، نظریے اور قوم سے وفادار ہو، تو وہ اقتدار میں نہ بھی پہنچے، قوم کے دلوں کا سلطان ضرور بنتا ہے۔ تورلالی کاکا کے نظریے سے اختلاف ہو سکتا ہے، مگر ان کی قربانی، دیانت اور بہادری سے اختلاف ممکن نہیں۔ باجوڑ کی مٹی کا یہ تاریخی سپوت پختون خوا کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور جیسے پشتو کے اشعار میں کہا گیا ہے، تورلالی کاکا آج جسمانی طور پر موجود نہیں، مگر قومی جدوجہد کا چراغ، قافلے کا سفر اور باجوڑ کی غیرت آج بھی زندہ ہے۔
نہ تور لالی شتہ
نہ باجوڑی شتہ
پادون روان دے
قام گڑندے شتہ
ھم ناری گوخ شتہ
ھم مات منگی شتہ
د کیمور غرہ کے
لا يو زیگروی شتہ
پر سوات ئی ننگ دے
قام باجوڑی شتہ
تور چاپیريال کے
قامی زڑہ سوی شتہ
رازئی چی ورشو
د بنگ لوگی شتہ
د ژڑک سنگ کے
نر بخشالی شتہ
_________________________________
ابدالی ڈاٹ کام کی انتظامیہ کے لیے یہ لازم نہیں کہ وہ لکھاری کے تمام خیالات سے متفق ہو۔ تمام مضامین کی اشاعت کا مقصد آزادانہ اظہارِ رائے کو فروغ دینا ہے۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو براہِ کرم اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فیس بُک آئی ڈی اور مختصر تعارف کے ساتھ ahabdali944@gmail.com پر ای میل کریں۔ تحریر کی اشاعت یا عدمِ اشاعت کا حتمی اختیار ادارتی بورڈ کے پاس محفوظ ہے۔